ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے مختلف ممالک سے کابلی چنے کی درآمد شروع

ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے مختلف ممالک سے کابلی چنے کی درآمد شروع

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 فیصل آباد (این این آئی)پاکستان میں کابلی چنے کی مانگ میں اضافے کے بعد ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے مختلف ممالک سے کابلی چنے کی درآمد شروع کردی گئی جبکہ غیر ملکی درآمد پر انحصار ختم کرنے کیلئے کاشتکاروں کو کابلی چنے کا زیر کاشت رقبہ بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے اس حوالے سے ماہرین زراعت اور محکمہ زراعت کو بھی خصوصی ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ کے ماہر چنا تحقیقاتی ادارہ برائے دالیں ڈاکٹرعزیز الرحمن نے کہا کہ ملکی ضروریات میں اضافہ کے باعث چنے اور مسور کے زیر کاشت رقبہ کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ان فصلوں کی کاشت بڑھانے سے ملکی ضروریات پوری کرنے کےساتھ ساتھ دالوں کی درآمد کو کم کرکے زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ پھلی دار اجناس ہونے کی وجہ سے چنے اور مسور کی دونوں فصلیں ہوا سے نائٹروجن حاصل کرکے زمین میں شامل کرتی ہیں جس سے زمین کی ذرخیزی بحال رہتی ہے ۔انہوںنے کہا کہ بارانی علاقوں میں چنے کی زیادہ تر دیسی اقسام کاشت کی جاتی ہیں لیکن کابلی چنے کی مانگ بڑھ رہی ہے جسے پورا کرنے کےلئے مختلف ممالک سے کابلی چنا درآمد کیا جارہا ہے لہٰذااس کی درآمد کو کم کرنے کےلئے کابلی چنے کے زیر کاشت رقبہ کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ جدید پیداواری ٹیکنالوجی کو اپنانے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ چنے اور مسور کی فی ایکڑ پیداوار میںاضافہ کےلئے کھادوں کے مناسب اور متناسب استعمال ،کیڑوں اور بیماریوں کے انسداد کےلئے جدید تحقیق کی روشنی میں جاری کردہ سفارشات پر عملدرآمد کیاجائے تاکہ پیداوار میںاضافہ کو یقینی بنایاجاسکے۔

مزید :

کامرس -