تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما۔۔۔ نواب بہادر یار جنگ

تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما۔۔۔ نواب بہادر یار جنگ
تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما۔۔۔ نواب بہادر یار جنگ

  



نواب بہادر یار جنگ کا اصل نام محمد بہادر خان تھا۔ 3فروری1903ء کو حیدر آباد دکن کے جاگیردار نواب نصیب بہادر جنگ کے ہاں پیدا ہوئے ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے گھر کے علاوہ تفسیر شمسی کے خالق سید اشرف شمسی، مدرسہ بحر العلوم کے علامہ اشرف اور مولوی سعد اللہ جیسے جلیل القدر علماء و اساتذہ سے حاصل کی۔

بچپن کی تعلیم وتربیت نے انہیں عاشقِ قرآن و حدیث بنا دیا تھا ۔ اپنے والد ماجد کی وفات کے بعد آپ نے سوچا ’’اب اس حدیث شریف کا اطلاق مجھ پر ہوتا ہے کہ : ’’تم سب کے راعی ہو اور تم سب سے اپنی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔‘‘ آپ ہر قدم اٹھانے سے قبل اچھی طرح جائزہ لیتے تھے کہ کہیں خدا اور رسول پاکؐ کے کسی حکم کی نافرمانی تو نہیں ہو رہی؟ مسجد میں صبح سویرے ایک گھنٹہ تفسیر قرآن بیان کرتے اور اس کی بابت ان کا کہنا تھا ’’مجھے اگر کسی عمل کے صلے میں بخشش کی توقع ہے ‘ تو وہ ہے خدمتِ قرآن‘‘۔

اسلام سے والہانہ محبت ہی نے اس نوجوان کو احساس دلایا کہ مسلمان سات سو برس سے حیدرآباد دکن میں مقیم ہیں مگر وہ ریاست میں اکثریت حاصل نہیں کرسکے۔ اسی احساس کے تحت بہادر خان نے 1927ء میں تبلیغ اسلام کی خاطر ایک تنظیم ’انجمن تبلیغ اسلام ‘ کی بنیاد رکھ ڈالی۔ انہوں نے تبلیغ دین کا فرض کفایہ اس خوبی سے اد اکیا کہ صرف آپ کے ہاتھ پر پانچ ہزار سے زائد غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ مجموعی طور پر انجمن کے ذریعے 25 ہزار سے زائد کافر اسلام کے دائرے میں آگئے۔ آپ کی تبلیغانہ سرگرمیوں کا دائرہ کار عوام تک محدود نہ تھا بلکہ آپ حکام حتیٰ کہ نظام کے سامنے بھی برملا تبلیغ کرتے تھے ۔ ایک بار 1930ء میں حیدر آباد دکن میں حکمران ’’نظام‘‘ چپکے سے آپ کی مجلس میں آکر بیٹھ گیا ۔ جب بہادر خان کی نظر ان پر پڑی تو انہوں نے انہیں مخاطب کر کے رسول کریمؐ کی یہ حدیث سنائی ’’حاکم رعایا کا نوکر ہے۔ جاہ و جلال عارضی ہے۔ بطور ایک مومن اور سچے مسلمان کے اپنی رعایا کی دیکھ بھال کرنا حکمران کے فرائض میں شامل ہے۔‘‘ یہ قول رسولؐ سن کر نظام کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

1931ء میں جب آپ حج کے لئے حجاز مقدس گئے تو منیٰ میں افغانستان کے سابق بادشاہ امان اللہ خان سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر افغانستان میں بغاوت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ امان اللہ خان نے ایک موقع پر دریافت کیا’’ہندوستان کے مسلمان میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟‘‘بہادر خان نے فرمایا ’’میں صرف اپنی رائے دے سکتا ہوں اور وہ یہ کہ آپ ایسے بادشاہ ہیں جس نے سٹر ک بنائے بغیر کچے راستے پر نئے زمانے کی موٹر دوڑا دی۔ آپ کی اسی جلد بازی کے باعث آپ کی حکومت کی موٹر ٹوٹ گئی۔ ‘‘

اس سفر کے دوران آپ ترکی بھی تشریف لے گئے۔ اس وقت تک ترکی میں مغربی تہذیب کی برتری کے باعث ٹوپی پہننے کا رواج تقریباً ختم ہو چکا تھا۔دوسری طرف محمد بہادر خان ترکی ٹوپی پہننے کے عادی تھے۔ ترکی میں ان کی ترکی ٹوپی کو معمر خواتین و حضرات نے محبت اور احترام کی نظروں سے دیکھا ۔

محمد بہادر خان جب وطن واپس آئے تو امت کی تنزلی پر ان کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ انہوں نے حیدر آباد شہر اور دہلی میں نہایت پر مغز تقاریر کے ذریعے اپنے سفر کے حالات اور مشاہدات بیان کیے۔ انہوں نے خصوصاً اسلامی ممالک کے حالات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ ان کے حوالوں سے متاثر ہو کر خواجہ حسن نظامی نے انہیں ’’دکن کا ابن بطوطہ‘‘ کے خطاب سے نوازا۔

اس زمانے میں حیدرآباد دکن میں مجلس اتحاد المسلمین کے نام سے ایک غیر فعال مذہبی جماعت موجود تھی۔ نواب بہادر یار جنگؒ اس سے وابستہ ہو کر ریاستی مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے لگے۔ اس مقصد کے لئے ضروری تھا کہ کسی قومی جماعت سے وابستہ ہو جائیں۔ اس زمانے میں مسلمانوں کی دو بڑی قومی جماعتیں تھیں: مسلم لیگ اور جمعیت علمائے اسلام ۔ نواب صاحب نے اول الذکر کو ترجیح دی اور اس کی بنیادی وجہ قائداعظمؒ کی ذات گرامی سے عقیدت و محبت تھی۔ قائداعظمؒ کے ساتھ نواب بہادر یار جنگؒ کی پہلی ملاقات1934ء میں ہوئی تھی۔ قائداعظمؒ تب بمبئی میں عید میلاد النبیؐ کے ایک جلسے کی صدارت کر رہے تھے۔

نواب بہادر یار جنگؒ پہلی بار آل انڈیا مسلم لیگ کے اس اجلاس میں شریک ہوئے جو جنوبی ہند کے شہر شولہ پور میں منعقد ہوا تھا۔ اس جلسے کی صدارت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کی تھی۔ اپنی تقریر میں قائداعظمؒ نے مسلم لیگی سیاست اور جماعت کے اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ قائد اعظمؒ نے تقریر کا اختتام ان الفاظ پر کیا ’’میں انگریزی میں تقریر کرنے پر مجبور تھا۔ مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ اکثر حاضرین میری باتیں نہیں سمجھ سکے ہوں گے‘‘۔

جب قائداعظمؒ کی تقریر ختم ہوئی تو اچانک نواب صاحب سے درخواست کی گئی کہ وہ اردو میں ان کی تقریر کا ترجمہ فرما دیں۔ کسی قسم کی تیاری کے بغیر ایسی پیچیدہ تقریر کا اردو ترجمہ کرنا تقریباً ناممکن تھا مگر نواب بہادر یار جنگؒ نے اس چیلنج کو نہایت دلیری سے قبول کیا۔

وہ بلا جھجک کھڑے ہوئے اور قائد کی تقریر کافی البدیہہ اردو ترجمہ کر ڈالا۔ قائد اور مسلم لیگ کی بہترین ترجمانی کرنے کے باعث قائداعظمؒ نے پھر انہیں اپنا ترجمان مقرر کر دیا۔ اس کے بعد مسلم لیگ کے سالانہ اجلاسوں میں قائداعظمؒ تقریر کرتے تو نواب بہادر یار جنگؒ کو ہی دعوت دی جاتی کہ وہ اس کا اردو ترجمہ عوام الناس کو سنائیں۔آپ انگریزی اچھی طرح بول اور سمجھ سکتے تھے۔ انگریزی بولنا مشکل کام نہیں لیکن قائداعظمؒ جیسے قابل انگریزی دان کی تقریر کا فی البدیہہ ترجمہ جان جوکھوں کا کام تھا، مگر ہر اجلاس میں نواب صاحب نے اپنے قائد کی انگریزی تقریر کا ایسا صحیح اور معیاری اردو ترجمہ سنایا کہ سامعین انگشت بدنداں رہ جاتے۔ اس کے علاوہ نواب صاحب عربی ‘ فارسی ‘ پشتو‘ دیہی اردو ‘ مرہٹی اور تلنگو زبانیں بھی جانتے تھے۔ مسلم لیگ کے ستائیسویں سالانہ اجلاس منعقدہ مارچ 1940ء کو بے پناہ اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اسی میں وہ قرارداد منظو رہوئی جو آج ’’قراردادِ پاکستان‘‘کے نام سے مشہور ہے۔اس تاریخی اجلاس میں مولوی فضل الحق نے ’’قرارداد پاکستان‘‘ پیش کی جو منظور ہو گئی۔ اسی تاریخی اجلاس میں نواب بہادر یار جنگ نے ایسی سحر انگیز تقریر فرمائی کہ سبھی کو مسحور کر دیا۔ جب ان کا خطاب ہوچکا تو قائداعظمؒ نے صرف ایک جملے میں انہیں کچھ اس طرح خراجِ تحسین پیش کیا:’’بہادر یار جنگؒ کے بعد کسی اور کا تقریر کرنا غلطی ہو گی‘‘۔یاد رہے قدرت نے نواب بہادر یار جنگؒ کو فن خطابت کی دولت سے خوب نوازا تھا۔نواب صاحب کے زمانے میں کئی ممتاز خطیب موجود تھے لیکن جو ایک بار آپ کی تقریر سن لیتا‘ وہ آپ کے کمالِ فن کا معترف ہو جاتا۔ وہ عام طور پر اپنے خطاب کا تانا بانا تین چیزوں پر تیار کرتے تھے: اول تاریخی معلومات‘ دوم شاعر مشرق کے اشعار اور سوم الفاظ کا صحیح انتخاب۔ نواب صاحب کا ایک اہم کارنامہ یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ نے اپنے دائرہ کار سے ریاستوں کو باہر رکھا ہوا تھا۔ دوسری طرف کانگریس کا ریاستوں میں عمل دخل بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ نواب بہادر یار جنگؒ نے مسلمان ریاستوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لئے ’’اسٹیٹس مسلم لیگ‘‘ قائم کر دی جسے قائداعظمؒ کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ نواب صاحب نے پھر اس جماعت کے صدر کی حیثیت سے تمام مسلم ریاستوں کا دورہ کیا اور وہاں خاص و عام میں مسلم لیگ کو متعارف کروایا۔ افسوس کہ ان کی وفات سے اس تنظیم کا کام بھی ٹھپ ہو گیا ورنہ عین ممکن تھا کہ نواب صاحب کی سعی سے راجستھان کی ریاستیں پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیتیں۔ نواب بہادر یار جنگؒ سیاست میں قائداعظمؒ کو اپنا استاد تسلیم کرتے اور ان سے بہت محبت فرماتے تھے۔ دراصل بے غرضی اور بے ریائی میں دونوں رہنماؤں کے درمیان رتی برابر فرق نہ تھا۔ یہ دونوں رہنما ایک دوسرے سے ملتے تو ان کے چہروں پر مسرت و بشاشت کی لہر دوڑ جاتی اور وہ خوشی سے چمکنے لگتے۔ نواب صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے: ’’اس جوان نے اگرکسی سے عشق کیا ہے تو وہ ایک بوڑھے (قائداعظم محمد علی جناحؒ ) سے کیا ہے‘‘۔ قائداعظمؒ کو بھی آپ کی بے پناہ صلاحیتوں کا علم تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگرنواب صاحب مسلم لیگ اور ان کے دست راست بن گئے تو اسے بہت تقویت ملے گی۔ اسی لئے جب نواب بہادر یار جنگؒ باقاعدہ طور پر مسلم لیگ میں شامل ہوئے تو قائد نے فرمایا:- ’’مسلم لیگ تا حال بے زبان تھی‘ اب اسے زبان مل گئی‘‘۔ قائداعظمؒ کم ہی کسی کی تعریف کرتے تھے مگر ان کی زبان سے قائد ملت کی تعریف و توصیف میں کئی بار کلمات نکلے ہیں۔ مثلاً ایک بار فرمایا :۔’’نواب صاحب بڑے نازک مواقع پر میر ے لئے رہبر اور مشیر ثابت ہوئے۔ خدا انہیں عمر دراز عطا کرے‘‘ ۔ اگر فکر اقبال سے آپ کی وابستگی کی بات کی جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نواب بہادر یار جنگؒ شاعر مشرق ‘ علامہ محمد اقبالؒ کے بڑے مداح تھے اور ان کے مرد مومن کی زندہ تفسیربھی! اقبالؒ کو مولانا روم سے جونسبت تھی‘ نواب صاحب کا وہی تعلق اقبالؒ سے رہا۔ وہ پیر یہ مرید‘ وہ شہباز ‘ یہ شاہین۔ نواب صاحب اکثر کہا کرتے تھے ’’میرا رہنما اقبالؒ ہے‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ نواب صاحب اپنی تقاریر میں سب سے زیادہ شاعر مشرق ہی کے اشعار استعمال کرتے تھے۔ یہ استعمال اتنا برجستہ اور بر محل ہوتا کہ لگتا‘ اقبالؒ نے اسی موقع کے لئے شعر کہے تھے۔ بعض دفعہ تو نواب صاحب پوری تقریر ’’اقبالی زبان‘‘ میں کر ڈالتے۔ شاعرِ مشرق سے بے پنا ہ عشق ہی کا نتیجہ ہے کہ ان کی زندگی میں پہلا ’’یومِ اقبالؒ ‘‘ نواب صاحب اور ڈاکٹر لطیف کی تحریک پر حیدرآبادشہر میں منایا گیا تھا۔

قائد ملت نواب بہادر یارجنگؒ کی تقریروں ‘ تحریروں اور مکاتیب کا مطالعہ غور سے کیا جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ ان کا ہر جملہ جواہر ریزے اور قولِ زریں کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اسلام‘ امتِ مسلمہ‘ مسلمانانِ ہند کی حالتِ زار‘ تحریکِ پاکستان‘ جدوجہد برصغیر کے مسلمانوں کی فکری و عملی رہنمائی کی ہے۔ آپ نے ظاہری طور پر تھوڑی سی عمر میں بڑے بڑے یادگار کام کئے اور مسلمانان عالم کیلئے رہتی دنیا تک ان مٹ نقوش چھوڑے ۔نواب صاحب کی وفات ایک پراسرار معمے کی مانند ہے۔ 25جون 1944ء کو اپنے دوست جسٹس ہاشم خان کے گھر دعوت پر پہنچے، ابھی کھانے میں کچھ دیر تھی کسی نے نواب بہادر یارجنگ کے آگے حقہ رکھا۔ انہوں نے دوران گفتگو پہلا کش لیا تو چہرے کی رنگت بدل گئی۔ دوسرا کش لیا تو روح نے بدن کا ساتھ چھوڑ دیا۔ یوں مسلمانوں کا یہ ہیرو اللہ کو پیارا ہو گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

مزید : کالم