فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔ ۔ قسط نمبر 130

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔ ۔ قسط نمبر 130
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔ ۔ قسط نمبر 130

  

وہ جج صاحب کے گھر گیا تو وہاں ماں موجود نہ تھی۔ صرف بہن تھی اس نے گڈو کو ایک محسن سمجھ کر اس کی خاطرداری کی۔ گھر میں ایک چور گھس آیا تھا۔ فرار ہونے کی کوشش میں وہ گڈو سے ٹکرا گیا۔ دونوں میں ہاتھا پائی ہوئی اور اس کے نتیجے میں چور اپنے خنجر سے خود ہی ہلاک ہوگیا۔ حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے گڈو نے خاندان کو اسکینڈل سے بچانے کیلئے قتل کا الزام اپنے سر لے لیا تھا۔ پولیس کی سر توڑ کوشش کے باوجود اس نے کسی اور سوال کا جواب دینے سے صاف انکار کردیا۔ ہر سوال کے جواب میں وہ گم صم تھا۔ جج صاحب بھی اس بات پر بہت حیران تھے کہ گڈو اپنی صفائی میں کچھ کہنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ وہ اس کے احسان مند تھے اور اس کی ہر ممکن امداد بھی کرنا چاہتے تھے۔ گڈو کے پاس ہر سوال کے جواب میں صرف خاموشی تھی۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 129 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس کی دوست تاجی اور منہ بولا بھائی علمو اس حقیقت سے واقف ہوچکا تھا کہ گڈو جس لڑکی کی عزت اور جان بچانے کیلئے قتل کا الزام اپنے سر لے رہا ہے وہ اس کی بہن ہے۔ علمو کو یہ بھی معلوم تھا کہ اگر صفائی میں یہ کہا جائے کہ اپنی بہن کی عزت بچانے کی خاطر گڈو نے چور کا مقابلہ کیا تھا اور وہ چور خود اپنے ہی خنجر سے ہلاک ہوگیا تو وہ بچ سکتا تھا۔ مگر گڈو نے اسے سختی سے منع کردیا تھا کہ وہ اس بارے میں اپنی زبان نہ کھولے۔ جب خالدہ، گڈو سے ملنے گئی اور اس نے کہا کہ وہ عدالت کو بتا کیوں نہیں دیتا کہ اس نے اپنی بہن کی خاطر حفاظت خود اختیاری میں ایسا کیا ہے۔ تو گڈو کے پاس اس کیلئے بھی صرف ایک ہی جواب تھا۔

اس نے کہا ’’میں تو آپ لوگوں کیلئے کبھی کا مرچکا ہوں۔ دوبارہ پھانسی چڑھ گیا تو کیا فرق پڑے گا۔ مگر بدنامی کے جس داغ سے محفوظ رہنے کی خاطر آپ نے یہ سب دکھ سہے ہیں اب اس سیاہی کو میں اپنی بہن کے چہرے پر نہیں ملوں گا۔ آپ نے کسی وقت اپنے بھائی کی جان اور عزت بچانے کیلئے میری قربانی دی تھی۔ آج میں اپنی بہن کی جان اور عزت بچانے کیلئے دوبارہ قربان ہوگیا تو کیا فرق پڑے گا؟‘‘ خالدہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ گڈو نے اسے یہ قسم بھی دے دی تھی کہ وہ کسی صورت میں بھی دیرینہ راز پر سے پردہ نہیں اٹھائے گی۔ خالدہ ایک بار پھر مجبور اور بے بس تھی۔

حالات خدا جانے کیا صورت اختیار کرتے مگر علمو سے نہ رہا گیا اور اس نے جج صاحب کے پاس جاکر انہیں حقیقت سے آگاہ کردیا۔ وہ یہ سب کچھ سن کر سناٹے میں آگئے۔ انہوں نے خالدہ سے شکایت کرتے ہوئے کہا ’’خالدہ میں نے تمہیں اپنی شریک حیات بنایا تھا مگر افسوس کہ تم نے مجھ پر اعتبار نہیں کیا۔ کیا تم مجھے اتنا گرا ہوا انسان سمجھتی تھی کہ شادی کے وقت اگر مجھے یہ بتا دیتیں کہ تم ایک بچے کی ماں ہو جو تمہارے مرحوم شوہر کی نشانی ہے تو میں تمہاری ہر بات پر لفظ بہ لفظ یقین نہ کرتا اور گڈو کو ایک باپ ہی کا پیار نہ دیتا؟‘‘

مقدمے کی پیروی کے بعد گڈو کی بے گناہی ثابت ہوگئی اور اسے بری کردیا گیا۔ اس طرح ایک تکلیف دہ اور طویل داستان اختتام کو پہنچی۔ یہ تو صرف ایک اغوا شدہ عورت، اس کے بچے اور اس کے خاندان کی کہانی تھی۔ دوسرے لوگوں پر کیا بیتی اور ان کی کہانیاں کیا ہیں؟ یہ الگ داستان ہے۔

’’سزا‘‘ کی اس کہانی کو حقیقت سے قریب رکھنے کیلئے ہم نے اپنی طرف سے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ طنز و مزاح کا عنصر بھی اس میں کم نہیں تھا۔ کچھ اور مزاحیہ کردار بھی اس کہانی میں شامل تھے۔ تاجی اور گڈو جس ماحول میں رہتے تھے اسی کے مطابق ان کا سادہ سا رومان دکھایا گیا تھا۔ علمو کے ساتھ صاعقہ (سِلویا،یہ ایک عیسائی فنکارہ تھی ) کو ایک ڈنگر ڈاکٹر (ساقی) کی بیٹی کے طور پر کاسٹ کیا گیا تھا۔ ناشاد صاحب نے اس فلم کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ نغمات قتیل شفائی صاحب نے لکھے تھے۔ اس فلم کے کئی گانے بہت مقبول ہوئے جن میں سے بعض کی اب بھارتی فلموں میں نقلیں بھی کی گئی ہیں۔

جب بھی چاہیں ایک نئی صورت بنالیتے ہیں لوگ

ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ

اور

میرے جوڑے میں گیندے کا پھول

تجھے میں کیسی دیکھوں

اور دوسرے نغمے خاصے پسند کیے گئے۔ موسیقی کے سلسلے میں یہ بتاتے چلیں کہ ہم نے ناشاد صاحب کو موسیقار منتخب کیا تھا۔ ان سے کافی مراسم تھے۔ اس زمانے میں ان کیلئے فلموں کے زیادہ تر گانے تسلیم فاضلی لکھتے تھے۔ ہم قتیل شفائی صاحب سے وعدہ کرچکے تھے۔ ناشاد صاحب سے یہ بات ہوئی تو وہ سوچ میں پڑگئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان دونوں حضرات کے مابین کشیدگی ہے۔ اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ کام نہیں کرتے۔

ہم نے کہا ’’بھائی ہم آپ کی کشیدگی بھی دور کردیں گے‘‘۔

بولے ’’قتیل صاحب کو میوزک کیلئے میرے گھر آنا پڑے گا‘‘۔

ہم نے کہا ’’یہ تو کوئی شرط نہیں ہوئی‘۔

کہنے لگے ’’سن لیجئے میں کسی قیمت پر بھی ان کے گھر جاکر کام نہیں کروں گا‘‘۔

ہم نے قتیل صاحب سے بات کی تو وہ بھی اکڑے ہوئے تھے۔ بڑی مشکل سے انہیں گانے لکھنے پر رضا مند کیا۔ طے یہ پایا کہ دونوں حضرات ایور نیو اسٹوڈیو میں ہمارے دفتر میں آکر کام کریں گے اور پچھلی تلخیاں فراموش کردیں گے۔۔۔ ہم جانتے تھے کہ ایک دوسرے کے سامنے آتے ہی برف پگھل جائے گی اور ایسا ہی ہوا۔ ہمارے دفتر میں دونوں صاحبان یکجا ہوئے تو کچھ دیر تو گلے شکوہ ہوتے رہے۔ مگر اس کے بعد دونوں کے دل صاف ہوگئے اور فلم کی موسیقی بنانے کا کام بہت خوش اسلوبی سے ہوگیا۔

’’سزا‘‘ کی کہانی تو ہم نے لکھ لی تھی۔ اسکرپٹ تیار تھا اور ہم خود ہی اس کی ہدایت کاری بھی کرنا چاہتے تھے مگر ان ہی دنوں ہم بیمار ہوگئے۔ نواب ہمایوں مرزا صاحب سے ہماری پرانی یاد اللہ تھی۔ خاصی بے تکلفی اور میل جول تھا۔ وہ ہماری مزاج پرسی کیلئے آئے تو کہنے لگے ’’آفاقی صاحب! آپ کی تو صحت ٹھیک نہیں ہے۔ چلئے ہم آپ کو اسسٹ کردیں گے‘‘۔

ہم نے کہا ’’مرزا صاحب کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔ آپ اتنے بڑے ہدایت کار ہیں۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ آپ یہ فلم ڈائریکٹ کردیں مگر ہمارے ساتھ وہ سلوک ہرگز نہ کریں جو دوسرے ہدایت کار عموماً فلم سازوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں‘‘۔

وہ ہنسنے لگے ’’یار کیسی باتیں کرتے ہو۔ نہ ہم ڈائریکٹر۔ نہ تم فلم ساز۔ بس مل جل کر بھائیوں کی طرح کام کرلیں گے‘‘۔

ہم نے ان سے معاوضہ طے کیا اور اسکرپٹ ان کے حوالے کردیا۔ تاکہ وہ اس کے بارے میں اپنی ہدایت کارانہ رائے سے مطلع کریں۔

مرزا صاحب کو اسکرپٹ اور کہانی کا موضوع بہت پسند آیا۔ اس وقت تک ہم فلم کیلئے تمام اداکاروں کا انتخاب کرچکے تھے۔ مرزا صاحب نے بھی اس سے اتفاق ظاہر کیا۔ معمولی سی تبدیلیوں کی فرمائش کی مگر ہم نے یہ کہہ کرمنا لیا کہ ہم سب کو زبان دے چکے ہیں۔

یہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ ’’سزا‘‘ کی کہانی تو ہم نے سوچ لی تھی مگر اس کیلئے موزوں اداکاروں کا انتخاب شروع ہی سے ایک مسئلہ تھا۔ سب سے پہلے مسئلہ تو وہی سوال تھا جو طارق صاحب نے ہم سے دریافت کیا تھا کہ فلم کے ہیرو کیلئے نو عمر اداکار کہاں سے لائیں گے؟ اس کے بعد دوسرا مسئلہ ہیرو کی بہن کا تھا۔ یہ ہیرو سے کم از کم چار پانچ سال چھوٹی تھی۔ اس عمر کی کوئی اداکارہ اس وقت فلمی دنیا میں دور دور تک نظر نہیں آتی تھی۔ یہ بھی ایک اہم کردار تھا۔ اس لڑکی کا معصوم، الھڑ اور نوعمر ہونا بہت ضروری تھا۔ اس کے بعد دوسرے اداکاروں کا مسئلہ بھی کچھ کم پریشان کن نہ تھا۔ گڈو غریبوں کی جس بستی میں رہتا تھا وہاں ایک شوخ و شنگ مگر سیدھی دسادی سی غریب لڑکی اسے پسند کرنے لگتی ہے مگر سوائے جھگڑے کے اظہار محبت کا کوئی طریقہ اسے معلوم نہیں ہے۔ اگر ہیرو کی عمر بیس اکیس سال ہے تو یہ لڑکی عمر میں اس سے بھی کم ہونی چاہئے۔ اب ایسی لڑکی کہاں سے لائیں؟ اصل بات یہ تھی کہ ہم ہر طرح اس فلم کو زیادہ سے زیادہ نیچرل بنانا چاہتے تھے۔

ہیرو کے منہ بولے بھائی اور دوست کیلئے ایک اسی کے ہم عمر اداکار کی ضرورت تھی۔ اس ایج گروپ کے مزاحیہ اداکار بھی اس وقت فلمی صنعت میں موجود نہیں تھے۔ لہری صاحب اس زمانے میں بہت زوروں پر تھے اور اردو فلموں کیلئے بہترین کامیڈین تصوّر کیے جاتے تھے مگر یہ عمر میں ہیرو سے کہیں زیادہ نظر آتے تھے۔ پھر بھی ہم نے لہری صاحب کو ذہن میں رکھ کر یہ کردار لکھا اور اس کے مکالمے بھی ایسے تحریر کیے جو لہری صاحب کیلئے موزوں ہوں۔ لہری کا کامیڈی اور مکالموں کی ادائیگی کا ایک مخصوص انداز تھا۔ وہ ایکشن یا بھاگ دوڑ کے ذریعے کامیڈی نہیں کرتے تھے۔ ان کیلئے برجستہ، شگفتہ اور مسکراتے ہوئے فقرے بہت ضروری تھے۔ ان کی بڑی عمر کا ہم نے یہ علاج سوچا کہ وہ گڈو کے حقیقی بھائی تو تھے نہیں۔ اس کی منہ بولی ماں کے بیٹے تھے اور بعد میں گڈو کے ساتھ ہی پل کر بڑے ہوئے تھے۔ انہیں اگر گڈو سے پانچ چھ سال بڑا دکھایا جاتا تو کوئی حرج نہ تھا۔ مگر شرط یہ تھی کہ بچپن میں بھی دونوں کی عمروں کا یہی فرق نظر آئے۔ یہ سوچ کر ہم نے لہری صاحب کو اس کردار میں لینے کا فیصلہ کرلیا۔ مگر سب سے پہلا مرحلہ ہیرو کا تھا۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔ ۔ قسط نمبر 131 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -