غداری کیس،سابق صدرکے خلاف حکومتی درخواست بد نیتی پر مبنی ہے: فروغ نسیم

غداری کیس،سابق صدرکے خلاف حکومتی درخواست بد نیتی پر مبنی ہے: فروغ نسیم
غداری کیس،سابق صدرکے خلاف حکومتی درخواست بد نیتی پر مبنی ہے: فروغ نسیم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ سابق صدر کے خلاف حکومت کی جانب سے کی گئی شکایت بدنیتی پر مبنی ہے۔تفصیلات کے مطابق جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے غداری کیس کی سماعت کی۔پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے شکایت کنندہ سیکریٹری داخلہ شاہد خان پر آج بھی اپنی جرح جاری رکھی۔ سیکریٹری داخلہ شاہد خان نے فروغ نسیم کی جانب سے دوران جرح ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل چھ کی کارروائی شروع کرنے کی منظوری وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دی تھی اور اس سلسلے میں وزیر اعظم نواز شریف یا وفاقی کابینہ سے کارروائی کی منظوری نہیں لی گئی تھی ۔بیرسٹر فروغ نسیم نے سوال کیا کہ کن شواہد کا جائزہ لینے کے بعد پر ویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت شکایت درج کرائی گئی؟جس پر شاہد خان نے کہا کہ تمام شواہد ایف آئی اے کی رپورٹ اور اس سے منسلک دستاویزات پر مشتمل ہیںجس پر فروغ نسیم نے کہا کہ سابق صدر کے خلاف حکو متی شکایت بدنیتی پر مبنی ہے۔ مقدمے میں وزیر اعظم کا بیان ریکارڈ کیے جانے سے متعلق سوال پر شاہد خان نے جواب دیا کہ وزیر اعظم کا کوئی بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ فروغ نسیم کی جا نب سے مشرف کے خلاف شکایت درج کرانے کیلئے وزارت قانون سے مشاورت کا وقت پوچھے جانے پر سیکریٹری داخلہ نے کہا انہیں یاد نہیں ہے کہ وزارت قانون سے کتنی بار مشاورت ہوئی تاہم ایف آئی اے کی جانب سے رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی وزارت قانون سے مشاورت کی گئی تھی ، انہوں نے اس تاثر کورد کیا کہ شکایت درج کرانے کیلئے وزارت قانون سے مشاورت نہیں ہوئی ۔ فروغ نسیم نے سوال کیا کہ پرویز مشرف کیخلاف شکایت کا مسودہ کس نے تیار کیا جس پر سیکریٹری داخلہ نے کہا شکایت کے اندراج کیلئے مختلف مسودے تیار کیے گئے تاہم حتمی مسودہ انہوں نے خود تیار کیا۔