ہمارے ملک میں کسی کو ڈرون اُڑانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی: امریکہ

ہمارے ملک میں کسی کو ڈرون اُڑانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی: امریکہ
ہمارے ملک میں کسی کو ڈرون اُڑانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی: امریکہ
کیپشن: dRONE

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) دنیا کے مختلف ممالک میں خوفناک گولہ بارود گراکر انسانوں کو ہلاک کرنے والے ڈرون کا استعمال امریکہ کی دفاعی پالیسی کا نمایاں حصہ ہے لیکن اپنے ملک میں امریکہ کھلونا ڈرون استعمال کرنے کی اجازت دینے کیلئے بھی تیار نہیں ہے۔ امریکی حکومت نے حال ہی میں نئے قوانین کا اجراءکیا ہے جن کے مطابق فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی نے تفریحی مقاصد اور مشغلے کے طور پر اڑانے جانے والے کھلونا ڈرون طیاروں یا اس سے ملتے جلتے ڈرون طیاروں کا استعمال ممنوع قرار دے دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد مختلف کمپنیوں کے ایسے منصوبوں کا راستہ روکنا ہے جن کے مطابق صارفین کو اشیاءکی ڈلیوری ڈرون طیاروں کے ذریعے کی جائے گی۔ انٹرنیٹ پر کتابیں اور ٹیکنالوجی آلات بیچنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی امیزون بھی صارفین کو ڈرون کے ذریعے اشیاءکی ڈلیوری کا ارادہ رکھتی ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ حکومتی قوانین میں ایسی کمزوریاں موجود ہیں کہ جن کا فائدہ اُٹھاکر کمپنیاں کاروباری مقاصد کیلئے ڈرون کا استعمال کرسکتی ہیں۔