بجلی کا سنگین بحران: مہنگائی اور مہنگے منصوبے

بجلی کا سنگین بحران: مہنگائی اور مہنگے منصوبے
بجلی کا سنگین بحران: مہنگائی اور مہنگے منصوبے
کیپشن: bijli

  

گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ملک بھر میں بجلی اور پانی کی قلت کے مناظر اور ان کے نتیجے میں احتجاجی مظاہرے بڑھتے جا رہے ہیں۔ بجلی اور پانی کا مسئلہ ایک دوسرے سے منسلک ہے۔پاکستان میں ضرورت کے مطابق ڈیم بنیں ، ان میں پانی کا ذخیرہ کیا جا سکے اور پھر ان سے بجلی پیدا کی جائے تو اہل وطن کو سستی اور وافر بجلی میسر آ سکتی ہے۔ڈیموں کے مسئلے کو ملک کے وسیع تر مفاد میں دیکھنے کے بجائے مفاد پرست سیاست دانوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کیا تو پاکستان پانی کے ذخائرسے محروم ہو گیا۔اس سے ایک طرف پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی اوردوسری طرف بجلی کے آبی منصوبے بھی شروع نہیں کئے جا سکے۔ادھر بھارت نے پاکستان کے حصے کا پانی بھی سینکڑوں ڈیم بناکر اس طرح اپنے قابو میں کر لیا کہ وہ جب چاہتا ہے پاکستان کی طرف بہہ کر آنے والے دریاﺅں کا پانی روک کر ہمیں خشک سالی میں مبتلا کر دیتا ہے اس طرح سیلاب اور طغیانی کے زمانے میں ان دریاﺅں میں زیادہ پانی چھوڑ کر ہمیں نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتا۔اس معاملے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ پانی کی قلت کی وجہ سے ہم سستی اور ضرورت کے مطابق بجلی پیدا نہیں کر سکتے۔پاکستانی سیاستدانوں کی سوئی کالاباغ ڈیم اور بعض دوسرے بڑے ڈیموں پر اٹکی ہوئی ہے، جس پر چھوٹے صوبوں کو اعتراضات اور تحفظات ہیں۔اس کی بنیادی وجہ پاکستانی سیاست دانوں کا صوبائی تعصب اور علاقہ پرستی ہے۔ایک صوبے کے سیاسی رہنما دوسرے صوبوں پر اعتماد نہیں کرتے اور ڈرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے حصے کا پانی ہڑپ کر جائیں گے اور ڈیم بنا کر صرف اپنے لئے بجلی پیدا کریں گے۔

بجلی کی زبردست قلت کے باعث جہاں عوام بے پناہ مشکلات سے دوچار ہیں، وہیں صنعتوں کا پہیہ بھی رکا ہوا ہے، جس نے مہنگائی اور بے روزگاری پھیلانے کے علاوہ قومی معیشت کو بھی تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا ہے۔بجلی کی قلت اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہری پانی سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔نتیجہ یہ کہ جنوبی پنجاب سمیت فیصل آباد کے صنعتی شہروں کے علاوہ ملک کے دیگر مقامات پر بھی ان دنوں اہل وطن میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔مشتعل عوام جگہ جگہ احتجاج اور مظاہرے کرتے نظر آتے ہیں۔ملک کے کئی علاقوں میں اعلانیہ وغیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بیس گھنٹوں تک جا پہنچاہے ۔گویا شب و روز کے دوچار گھنٹوں کے لئے صارفین کو بجلی فراہم کی جاتی ہے اور کہیں تو اتنی بجلی بھی نہیں ملتی۔مسلم لیگ(ن) نے گزشتہ مئی کے عام انتخابات میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ چند ماہ میں ملک سے لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے گی، لیکن حکومت میں آتے ہی لیگی رہنماﺅں کو حالات بہت سنگین نظر آنے لگے اور اب وہ مہینوں کے بجائے برسوں میں بجلی کا مسئلہ حل کرنے کی بات کررہے ہیں۔مسلم لیگ(ن) کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ وہ ملک کے معاشی حالات اور مسائل سے پوری طرح واقف ہے اور ان سے نمٹنے کے لئے اس کے ماہرین نے پوری منصوبہ بندی کر لی ہے، اب اگر پارٹی کے رہنما اپنے وعدوں سے گریز کررہے ہیں تو اسے بدعہدی کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے۔ اندیشہ یہ ہے کہ اس بار حکومت کو بجلی کا مسئلہ لے ڈوبے گا، کیونکہ ملک میں بدامنی کے بعد یہ واحد مسئلہ ہے جو حکومت کو گرانے کا سبب بن سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ہوشربا گرانی کا تعلق بھی سو فیصد ایوان اقتدار کے مکینوں اور ان کے حاشیہ نشینوں کا پیدا کردہ ہے۔ضروریات زندگی میں سرفہرست آٹا ،چاول ،چینی ،کپڑا، برائلرمرغ گوشت، سبزیاں، دالیں وغیرہ شامل ہیں۔ملیں اور کارخانے حکومتی خاندانوں کے ہیں یا ان کے شریک اقتدار ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے ہیں۔برائلر گوشت کے بڑے بڑے اداروں میں بھی ارباب اقتدار ہی کے خاندان کے مالکان ہیں، جن کھیتوں یا زمینوں میں سبزیاں اور دالیں پیدا ہوتی ہیں وہ سبھی لوگ ملک کے بڑے بڑے جمہوری اداروں میں حکومت یا بااثر سیاسی حلقوں سے منسلک ہیں، اگر ارباب اختیار پُرخلوص اور قوم بالخصوص متوسط اور نچلے درجے سے تعلق رکھنے والے کروڑوں مفلوک الحال عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کا عزم کرلیں اور اپنے کارخانوں کی مصنوعات پیداوار میں جائز منافع کی شرح قبول کرتے ہوئے قیمتوں پر نظر ثانی کریں تو ضرورت زندگی کی قیمتیں عوام کی توقع سے کہیں زیادہ کم ہو جائیں گی۔توانائی کے منصوبے تو خدا جانے کب تک ثمر آور ہوں گے، مگر عوام کو غربت سے نجات دلانے میں تاخیری حربوں سے کام لیا گیا تو شاید قدرت خداوندی اس قوم کی بے بسی مزید برداشت نہ کر سکے۔حکومت کی طرف سے تعمیر و ترقی کے حوالے سے جن منصوبوں کا فخریہ انداز میں ذکر سننے کو ملتا ہے، اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مسند اقتدار پر براجمان کیمپ کو اس بات کا قطعاً احساس نہیں ہے کہ ان کے عہد اقتدار میں ان پاکستانیوں کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے جو خط غربت سے نیچے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس کی بنیادی وجہ ارباب اقتدار کی ناقص اور عاقبت نااندیش اقتصادی اور معاشی پالیسیاں ہیں، لوگ بھوکے مررہے ہیں۔

مزید :

کالم -