جون میں واپس آنے کا اچانک فیصلہ کیونکر ہوا؟

جون میں واپس آنے کا اچانک فیصلہ کیونکر ہوا؟
جون میں واپس آنے کا اچانک فیصلہ کیونکر ہوا؟
کیپشن: qadri

  

آخر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری پاکستان تشریف لے آئے پاکستان آنے کے بعد کیسے حالات پیدا ہوئے ان پر بعد میں توجہ دیتے ہیں پہلے ان حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے پاکستان آنے سے پہلے ایسے حالات کن خفیہ ہاتھوں نے پیدا کئے، پہلے لندن میں سیاسی اتحاد کے لئے ہونے والی اپوزیشن کانفرنس کا جائزہ لینا چاہئے جس میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری، مسلم لیگ(ق) کے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی مشترکہ اپوزیشن الائنس بنانے کے لئے سرجوڑ کر بیٹھے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس میٹنگ سے پہلے علامہ ڈاکٹر طاہر القادری ستمبر میں پاکستان واپسی کا عندیہ دے چکے تھے کہ اچانک میٹنگ کے بعد اچانک پروگرام تبدیل کرتے ہوئے تین مہینے پہلے جون ہی میں پاکستان واپسی کا اعلان کر دیا ۔ یہاں پر پنجاب حکومت کو بڑی باریک بینی سے ان حالات کا جائزہ بھی لینا چاہئے کہ آخر وہ ایسی کون سی قوت ہے جس نے علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کو ستمبر سے پہلے جون میں پاکستان آنے پر مجبور کیا اور پولیس کو ان کے واپس آنے سے پہلے ان کی رہائش گاہ سے بیرئیر ہٹانے کا پروگرام دیا۔ کیونکہ ان کی غیر موجودگی میں تو بیرئیر نہیں ہٹائے گئے۔ جب ان بیرئیر کی زیادہ ضرورت تھی تو ان کو ہٹانے کے لئے رات کے اندھیرے میں پولیس نے چڑھائی کر دی آخر ایسی کون سی ایمرجنسی آن پڑی تھی کہ بیرئیر کو راتوں رات ہٹایا جانا ضروری سمجھ لیا گیا۔ بیرئیر ہٹانا ہی ضروری تھا تو بہتر طریقہ تھا کہ ضلعی انتظامیہ منہاج القرآن کی انتظامیہ سے مذاکرات کرتی اور اس کے نتیجے میں بہتر فیصلہ سامنے آتا۔ اگر کڑی سے کڑی ملائی جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت علامہ ڈاکٹر القادری کے پاکستان آنے سے پہلے ایسے حالات پیدا کر دیئے گے کہ ان کو احتجاج کا موقع مل گیا جیسا کہ بیرئیر ہٹانے کے ضمن میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن رونما ہوا´ پولیس کو اس طرح فائرنگ کرنے کا حکم کس نے دیا اس موقع پر گلو بٹ ایک فلم ایکٹر کی طرح ادارہ منہاج القرآن کے سامنے پولیس کے جوانوں اور افسران کی موجودگی میں جس آزادی کے ساتھ گاڑیوں کی توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کر رہا تھا اور پولیس اس کو روکنے کی بجائے شاباش دیتی نظر آئی اس عمل سے پنجاب حکومت اور خصوصاً پنجاب پولیس کی نیک نامی کو دھچکا ضرور لگا ہے تو اس الزام سے صوبائی وزیر قانون کس طرح محفوظ رہ سکتے تھے؟ اب چونکہ انکوائری کے لئے جوڈیشل کمیشن بن چکا ہے جس نے اپنی کارروائی شروع کر دی ہے اب انتظار کرنا چاہئے اس کمشن کی کیا رپورٹ آتی ہے اور اس میں کون قصور وار ٹھہرتا ہے کہ ایک باقاعدہ سازش کے تحت پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان آمد سے پہلے انہیں لاشوں کا تحفہ دے کر ان کے شاندار استقبال کی راہ ہموار کر دی گئی اور اس اہم موقع پر انہوں نے اس کارڈ کا استعمال بھرپور طریقے سے کیا انہوں نے 9گھنٹے سے زائد طیارہ کو ہائی جیک کئے رکھا اور تمام الیکٹرانک میڈیا نے بھرپور لائیو کوریج کی۔ جس سے پہلے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ۔ان کا مطالبہ تھا کہ فوج سکیورٹی دے کور کمانڈر مجھے جہاز تک لینے آئیں تو میں طیارے سے باہر آﺅں گا اس موقع پر فوج نے علامہ ڈاکٹر طاہر القادری سے نہ صرف لاتعلقی کا اظہار کر دیا بلکہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری تک یہ پیغام بھی پہنچا دیا گیا کہ اپنی انقلاب کی تحریک کو شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ”ضرب عضب“ کو مکمل ہونے تک روکے رکھیں اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ پنجاب میں بدامنی کی کوشش ناکام ہو گئی ہے اور بالآخر کچھ رسمی مذاکرات کے بعد ڈاکٹر علامہ طاہر القادری صاحب جناح ہسپتال میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں زخمیوں کی عیادت کرنے کے بعد اپنی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔

 

مزید :

کالم -