مشرق وسطیٰ.... اُتار چڑھاﺅ

مشرق وسطیٰ.... اُتار چڑھاﺅ
مشرق وسطیٰ.... اُتار چڑھاﺅ
کیپشن: jirga

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

دنیا بہت سمٹ گئی ہے اور واقعی ایک گاﺅں بن گئی ہے۔ چودھریوں کے جھگڑے، بالا دستی کے لئے ہر حربہ، پنچایت کا ہر فیصلہ اپنی مرضی کے مطابق کرنے کا رجحان اور ان تمام چالوں میں ہم جیسے کمی کمین لوگوں کی حالت زار۔ چودھریوں کے چمچے بن کر رہنے والے موج میلہ کرتے ہیں۔ مشکل وقت میں انہیں پناہ بھی مل جاتی ہے اور ”انا“ رکھنے والے پھانسی چڑھ جاتے ہیں، جھوٹی گواہیوں پر اور یا پھر دن دیہاڑے قتل کر دیئے جاتے ہیں، جنہیں ان کے عقیدت مند ”شہید“ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دے لیتے ہیں اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟ بات دور نکل گئی قوموں کا ذکر ذہن میں ہے، لیکن بات 18 کروڑ کے بے ہنگم ہجوم کی طرف چلی گئی۔
٭.... مئی میں ماسکو (روس) میں ایک کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ ایجنڈا ”بین الاقوامی سلامتی“ تھا یہ کانفرنس 20سے 23 مئی تک جاری رہی۔ ایجنڈے پر مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام بھی تھا زیادہ بحث مشرق وسطیٰ اور یو کرین میں ہونے والے عام اتخابات پر ہوتی رہی، جو کہ دو تین روز بعد منعقد ہونے والے تھے، لیکن اس کانفرنس کا اصل مقصد مغرب کو یہ واضح پیغام دینا تھا کہ روس ”انگڑائیاں“ لے رہا ہے اور اب عالمی امور پر اس کی پالیسی اور رویہ میں تبدیلی نظر آئے گی، بلکہ آج شروع ہو گئی ہے اور اب وہ نہ صرف پرانے سوویت یونین کی جغرافیائی حدود کی طرف توجہ دے گا بلکہ مشرق وسطیٰ بھی اس کی توجہ کا ایک اہم مرکز ہو گا ،جہاں روس اور امریکہ کے مفادات کا ٹکراﺅ ہوگا اور ہو رہا ہے، اس طرح روس پھر ایک دفعہ ” عالمی طاقت“بن کر اُبھرے گا۔ روس کے نمائندے نے تو واضح طور پر اشارہ کر دیا کہ بین الاقوامی سطح پر جو بحران پیدا ہو رہے ہیں وہ مغرب ، امریکہ کے پیدا کردہ ہیں۔ روس کے مطابق جہاں جہاں بھی رنگین انقلاب آئے ہیں وہ دراصل مغرب اور امریکہ کے ہی لائے ہوئے ہیں۔ اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے اور روس کے لئے مشکلات پیدا کرنے کے لئے یا روس کا گھیرا تنگ کرنے کے لئے۔
٭.... اس کانفرنس میں روس کے اعلیٰ سیاسی اور فوجی حکام کے علاوہ وہ ممالک جو روس کے لئے اہم ہیں یا ہو سکتے ہیں ایران، شام، مصر، چین، پاکستان اور بھارت شامل تھے۔ ان کے علاوہ آرمینیا، بیلاروس، قازقستان اور کرغستان بھی تھے۔ بعد میں 29 مئی کو آستانہ قازقستان میں Follow up کی طرز پر کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔
ماسکو میں ہونے والی کانفرنس میں روس کے نمائندے نے بڑی تفصیل سے بلقان، عراق، افغانستان، لیبیا، مصر اور شام کے بارے میں اپنے خیالات اور تحفظات کا ذکر کیا تھا کہ ان ملکوں میں امریکہ نے کیا کردار ادا کیا ہے۔ غیر ضروری جنگوں میں اربوں ڈالر جھونک دیئے اور خانہ جنگی کی صورت حال پیدا کر دی ہے، ریاستی کنٹرول کمزور کیا دہشت گردوں کی ہر طرح سے انسانی حقوق کے نام پر امداد کی۔ روس کے نمائندے نے مزید کہا کہ امریکہ کے کئے ہوئے یہ سارے اقدامات عالمی امن کو خطرے کا باعث بن گئے ہیں۔ ریاستوں کے درمیان مختلف لسانی گروہوں کے درمیان مختلف مذاہب کے درمیان اور مختلف فرقوں کے درمیان جنگ کی صورت حال پیدا کر دی گئی ہے، خاص طور پر یوکرائن میں عوام میں بے چینی پیدا کی گئی،جو خانہ جنگی کی صورت حال اختیار کرتی جا رہی ہے۔ سیاسی استحکام خطرے میں ڈال دیا گیا ہے اور یہ سب کچھ روس کے مفادات، اثر و رسوخ کے خلاف کیا جا رہا ہے Nato افواج کے افغانستان سے جانے کے بعد، جو صورت حال پیدا ہوتی نظر آ رہی ہے، وہ بھی روس کے لئے پریشانی کا باعث اور سلامتی کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جو حالات پیدا کئے گئے تھے Arab Spring کے نام پر جو انقلاب لائے گئے تھے ،ان سب کا مقصد بھی یہی تھا۔ ان سب حالات کے پیش نظر روس نے اپنے لئے مشرق وسطیٰ میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
٭.... اسرائیل کے بارے میں متضاد آرا تھیں، جہاں یوکرائن کے بارے میں اسرائیل کی پالیسی کو سراہا گیا، وہاں خطے میں ”اسرائیل کو فساد کی جڑ“ قرار دیا گیا اعلیٰ روسی حکام نے فلسطین کے مسئلہ کے حل پر زور دیا اور کہا کہ یہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی ضمانت ہوگا۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی معاونت سے شروع ہونے والے اسرائیل، فلسطین مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا کہ وہ اپنی مرضی کا حل مسلط کرنا چاہتا تھا جو ناکامی کی وجہ بنا ہے۔ انہوں نے اس مسئلے پر اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ روس اس مسئلے پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا حامی ہے اور اپنا کردار ادا کرے گا تاکہ یہ مسئلہ دیانتداری سے کی جانے والی کوششوں سے حل ہو جائے تاکہ اسرائیل کی حمایت ثالثی میں بھی صاف نظر آ رہی ہو۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ ” غیر روائتی ہتھیاروں“ کی تیاری میں بہت آگے ہے، اسی لئے وہ مشرق وسطیٰ کو ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دینے کی ہمیشہ مخالفت کرتا ہے، ان کی تقریر متاثر کن دلائل سے مزین اور ٹھوس بنیادوں پر تھی، جسے مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک نے بہت سراہا۔ انہوں نے کہا کہ 2010 کے NPT نظر ثانی معاہدے کی روشنی میں بین الاقوامی کانفرنس ہونی چاہئے اور اسی سال ہونی چاہئے تاکہ امن کاسفر جلد اور تیز ہو سکے۔
٭....روس کی ” Stated Position“ میں کوئی تبدیلی نہیں تھی، عالمی سطح پر تمام خرابیوں، برائیوں اور مسائل کا ذمہ دار مغرب اور امریکہ کو ٹھہرایا گیا، صرف ایک بات نہیں تھی اور وہ یہ کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے حالات میں مماثلت بیان کی گئی۔ روس نے واضح کیا کہ یہ دونوں مسائل اور ان پر مغرب اور امریکہ کا کردار عالمی امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اس کانفرنس کی سب سے قابل ذکر، بلکہ ایک ہی بات قابل ذکر ہے کہ اس کانفرنس کے ذریعے مغرب اور امریکہ کو روس نے یہ پیغام دیا ہے کہ ”ہم آ رہے ہیں“ Russians Are Coming ہوشیار خبردار، لیکن اس پیغام کے ساتھ سائیڈ لائن پر یہ طے پانے کی کوشش بھی جاری تھی کہ اگر مغرب اور امریکہ یوکرائن میں جو کردار ادا کر رہے ہیں اسے محدود کر لیں، تو کسی نقطے پر یکسانیت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ جنیوا میں 17 اپریل 2014ءکو ایک کانفرنس میں یہ طے پا گیا تھا کہ یوکرائن کی آزادی پر خطرہ نہیں ہوگا۔ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کر کے اسے فیڈریشن بنا دیا جائے گا اور غیر جانبداری کی پالیسی برقرار رکھی جائے گی یو کرائن NATO یا یورپین یونین اور پارلیمینٹ کا حصہ نہیں بنے گا۔ غالباً روس بھی ایک حد تک جارحانہ موقف اختیار کرے گا، کیونکہ اس کے معاشی اور سیاسی حالات سرد جنگ سے پہلے والی صورت حال کا تسلسل نہیں ہو سکتا۔ وہ صرف یوکرین کو امریکہ کی گود میں جانے سے روکنا چاہتا ہے، کیونکہ اس صورت میں امریکہ تو اس کے دروازے پر بیٹھ جائے گا، لیکن یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ روس مناسب موقع اور حالات کے انتظار میں رہے گا اور بالآخر یو کرین دوبارہ روس کا حصہ بن جائے گا یا اتنا ضرور ہو گا کہ یوکرائن روس کے زیر اثر ایک ریاست ہو گی۔
٭.... دوسری طرف حال ہی میں امریکی صدر اوبامہ نے سعودی عرب کا دورہ کیا تاکہ سعودی عرب کے خدشات اور تحفظات کو دور کیا جا سکے، جو امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان غلط فہمیوں یا قدرے کشیدگی کا باعث ہیں اور اس اعتماد کو بحال کیا جا سکے کہ اگر اور جب ضروری ہوا امریکہ ہر قیمت پر سعودی عرب کا دفاع کرنے کی ذمہ داری بھرپور طور پر ادا کرے گا۔ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان 1945ءمیں سعودی بادشاہ سعود اور اس وقت کے امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ کے درمیان امریکی طیارہ بردار جہاز Uss quincy پر طے ہوا تھا کہ امریکہ کی تیل کی ضروریات سعودی عرب پوری کرتا رہے گا اور امریکہ ہر قیمت پر سعودی عرب کے دفاع کا ذمہ دار ہوگا۔ سعودی عرب اس دن سے اپنا وعدہ نبھا رہا ہے، لیکن حال ہی میں خطے میں کچھ امریکی فیصلے خاص طور پر ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ اور شام کے بارے میں امریکی پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب کا خیال ہے کہ امریکہ اب ایک ” بڑی طاقت“ کے کردار سے پیچھے ہٹ رہا ہے، جو یقینا سعودی عرب کے لئے تشویش کا باعث بنا ہے۔ ریاض میں یہ خیال زور پکڑ رہا ہے کہ شاید اب امریکہ سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے بارے میں 1945ءمیں طے شدہ معاہدے پر پورا نہ اترے۔
٭....امریکی صدر اوباما نے اپنا پہلا دورہ سعودی عرب 2009ءمیں کیا تھا، جس کا مقصد سعودی عرب کو یقین دلانا تھا کہ وہ واشنگٹن کے لئے کتنا اہم ہے، خصوصاً عالم ِ اسلام کے ایک ” بڑے“ کی حیثیت سے بھی اس کے علاوہ سعودی بادشاہ سے ایران کے بارے میں پالیسی اپنانے میں صلاح مشورہ بھی کیا اور سعودی عرب سے فلسطین، اسرائیل مذاکرات کی حمایت اور مدد کی درخواست کرنا بھی تھا۔ اسلام کے مرکز کا دورہ امریکہ، سعودی عرب کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرنا بھی تھا۔

سعودی عرب اور امریکہ کے کئی مفادات مشترک ہیں 70 سال سے امریکہ میں ریپبلکن صدر ہو یا ڈیمو کریٹ سعودی عرب کے ساتھ قریبی دوستانہ اور خوشگوار تعلقات رکھنے کے حامی رہے ہیں۔ یہ قریبی تعلقات کئی بحرانوں سے بھی گزرے مثلاً1973ءمیں امریکہ کو تیل کی سپلائی پر پابندی اور نائن الیون کے بعد کا کچھ عرصہ، لیکن دہشت گردی کے خلاف امریکہ کو سعودی عرب کی حمایت حاصل رہی۔ یمن، افغانستان، پاکستان اور خلیجی ریاستوں کے معاملات میں بھی سعودی عرب امریکہ کے ساتھ رہا۔ دوسری طرف خطے میں امن اور استحکام پیدا کرنے اور برقرار رکھنے کے لئے سعودی عرب کو امریکہ کی ضرورت ہے، لیکن مفادات کی اس یکسانیت کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیانی خطے کے بعض معاملات پر شدید اختلاف رائے موجود ہے۔ ریاض کو اس بات پر شدید تحفظات ہیں کہ مصر میں امریکہ نے اپنے ایک پرانے اور وفادار اتحادی حسنی مباک کو چھوڑ دیا۔ سعودی عرب کو امریکہ اور ایران کی بڑھتی ہوئی قربت پر تشویش ہے۔ اس قربت سے خطے میں ایران کے اثرو رسوخ بڑھنے کی وجہ سعودی عرب کو اختلاف ہے۔ سعودی عرب کو شکایت ہے کہ امریکہ نے2013ءمیں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف طاقت استعمال نہیں کی، جس کی وجہ سے وہ اب تک برسر اقتدار ہے اور ایران کا زبردست حامی اور اتحادی ہے اور یہ بھی ایران کے ساتھ ایک خاموش معاہدے کا نتیجہ ہے۔
امریکی صدر کا موجودہ دورہ اپنے میزبانوں کو یہ یقین دلانے کے لئے ہے کہ امریکہ سعودی عرب کی قیمت پر کسی معاہدے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ معاہدہ کر لینا تو بہت دور کی بات ہے، لیکن سعودی عرب کے شکوک تاحال بدستور موجود ہیں، لیکن سعودی عرب کے پاس کوئی مناسب متبادل بھی نہیں ہے۔ فی الحال نہ روس اور نہ ہی چین امریکہ کی جگہ لے سکتے ہیں۔ ولی عہد شہزادہ سلمان نے حال ہی میں پاکستان، جاپان، بھارت اور چین کا دورہ کیا ، جس کا مقصد غالباً یہی ہو سکتا ہے کہ سعودی عرب اب اپنے آپ کو صرف امریکہ تک محدود نہیں رکھے گا۔ شام کے معاملے پرشاہ عبداللہ امریکہ پر زور دے رہے ہیں کہ بشارالاسد کو اقتدار سے محروم کرنے کے لئے تمام کوششیں بروئے کار لائی جائیں اور امریکہ نے شام میں باغیوں کی فوجی امداد میں اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے، لیکن سعودی عرب کے خیال میں یہ کافی نہیں ہے، وہ امریکہ پر مزید دباﺅ ڈال رہا ہے کہ شام میں باغیوں کوزمین سے فضا میں وارکرنے والے میزائل بھی مہیاکرے، لیکن امریکہ کے خیال میں ”غلط“ ہاتھوں میں جانے کا خطرہ ہے اور اس صورت حال میں خوفناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ سعودی عرب خود جدید ترین ہتھیار شامی باغیوں کو مہیا کر دے۔ بحرین کے معاملے پر بھی سعودی عرب امیر پرجو سُنی ہیں ان کی پوری طرح مدد کر رہا ہے اور امریکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جمہوریت کے ایشو پر امیر پر دباﺅ ڈال رہا ہے ، جس کا فائدہ ایران کے زیر اثر شیعہ اکثریت کو پہنچ سکتا ہے۔ صدر اوباما نے اپنے مختصر دورے میں ایک سعودی خاتون کو خواتین اور بچوں کی صحت کے لئے خدمات پر بین الاقوامی ایوارڈ بھی دیا۔ سیاسی اور جمہوری عمل میں پیشرفت نہ ہونے پر تنقیدبھی سعودی حکمرانوں کو پسند نہیں ہے، لیکن انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ 2020ءتک امریکہ کو سعودی تیل کی قطعی ضرورت نہیں رہے گی اور اسی لئے1945ءکا معاہدہ ”سلامتی کے لئے تیل کی فراہمی“ آہستہ آہستہ اپنی اہمیت کھو رہا ہے اور امریکہ خطے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتا۔ مشرق وسطیٰ اس وقت تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ نئے اتحاد بن رہے ہیں، جو خطے میں امن بھی لا سکتے ہیں اور خانہ جنگی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

مزید :

کالم -