ہرارے میں پائی جانے والی ایک ہتھنی جو خود کو بھینس سمجھتی ہے

ہرارے میں پائی جانے والی ایک ہتھنی جو خود کو بھینس سمجھتی ہے
ہرارے میں پائی جانے والی ایک ہتھنی جو خود کو بھینس سمجھتی ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ہرارے (نیوزڈیسک) زمباوے کی ایک ہتھنی اپنے شب و روز بھینسوں کے ایک جھنڈ کے ساتھ گزارتی ہے ، انہیں کے ساتھ سوتی جاگتی ہے ، کھاتی پیتی ہے اپنے آپ کو ہتھنی کے بجائے بھینس ہی سمجھتی ہے۔چھیالیس سالہ ہتھنی نزو± تحفظ جنگلی حیات کے مرکز اِمئر میں مقیم ہے جہاں اسے بچپن میں لایا گیا تھا کیونکہ اس کے والدین کع غیر قانونی شکار کرنے والوں نے 1970میں ہلاک کر دیا تھا۔یتیم ننھی ہتھنی کو ایک بڑے نر ہاتھی کے ساتھ رکھا گیا اور چونکہ مرکز کے پاس کوئی ہتھنی نہیں تھی لہذا انہوں نے بھینسوں کو ہی ہاتھیوں کے ساتھ ملا کر ایک جھنڈ بنا دیا۔ مرکز کے مالک نارمن کا کہنا ہے کہ نزوکئی دہائیوں سے بھینسوں کے ساتھ ہی رہ رہی ہے اور اب وہ اپنی ہاتھیوں والی خصوصیات بھول کر بھینسوں والی خصوصیات اختیار کر چکی ہے۔ بھینس بھی اسے اپنی ملکہ سمجھتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ رہتی ہیں۔نارمن نے بتایا کے بعد میں جب نزو کو ہاتھیوں کے ساتھ رکھنے کی کوشش کی گئی اس نے اسے رد کر دیا اور دوبارہ بھینسوں میں ہی آکر رہنا شروع کر دیا۔نزو ہاتھیوں والی اکثر خصوصیات فراموش کر چکی ہے۔لیکن وفاداری اب بھی اس کی شخصیت کا حصہ ہے جب ایک دن اس کا خیال رکھنے والے ملازم میتھیو کو کچھ بھینسوں نے حملہ کر کے زخمی کر دیا تو نزو نے اس کو مزید حملوں سے بچایا اور جب تک مدد نہ پہنچ گئی اس کی حفاظت کے لئے دیوار بن کر کھڑی رہی۔

مزید :

صفحہ آخر -