شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 80

شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 80
شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 80

  

جن لوگوں نے برطانیہ میں اسلام کو ایک اخوت و مساوات کی تحریک کی حیثیت سے متعارف کرایاہے ان میں میرے مرشد کریم حضرت پیر صاحب کو امتیازی مقام حاصل ہے۔ وہ نصف صدی سے بیدار دماغ اور مستعد قوت عمل سے شب و روز تبلیغ اسلام میں مصروف ہیں۔ برطانیہ کے غیر متعصب اور انصاف پسند انگریز صحافیوں نے ہمیشہ انہیں اپنے قلم سے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ورلڈ اسلامک مشن بھی انہی کی سوچ کا عملی اظہار ہے لیکن بحیثیت ایک تنظیم بہت بعد میں وجود پذیر ہوئی۔قبلہ پیر صاحب کا کام تو اس روز سے شروع ہو گیا جس روز انہوں نے برطانیہ کی سرزمین پر اپنا پہلا قدم رکھاتھا۔ 

شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 79 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

میرے مرشد کریم کودینی تعلیم پھیلانے کا بہت زیادہ شوق ہے۔آپ نے جب فیکٹری مزدور کے طور پر روزگار کے حصول کا سفر شروع کیاتو رات کی شفٹوں کو ترجیح اس لئے دیتاکہدن کو مسلمان بچوں کو اپنی قیام گاہ پر ناظرہ قرآن حکیم پڑھانے اور ابتدائی اسلامی باتیں تعلیم کرنے کا کام شروع کیا جاسکے۔ اس علاقہ کے لوگوں کو یہ کام بہت پسند آیا انہوں نے قبلہ پیر صاحب سے تعاون شروع کر دیا اور کام کی رفتار تیز ہو گئی۔ جب لوگ زیادہ قریب آئے اور انہوں نے دیکھا کہ حضرت صاحب کے عزائم بہت بلند ہیں اور ان میں اللہ تعالٰی نے وہ اوصاف بدرجہ اتم ودیعت کئے ہیں جو اوصاف ایک پیر طریقت اور رہبر شریعت کیلئے ضروری ہیں تو وہ معاون کی حیثیت سے بڑھ کر عقیدت مندوں کی صف میں داخل ہو گئے۔ اس طرح ساٹھ عقیدت مندوں کے ساتھ جمعیت تبلیغ الاسلام کی بنیاد رکھ دی گئی۔

برطانیہ کے لوگوں کا بلکہ یورپ میں تمام مسلمان باشندوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی اولادیں سیکولر سکولوں میں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ معاشرہ سیکولر ہے اور خاص طور پر اسلامی اقدار سے بیگانہ ہے۔ وہ اسی سوسائٹی میں جوان ہو کر اپنا دینی وابستگی کا اثاثہ کھو بیٹھتی ہیں۔ حضرت پیر سید معروف حسین شاہ عارف قادری نوشاہی ؒ نے اپنے مقدس کام سے ان کے مسئلہ کے حل کی طرف ان کی راہنمائی کر دی تھی۔ اس لئے وہ چاہنے لگے کہ پیر صاحب کے کام میں توسیعی صورت اختیار کی جائے۔ ضروری سمجھا گیا کہ ایک سنٹر قائم کیا جائے جہاں لوگوں کو اسلام کی تعلیم دی جائے۔ ایسے سنٹر کو ہی اسلام نے ’’مسجد کے پاکیزہ لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ چنانچہ پیر صاحب کی تحریک پر سب لوگوں نے مل کر پیر صاحب کی قیام گاہ کے عین سامنے جگہ خرید لی۔ 1967ء میں پلاننگ پرمشن حاصل کر لی گئی۔ اس طرح 68-69ء ساؤتھ فیلڈ سکوائر جمعیت تبلیغ الاسلام کی مرکزی مسجد بن گئی ۔ یہاں سے کام کا آغاز ہوا جو اللہ کے فضل سے پھیلتا چلا گیا۔

حضرت پیر معروف شاہ صاحب کے متعلق ہم عرض کر چکے ہیں کہ وہ تبلیغ کو فرض کے ساتھ عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ اس لئے اپنے کام سے کبھی تھکتے نہیں اور نہ کبھی مطمئن ہوتے ہیں کہ اب فرائض کی تکمیل ہو چکی کام پورا ہو گیا ۔۔۔ہم بتا چکے ہیں کہ نہیں اس کام سے عشق ہے اور عشق کی انتہائی ہوتی ہی نہیں عشق کی انتہائی چاہنا تو حماقت ہے۔

عبدالرحیم نوشاہی صاحب قبلہ پیر صاحب کی شخصیت کے ہر پہلو کے گرویدہ ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت پیر معروف شاہ صاحب ایک وسیع الجہات شخصیت کے مالک ہیں اور اپنی شخصیت کی ہر جہت کے متعلق انہوں نے میدان عمل منتخب کر رکھا ہے اور ہر میدان میں ہمہ قت سرگرم عمل نظر آتے ہیں۔ وہ بہت بڑے عالم دین ہیں اور اپنے اس علم کا اظہار زبان و قلم سے کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تقریریں سنیں تو آپ سمجھیں گے کہ علم کا سمندر بادل بن کر برس رہا ہے۔ ہر موضوع پر مشرق و مغرب کی مختلف زبانوں میں اظہار خیال کر سکتے ہیں اور کرتے رہتے ہیں۔ قلم میں قوت بھی ہے اور روانی بھی، جہان ضرورت ہوتی ہے قلم کو حرکت میں لاتے ہیں اور حکمت و دانش کے ساتھ وسعت مطالعہ کی دھاک بٹھاتے چلے جاتے ہیں۔ ان کا علم کبھی باسی نہیں ہوتا کیونکہ وہ اسے ہر وقت تازہ اور اپ ٹو ڈیٹ رکھنے کی دھن میں رہتے ہیں۔ عربی، فارسی، اردو، انگریزی وغیرہ زبانوں میں جو کتاب تازہ مارکیٹ میں آتی ہے، اسے اپنی لائبریری کی زینت بنانے میں مستعدی دکھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی لائبریری بہت بڑی ہے۔ پھر یہ کہ وہ ہر موضوع پر مطالعہ کرتے ہیں۔ علم و ادب، تاریخ، ثقافت، سائنس غرضیکہ مختلف شعبہ ہائے علوم میں سے ہرشعبہ پر ان کی گرفت رہتی ہے۔ دینی علوم میں بھی ہر شعبہ ان کی دسترس میں ہے۔ تفسیر، حدیث، فقہ اسماء الرجال کوئی جہت ایسی نہیں جو ان کی بالغ نظری کہ شہادت فراہم نہ کر کے۔ پیر صاحب ایک عالم باعمل کے ساتھ پیر و مرشد اور ہادی راہِ سلوک بھی ہیں وہ اپنے مریدوں کی روحانی تربیت کرتے ہیں۔ تصوف، متصوفین، صوفیا، و اولیا کے سوانح وغیرہ علوم پر بھی۔ ان کی لائبریری ہر سالکِ راہ طریقت کی علمی تشنگی بجھاتی ہے اور ان کی ذاتی رہنمائی بروقت ہدایت فراہم کرتی ہے۔ جسمانی کے ساتھ روحانی علاج بھی تعویذ و دوا وغیرہ سے کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح بھی ان کا آستانہ دکھیاروں کی امیدگاہ ہے۔

قبلہ پیر صاحب اس قدر وسیع الجہات اور جامع حیثیات ہیں کہ ان کے کسی ایک پہلو اور ایک ہی جہت کا احاطہ کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ کجا کہ ان کی ساری حیثیات زیر قلم لائی جا سکیں۔

پیر صاحب اس وقت بھی مختلف تنظیمیں چلا رہے ہیں۔ تبلیغ الاسلام، ورلڈ اسلامک مشن، بزم نوشاہی مسلمانان کشمیر کا اتحاد مسلمانانِ اہل سنت کا اتحاد (فیڈریشن آف مسلمز اہل سنہ) بریلوی مسلک کے علماء کا اتحاد پھر ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ تمام کام صرف برطانیہ میں نہیں ساتھ ساتھ اپنے ملک پاکستان میں بھی وہ اسی طرح سرگرم عمل ہیں اور وفتاً فوقتاً پاکستان جاتے رہتے ہیں۔

لیکن جو خدمات آپ نے برطانیہ میں انجام دی ہیں ان کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔۱۹۶۷ میں چھ سال بعد پیر صاحب برطانیہ سے واپس اپنے وطن پاکستان آئے، یہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد ۶۸میں پاکستان کے مایہ ناز عالم دین ،شہرہ آفا ق مبلغ اہل سنت مرکزی جامعہ حنفیہ سیدپوری روڈ راولپنڈی کے خطیب و امام حضرت علامہ مولانا الشاہ محمد عارف اللہ قادری میرٹھی کو برطانیہ کے تبلیغی دورہ پر عراق بغداد شریف کی زیارات کے بعد برطانیہ اپنے ہمراہ لائے، شاہ صاحب کے تبلیغی پروگرام بریڈفورڈ، شفیلڈ، ڈربی، برمنگھم، چیشم ، بارکنگ، کینگ ٹاؤن ، ہائی ویکمب بکس، لیسٹر، نوٹنگھم، مانچسٹر ،بری میں کرائے۔انکے خطابات پر اہلسنت و جماعت کا پرچار خوب ترہونے لگا، امامِ اہل سنت اعلی حضرت فاضلِ بریلوی ؒ کامشہور زمانہ سلام :۔ مصطفےٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام ہر طرف فرنگستانی فضاؤں میں گوجنے لگاہے۔ بریڈ فورڈکے علاوہ کیتھلے، ہیلی فیکس، اولڈھم، پرسٹن، شفیلڈٖ، لوٹن، جمیعت تبلیغ الاسلام کی شاخیں قائم ہونے لگیں،وہاں کی مساجد میں لائبریوں کیلئے اہل سنت وجماعت مسلک کی کتب بھی مہیا کی گئیں،علماء کرام ،مشائخ عظام کے تبلیغی اجلاس برطانیہ بھر کے ہر چھوٹے بڑے شہر و قصبہ میں قرآن و حدیث اور عشق رسول کی تعلیمات کو اجاگر کرنے کیلئے بیانات و خطابات کرا ئے گئے، جس پر مسلمانوں میں ا سلامی زندگی گزارنے کا جذبہ بیدار ہوتے ہوئے برطانیہ کے ہر شہر میں بچوں کی دینی تعلیمات کیلئے مساجد اور مراکز کے قیامِ عمل ظہور پذیر ہونے لگے ہیں۔

عبدالرحیم نوشاہی صاحب قبلہ پیر صاحب کی خدمات پر انہیں منظوم بیانئے میں یوں سراہتے ہیں۔

واحد ذات معبود مسجود اللہ کارن بندگی رب غفّار ساڈے

ہولناکیاں یوم حساب ویلے ناصر ہون گے نبی ﷺ مختار ساڈے

غوث پاک بغدادیا پیر میراں ڈبے بیڑیاں کردے پار ساڈے

نوشہ پیر دا پکڑ دلشادؔ دامن برقؔ پیر ہوسن مددگار ساڈے

(*)

سیّد پیر معروف حسین عارفؔ ؔ عالی سلسلہ نوشاہیہ دے پیر آئے

وطن پاک تھیں ٹُر انگلینڈ نگری برمی گام دے شہر شہیر آئے

جذبہ دین اسلام دا رکھ سینے برقؔ پیر دے لاڈلے ویر آئے

عشق مصطفےٰ لے دلشادؔ نوری اھل سنت دے بن سفیر آئے

(*)

پیرس جرمنی بلجم ہالینڈ یورپ سچے دین دی کرن تشہیر آئے

کفر شرک دے بت مسمار کرنے نوشہ پیر دے بدر منیر آئے

دھماں دھمیاں وچ انگلینڈ نگری کامل پیر ایہہ روشن ضمیر آئے

غفلت جہل نوں دُور دلشادؔ کرنے حلم وحکمت دی لے تدبیر آئے

(*)

بت کدے تثلیث دیار اندر نغمے دین اسلام دے گان آئے

دسن بھُلیاں راہ ہدائت سدھے سبق عشق توحید پڑھان آئے

درس فقہ حدیث حنیف لیکے کنزالایمان تفسیر قرآن آئے

ہرتھاں عشق رسول دلشادؔ مسلک اعلیٰ حضرت دا فکر ورتان آئے۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)

شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 81 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ