دنیا میں 50فیصد سے زیادہ مونجی براہِ راست بیج سے کاشت ہورہی ہے

دنیا میں 50فیصد سے زیادہ مونجی براہِ راست بیج سے کاشت ہورہی ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


فیصل آباد( آن لائن) دنیا میں 50فیصد سے زیادہ مونجی براہِ راست بیج سے کاشت کی جاتی ہے۔ فلپائن،سری لنکا، ملائشیااور تھائی لینڈجیسے گرم مرطوب موسم اور یقینی بارش والے ممالک کے بعض علاقوں میںاس طریقے سے دھان کی فصل کامیابی سے کاشت کی جارہی ہے۔شدید آبی قلت کی وجہ سے گذشتہ عشروں کے مقابلے میں آج کل ہمارے ملک میں بھی وسیع پیمانے پر مونجی کی کاشت بہت دشوار ہوتی جارہی ہے۔محمد عاشق اسسٹٹ اگرانومسٹ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد نے آن لائن کو بتایا ہے کہکم پانی سے مونجی پیداکرنے کے لئے زرعی ماہرین مونجی کی براہِ راست کاشت پر تحقیق کررہے ہیںاورپنجاب میں مونجی کی کاشت کایہ ایک نیا طریقہ ہے۔اگرچہ اس طریقے میں کامیابی کا تناسب پچاس فیصد تک ہوچکاہے لیکن تاحال یہ طریقہ حتمی نہیں بلکہ مزید تحقیق طلب ہے۔ بڑے کاشتکار جن کو دھان کی منتقلی کے لئے درکار زرعی مزدوروںکی شدید قلت کا سامنا ہو وہ اپنے 100 ایکڑ میں سے محکمہ زراعت سے مشورہ کرکے 10 سے 20 ایکڑاس طریقہ کاشت سے دھان کی کاشت کریں۔چاول کے مرکزی علاقوںکی چکنی اور کلراٹھی زمینوں میںپانی ٹھہرانے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اس لیے ان زمینوں میںاس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔

 ریتلی، میرا اورز یادہ کلراٹھی زمینوں میں اس کی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔

 میرازمینوں میںتوپانی کے اخراجات منتقل شدہ دھان کے مقابلے میں بھی زیادہ آسکتے ہیں۔نرسری منتقل کرنے کے مقابلے میں براہ راست دھان کی کاشت سے پانی کے اخراجات میں بچت ہوسکتی ہے۔زیادہ اوریقینی بارشوں والے علاقوںکی پانی ٹھہرانے والی چکنی زمینوں میں اس کی کامیابی کے امکانات موجود ہیں۔ زرعی ماہرین کی طرف سے کاشتکاروں کو باسمتی کی بجائے ابتدائی طور پرصرف موٹی اقسام اس طریقے سے کاشت کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ موٹی اقسام کی جون کے پہلے دو ہفتوں میں کاشتہ مونجی بہتر پیداوار دیتی ہے۔صحت مند زمین میںڈرل سے کاشت کی صورت میں باسمتی اقسام کا10 تا12 کلو گرام جبکہ چھٹہ کی صورت میں12تا 14کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں جبکہ موٹی اقسام کا14تا15کلوبیج استعمال کریں۔پہلا طریقہ کاشت میںبارہ گھنٹے تک پانی میں بھگویاہوا بیج اگلے دن نیم خشک کرنے کے بعد وترزمین میںچھٹہ کریں یا نو، نو انچ کے فاصلے پرڈرل کی مددسے کاشت کرکے دس تابارہ دن بعد پہلی آبپاشی کر دیں۔چھٹہ کی بجائے ڈرل سے کاشتہ مونجی زیادہ پیداوار دیتی ہے۔دوسراطریقہ کاشت میںخشک بیج باریک تیارشدہ خشک زمین میںچھٹہ کریں یا نو، نو انچ کے فاصلے پرڈرل کی مددسے کاشت کرکے فوراً پانی لگادیںجبکہ وتر آنے پر ایک ہفتے کے اندر دوسراپانی بھی لگائیں۔تیسراطریقہ کاشت میں خشک تیار شدہ اور لیزر سے ہموار شدہ زمین میں انگوری مارے ہوئے بیج کا چھٹہ کرکے پانی لگادیں۔ جن زمینوں کی لیزر لیولنگ نہ کی گئی ہو وہاں چھٹہ کے مقابلہ میں ڈرل سے کاشتہ مونجی زیادہ پیداوار دیتی ہے ۔

مزید :

کامرس -