پنجاب حکومت سانحہ منہاج القرآن میں بھی سرخرو ہو گی،رانا ثناءاللہ

پنجاب حکومت سانحہ منہاج القرآن میں بھی سرخرو ہو گی،رانا ثناءاللہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور( نمائندہ خصوصی) پنجاب کے سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ خاں نے کہا ہے کہ میری پارٹی قیادت نے مجھ سے استعفیٰ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا کےلئے لیا ہے کیونکہ پنجاب حکومت ایسا انصاف چاہتی ہے جو لوگوں کو نظر بھی آئے ہمیں اللہ تعالیٰ اور خود پر یقین ہے اور انشاءاللہ پنجاب حکومت سانحہ منہاج القرآن میں بھی سرخرو ہو گی۔انہوں نے کہا کہ مجھے جوڈیشل ٹربیونل پر پورا اعتماد ہے سانحہ ماڈل ٹاﺅن بارے اپنا موقف ٹربیونل میں پیش کروںگا طاہر القادری کو بیرون ملک میں سیدھی گولیاں چلانے کی باتیں بتائی گئیں اب وہ پاکستان میں آ چکے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ اپنی پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور سکیورٹی انچارج سے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بارے میں بھی پوچھیں جس سے ان کو تمام حقائق کا پتہ چل جائے گا۔ وہ وزارت قانون سے استعفی دینے کے بعد پہلی مرتبہ اسمبلی آئے تو (ن) لیگی ارکان اسمبلی نے انکا بھرپور استقبال کیا ۔اس موقع پر پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ خاں نے کہاکہ سانحہ منہاج القرآن پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد پارٹی قیادت اور وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ایسا انصاف جو لوگوں کو نظر آئے کےلئے مجھ سے استعفیٰ لیا اور میں اب اس سارے معاملے پر جوڈیشل کمیشن میں اپنا موقف دوں گا ۔انہوں نے کہاکہ میرا یہ موقف ہے کہ منہاج القرآن کا معاملہ مس ہینڈل ہوا اور وہاں پر لوگوں کو مارنے کےلئے اعلیٰ یا نچلی سطح پر کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی نہیں بنائی گئی ۔انہوں نے کہاکہ طاہر القادری اور ان کے اتحادی کہتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ لوگوں کو سیدھی گولیاں مار کر قتل کیاجائے اور میں بھی یہ کہتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ کوئی کسی کو مارنے کےلئے جائے اور پھر اس سے 6سے 7گھنٹے تک مذاکرات بھی کرے ۔انہوں نے کہاکہ مشکل وقت میں مشکل فیصلے حوصلے اور جرات کے ساتھ ہوتے ہیں اور میری پارٹی قیادت نے بھی میرے استعفیٰ سمیت دیگر فیصلے جرات اور حوصلے کے ساتھ کئے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ دل دامن اور ہاتھ صاف ہیں ۔

مزید :

علاقائی -