ماضی کی نسبت آج سگریٹ پینا زیادہ نقصان دہ ہے: تحقیق

ماضی کی نسبت آج سگریٹ پینا زیادہ نقصان دہ ہے: تحقیق
ماضی کی نسبت آج سگریٹ پینا زیادہ نقصان دہ ہے: تحقیق
کیپشن: ceg

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن (نیوز ڈیسک) سگریٹ کے مضر صحت ہونے کے بارے میں تو کبھی کسی کو شک نہیں رہا لیکن حال ہی میں یہ خوفناک انکشاف ہوا ہے کہ سگریٹ بنانے والی کمپنیوں نے سگریٹ میں ایسے طاقتور کیمیکل استعمال کرنے شروع کردئیے ہیں کہ جو پینے والوں کو پہلے کی نسبت کہیں زیادہ اس کے نشے کا عادی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ کیمیکل کینسر جیسی موذی بیماریاں بھی تیزی سے پیدا کررہے ہیں۔ یہ رپورٹ برطانیہ کے ایک تحقیقاتی ادارے اور برطانوی سرجن جنرل کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔ اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آج کے سگریٹ چند سال  پہلے کی نسبت کہیں زیادہ دلکش، نشہ آور اور جان لیوا ہیں کیونکہ کمپنیوں نے سگریٹ میں کچھ خاص تبدیلیاں کردی ہیں۔ خصوصی کیمیکل کے استعمال کی وجہ سے سگریٹ کا دھواں زیادہ آسانی کے ساتھ پھیپھڑوں کی گہرائی تک چلا جاتا ہے، نشہ کی لت لگانے کیلئے نکوٹین کی مقدار میں اضافہ کردیا گیا ہے، سگریٹ کے فلٹر کو بھی ہوادار بنادیا گیا ہے جس کی وجہ سے زیادہ دھواں جسم میں جاتا ہے۔ سگریٹ کے ذائقے کو بہتر بنانے کیلئے اس میں میٹھے اور ایسٹیل ڈی ہائیڈ کا استعمال کیا جاتا ہے جو بذاتِ خود مضر صحت ہیں۔ مینتھول کے اضافے کی وجہ سے گلہ سن ہوجاتا ہے اور دھواں تکلیف دہ محسوس نہیں ہوتا۔ نکوٹین کی کڑواہٹ کو کم کرنے کیلئے لیولنگ ایسڈ استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکی سگریٹ میں مختلف قسم کے تمباکو ملا کر استعمال کئے جاتے ہیں جس سے کینسر پیدا کرنے والے مادوں نائٹرو سیمنز میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ نئے پینے والوں اور بچوں کو لبھانے کیلئے لکرس اور چاکلیٹ فلیور بھی تمباکو میں شامل کئے جاتے ہیں اور نکوٹین کے اثر کو تیزی سے دماغ میں پہنچا کر اسے سن کرنے کیلئے امونیا کے مرکبات بھی سگریٹ میں دھڑا دھڑ شامل کئے جارہے ہیں۔ یعنی سگریٹ فروش کمپنیوں نے مال بنانے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سگریٹ کا نشہ لگانے کیلئے جان لیوا مرکبات کی تعداد اور مقدار میں خوفناک اضافہ کردیا ہے۔

مزید :

تعلیم و صحت -