ایک اہلکار بھی گولی چلادیتا تو فرزانہ قتل نہ ہوتی:جسٹس عظمت سعید

ایک اہلکار بھی گولی چلادیتا تو فرزانہ قتل نہ ہوتی:جسٹس عظمت سعید
ایک اہلکار بھی گولی چلادیتا تو فرزانہ قتل نہ ہوتی:جسٹس عظمت سعید

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ میں فرزانہ قتل کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے باہر فرزانہ کے قتل کے وقت پولیس موجود تھی، ایک ہوائی فائر بھی ہو جاتا تو فرزانہ بچ سکتی تھی،کیا پولیس اہلکاروں نے سارا غصہ ماڈل ٹاﺅن کے لیے رکھا تھا؟ ۔ًتفصیلات کے مطا بق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فرزانہ قتل کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت کی وجہ سے صوبے اور پولیس کی خوب عزت افزائی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ فرزانہ کس کیس میں لاہور ہائی کورٹ گئی تھی؟ عدالت میں تفصیلات پیش کی جائیں۔ عدالت عظمی نے سما عت کے بعد کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔

مزید :

اسلام آباد -