پرویز مشرف کیخلاف مقدمے چلانے سے پنڈورابکس نہیں کھلے گا

پرویز مشرف کیخلاف مقدمے چلانے سے پنڈورابکس نہیں کھلے گا
پرویز مشرف کیخلاف مقدمے چلانے سے پنڈورابکس نہیں کھلے گا

  

وفاقی حکومت نے سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل (6) کے تحت سنگین غداری کے الزام میں مقدمہ چلانے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ پارلیمینٹ میں موجود تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ آئین کے آرٹیکل (6 ) کے تحت طاقت کے بل بوتے پر آئین توڑنے یا اس کی کوشش کرنے کو سنگین غداری قرار دیاگیا ہے۔ اس جرم کے مرتکب افراد کو سزا دینے کے لئے سنگین غداری کا قانون مجریہ 1973ءبھی موجود ہے جس میں مجرم کے لئے موت یا عمر قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح آرٹیکل (6) کے تحت آئین توڑنے یا سبوتاژ کرنے کے عمل میں معاونت کرنے والوں کو بھی اسی جرم کا مرتکب ٹھہرایاگیا ہے۔ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد طاقت کے بل بوتے پر آئین توڑنا ایسا جرم ہے جس کو ملک کی کوئی عدالت جائز قرار دینے کی مجاز نہیں ہے۔

جنرل(ر) پرویز مشرف نے دو مرتبہ آئین توڑا، ایک 12 اکتوبر1999ءکو میاں محمد نوازشریف کی منتخب حکومت کو چلتا کیا اور دوسرا 3 نومبر 2007ءکو عبوری آئینی فرمان جاری کرکے چیف جسٹس پاکستان سمیت اعلیٰ عدلیہ کے تقریباً43 ججوں کو گھر بھیجا اور آئین سبوتاژ کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پرویز مشرف کے دونوں میں سے کس اقدام کے خلاف کارروائی ہوگی اور کیا 12 اکتوبر 1999ءکے اقدام پر بھی سنگین غداری کامقدمہ قائم ہوسکتا ہے؟ اس حوالے سے کہاجاسکتا ہے کہ پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999ءکو اگرچہ واضح طور پر آئین توڑا لیکن پہلے عدلیہ اور پھر پارلیمنٹ نے آئینی ترمیم کے ذریعے پرویز مشرف کے اس اقدام کی توثیق کردی تھی۔ بادی النظر میں ان کے 12 اکتوبر 1999ءکے اقدام پر کارروائی نہیں ہوسکتی۔ جبکہ 3نومبر 2007ءکے اقدام کی عدلیہ نے توثیق کی اور نہ ہی پارلیمینٹ نے اسے قبول کیا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف 3 نومبر 2007ءکے اقدام پر ہی سنگین غداری کا مقدمہ قائم ہوگا۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل (6) کے تحت کارروائی سے ایک ”پنڈورا بکس“ کھل جائے گا اور اس وقت کے تمام کور کمانڈرز، عدلیہ کے پی سی او ججز ،متعدد سیاستدان اور بیوروکریٹس بھی اس کی زد میں آئیں گے۔ اس حوالے سے یہ بھی خیال ہے کہ کیونکہ شریک ملزمان میں موجودہ چیف آف آرمی سٹاف سمیت کئی حاضر سروس جرنیلوں کے نام بھی شامل ہوسکتے ہیں، اس لئے حکومت کسی مشکل میں پھنس سکتی ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا 31جولائی 2009ءکا پی سی او ججز کیس کا فیصلہ صورتحال کو مکمل طور پر واضح کرتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں جنرل(ر) پرویز مشرف کے 3 نومبر2007ءکے فرمان کو آئین توڑنے کا اقدام قرار دیا اس کے ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی قرار دیاتھا کہ یہ فرد واحد کا اقدام تھا۔ اس کی بنیاد 3 نومبر 2007ءکا وہ نوٹیفکیشن ہے جو پرویزمشرف نے چیف آف آرمی سٹاف کی حیثیت سے جاری کیا اور اس کی عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ان کا اپنا اقدام تھا جس میں کوئی شریک تھا اور نہ ہی کسی نے ان کی معاونت کی تھی۔ 3 نومبر 2007ءکے اقدام پر عمل درآمد کے لئے فوج کا بھی کوئی کردار نہیں تھا۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں مشرف دور کے کور کمانڈروں کا ٹرائل خارج از امکان ہے۔

دوسری طرف ملک بھر کی قابل ذکر سیاسی قیادت نے حکومت کی اس معاملے میں حمایت کرکے یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ وہ کوئی غیر آئینی اقدام قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ آئینی طور پر تو پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کے لئے پارلیمینٹ کی منظوری کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اس حوالے سے پہلے سے ہی قانون موجود ہے جس کے تحت وفاقی حکومت سنگین غداری کے الزام میں مقدمہ قائم کرنے کی کلی طور پر مجاز ہے۔

مزید : تجزیہ