رمضان المبارک، ذخیرہ اندوزی کا سدباب!

رمضان المبارک، ذخیرہ اندوزی کا سدباب!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

حکومت پاکستان کی طرف سے ماہ صیام میں شہریوں کو سستی اشیاء مہیا کرنے کے لئے جو سبسڈی دی گئی ہے اس کے تحت گزشتہ روز سے ملک بھر کے یوٹیلیٹی سٹوروں سے فروخت ہونے والی اشیاء خورد و نوش اور ضرورت رعایتی نرخوں پر فروخت ہونا شروع ہو گئی ہیں حکومت نے اس مد میں چھ ارب روپے مختص کئے تھے دالیں، گھی اور آٹا پندرہ سے 35روپے فی کلو تک سستا ملے گا۔
پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے اس میں مسلمانوں ہی کی اکثریت اور حکومت ہے اور دین مبین کو ماننے والے ہی تجارت بھی کرتے ہیں لیکن ہر دینی، اسلامی تہوار پر منافع خور ذخیرہ اندوزی کرتے اور اشیاء مہنگے داموں بیچتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے اعلانات تو ہمیشہ کئے جاتے ہیں نہ تو ان منافع خوروں کو پکڑا جاتا ہے اور نہ ہی مارکیٹ اکانومی کے اصول پر یہ کہا جاتا ہے کہ ضرورت اور رسد کو برقرار رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔ بہرحال حکومت اس کا توڑ اپنے خزانے سے جو قومی خزانہ ہے سبسڈی دے کر کرنے کی کوشش کرتی ہے اور یہ رعایت یوٹیلیٹی سٹوروں ہی کے ذریعے دی جاتی ہے۔ عام بازار پر اس کے اثرات کم ہی ہوتے ہیں۔وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومتیں بھی اپنی طرف سے یہی عمل دہراتی ہیں، پنجاب حکومت نے اپنی طرف سے ہر بڑے شہر میں سستے رمضان بازار لگانے کا فیصلہ کیا اور ضلعی حکومتوں کے زیر اہتمام یہ بازار لگائے جائیں گے۔ ان میں حکومت کی طرف سے دی جانے والی سبسڈی کے تحت اشیاء مہیا ہوں گی۔ مرغی 35روپے فی کلو اور انڈے پندرہ روپے فی درجن کی رعایت سے ملیں گے اسی طرح آٹے اور دوسری اشیاء پر رعایت ہو گی۔یہ جذبہ قابل قدر ہی سہی لیکن یہ حل صرف ایک ماہ کے لئے ہے ورنہ تو اتوار بازاروں کے بارے میں شکایات ہی شکایات ہیں، اس اقدام کی تائید اور حمایت کرتے ہوئے یہ عرض کرنے کی جسارت کر رہے ہیں کہ آخر کا یہ سب ماہ رمضان المبارک آنے سے پہلے ہی کیوں ہوتا ہے۔ مارکیٹ کمیٹیاں مستقل حیثیت کی حامل ہیں۔ ان کمیٹیوں والے دیانتداری سے کام کریں تو حالات بہتر بھی ہو سکتے ہیں اس لئے ان کمیٹیوں کے کرتا دھرتا لوگوں سے باز پرس کی ضرورت بھی ہے۔

مزید :

اداریہ -