انقلاب کی لٹکتی تلوار

انقلاب کی لٹکتی تلوار
انقلاب کی لٹکتی تلوار
کیپشن: ch m sarwar and tahir ul qadri

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

23 جون کو جب گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی معیت میں ڈاکٹر طاہر القادری کے اعصاب شکن واپسی ڈرامے کا ڈراپ سین ہوا تو وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے سکھ کا سانس لیا ہوگا اور اُس رات وہ چین کی نیند سوئے ہوں گے.... لیکن کیا اُنہیں چین کی نیند سونا چاہئے؟ کیا اُنہیں اس نکتے پر غور نہیں کرنا چاہئے کہ عوام آخر انقلاب اور تبدیلی کے نعروں سے کیوں متاثر ہو رہے ہیں؟ کہنے کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ترقی کا سفر جاری رکھا ہوا ہے ،مگر یہ کیا سفر ہے جو عوام کو مطمئن نہیں کر پا رہا۔ چند بڑے شہروں میں میٹرو بسوں یا ٹرینوں کے منصوبے اس تبدیلی یا انقلاب کی کمی پورا نہیں کر سکتے جو عوام کی آدرشوں اور اُمیدوں میں مچل رہا ہے۔ اس انقلاب کا تعلق ترقی سے نہیں، بلکہ اس استحصالی نظام سے نجات میں پوشیدہ ہے جس نے معاشرے کو ظالم اور مظلوم طبقوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ جب تک حکمران اس استحصالی نظام کو تبدیل کرنے پر توجہ نہیں دیں گے ،ان کی ہر کاوش عوام کی نظر میں رائیگاں جائے گی۔
ڈاکٹر طاہر القادری جس انقلاب کی بات کر رہے ہیں وہ آتا ہے یا نہیں، قطع نظر اس کے یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ انقلاب اب اس ملک کی ضرورت بن چکا ہے۔ یہ انقلاب جمہوری بھی ہو سکتا ہے اور خونیںبھی اسے اسمبلیوں کے اندر سے بھی برپا کیا جا سکتا ہے اور باہر سڑکوں پر بھی۔ اسے حکومت بھی منظر عام پر لا سکتی ہے اور اپوزیشن بھی ،معاملہ چاہے کسی سے بھی حل ہو، ہونا ضرور ہے۔ اب طبقہ اشرافیہ کا نظام چلتا نظر نہیں آتا ،اس کے خلاف عوام کا غم و غصہ ،جلسے جلوسوں اور پُر تشدد مظاہروں کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ ہر بار جب انقلاب کی بات ہوتی ہے تویہ کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کے خلاف کوئی کام نہیں ہونا چاہئے حتیٰ کہ انقلاب کو آئین کے خلاف بھی قرار دیا جاتا ہے کہ آئین میں کسی انقلاب کی کوئی گنجائش موجود نہیں ،حالانکہ خود آئین ہی ایک انقلاب ہے، بشرطیکہ اسے اس کی پوری روح کے ساتھ نافذ کر دیا جائے۔ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ معاشرے میں طبقاتی کشمکش ہو گی، امیری و غریبی میں بنیادی حقوق کے حوالے سے فرق رکھا جائے گا، انصاف بالا دستوں کو ملے گا اور غریب اس سے محروم رہیں گے۔ مساوات کی بجائے امتیازات کی بنیاد پر نظام چلایا جائے گا۔ غرض آج ہمارے معاشرے میں جتنی برائیاں در آئی ہیں، بھلا ان کی آئین میں گنجائش ہی کہاں ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ سب آئین، جمہوریت اور قانون کے نام پر مسلط کر دی گئی ہیں، عملاً نافذ ہیں اور کوئی اُنہیں ختم کرنے کو تیار نہیں۔ جب یہ صورت حال ہو تو ڈاکٹر طاہر القادری کی یہ بات درست نظر آتی ہے کہ ”اسٹیٹس کو “کے نمائندے کبھی انقلاب نہیں لا سکتے ،بلکہ وہ تو انقلاب کے راستے کی بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
جمہوریت کو جب بادشاہت کے انداز میں چلایا جائے تو وہ آمریت کے قریب ہو جاتی ہے اور موجودہ جمہوریت کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے، جس طرح مغلیہ عہد میں جب بادشاہ کسی بات کا نوٹس لیتا یا حکم دیتا تو دادرسی ہو جاتی تھی، اسی طرح آج ہو رہا ہے ،جب تک کسی معاملے کا وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ نوٹس نہ لیں، وہ حل نہیں ہوتا، کسی مظلوم کو اس وقت تک انصاف نہیں ملتا، جب تک وزیر اعلیٰ کا حکم نہ آ جائے۔ یہ کیسی جمہوریت اور نظام ہے کہ جو خود کار طریقے سے عوام کو ریلیف دینے میں ناکام نظر آتا ہے۔ یہ اختیارات کی مرکزیت کا شاخسانہ ہے یا پھر نچلی سطح پر موجود سرکاری مشینری زنگ آلود ہو چکی ہے۔ ایک فلاحی معاشرے اور ایک استحصالی معاشرے میں جو فرق ہوتا ہے، ہمیں تو اس کا بھی علم نہیں ،کیونکہ ہم نے کبھی فلاحی معاشرہ دیکھا ہی نہیں، ایک بے رحم نظام کے تحت معاشرے کو طبقوں میں تقسیم کر کے چند فیصد اشرافیہ مزے لوٹ رہی ہے۔ عوام کی حالت اُس بے یارو مددگار قافلے جیسی ہے، جسے عین منجدھار میں چھوڑ دیا گیا ہو۔

یہ بات اب حقیقت ہے کہ پہلے پاکستان میں جمہوریت پر آمریت کی تلوار لٹکتی رہتی تھی ،اب انقلاب کی تلوار بھی لٹک رہی ہے۔ یہ تلوار کہنے کو ڈاکٹر طاہر القادری نے لٹکائی ہے، مگر اس کی داستانیں بہت دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ انقلاب تو اب اس ملک کے لئے ایک استعارہ بن گیا ہے۔ ہر وہ شخص جو جبر و استحصال کے خلاف بات کرتاہے وہ انقلابی ہے۔ وزیر اعظم محمد نوازشریف بھی انقلابی بن سکتے ہیں اور شہباز شریف بھی۔ شہباز شریف تو باقاعدہ حبیب جالب کی انقلابی نظمیں پڑھتے رہے ہیں اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہم نے ظالمانہ نظام تبدیل نہ کیا تو خونیں انقلاب آئے گا۔ حیرت ہے کہ اس قدر گہرا شعور رکھنے کے باوجود حکمرانوں نے انقلاب کے نعرے کو دوسروں کے لئے چھوڑ رکھا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری جب گھن گرج کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ 20 کروڑ عوام کو ظلم، نا انصافی، کرپشن اور جبر و استحصال سے نجات دلانے آئے ہیں تو ان کی بات پر یہ لیبل لگ جاتا ہے کہ گویا وہ ان تمام خرابیوں کے ذمہ دار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو اسمبلیوں میں اکثریت حاصل ہے۔ وہ جس قسم کی اصلاحات متعارف کرانا چاہے ،کرا سکتی ہے، استحصالی نظام کے خاتمے کے لئے فوجداری ایکٹ میں تبدیل کر سکتی ہے۔ میرٹ کو عام اور سرکاری ملازمین کو آئین میں دیا گیا تحفظ یقینی بنا کرنظام میں سدھار کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ سب کچھ ممکن ہے، بس عزم و حوصلے کی ضرورت ہے، طرز فکر میں تبدیلی اور حکمرانی کو عوام کے سامنے جوابدہ بنا کر انقلاب کی خشت اوّل رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔
شریف برادران کو اس لئے بھی چین کی نیند نہیں سونا چاہئے کہ اب انقلاب اور تبدیلی کے نعرے کہیں اور نہیں پنجاب میں لگ رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے پہلے ہی پنجاب کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے ،اب ڈاکٹر طاہر القادری بھی لاہور میں مستقل طور پر قیام پذیر ہیں۔ پنجاب میں تحریک انصاف کے بڑے جلسے اور ڈاکٹر طاہر القادری کے بڑے بڑے استقبالی جلوس اس امر کا اظہار ہیں کہ پنجاب بھی اب بدل رہا ہے اور مسلم لیگ (ن) کی بلا شرکت غیر عملداری ختم ہو رہی ہے۔ ایسے میں وزراءکے مخالفین کے بارے میں تمسخرانہ بیانات سے کام نہیں چلے گا، بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کے ٹھوس منصوبے شروع کرنا ہوں گے۔ صرف لاہور تک محدود رہ کر مسلم لیگ (ن) نے اپنا بہت نقصان کیا ہے، اب لاہور بھی پہلے جیسا نہیں رہا، یہاں بھی مسلم لیگ (ن) کو چیلنجوں کا سامنا ہے۔ یہ سب کچھ بدلتے ہوئے حالات کی نشاندہی کر رہا ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے تو واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ اب نوازشریف اور شہباز شریف سے جنگ ہو گی۔ گویا اب ڈاکٹر صاحب صرف اِن دونوں کو ہی اپنے انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔اُدھر عمران خان کا ہدف بھی وہی ہیں۔ ایسے میں اگر شریف برادران اپنے روایتی طرز سیاست کو تبدیل نہیں کرتے اور عوام کو گراس روٹ لیول پر جا کر گڈ گورننس نہیں دیتے تو اس سے مخالفین کا کام آسان ہوتا چلا جائے گا۔ ایک بے ثمر جمہوری نظام پر انقلاب کی جو تلوار لٹک رہی ہے، اس سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ جمہوریت کو عوام کے لئے ثمر آور بنایا جائے اور یہ تبھی ممکن ہے جب جمہوریت سے مستفید ہونے والے اپنے ذہن سے بادشاہت نکال دیں۔

مزید :

کالم -