جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی داستان۔ ۔ ۔ گیارہویں قسط

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی داستان۔ ۔ ۔ گیارہویں قسط
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی داستان۔ ۔ ۔ گیارہویں قسط

  

گرتے گرتے آخری فقرہ جو میری سماعت سے ٹکرایا وہ تھا۔۔۔’’اس حرامی کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالو‘‘ اس کے بعد میں ہوش و خرد کی دنیا سے دور چلا گیا۔ درد کی ایک تیز لہر مجھے دوبارہ ہوش کی دنیا میں کھینچ لائی۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ ایک تنگ سے کمرے میں فرش پر بچھی چٹائی پر پڑا تھا۔ مدہم روشنی والا بلب کمرے کی تاریکی کو دور کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو سر میں اٹھتی درد کی تیز لہر نے بے اختیار کراہنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے درد والی جگہ پر ہاتھ رکھا تو میرا ہاتھ چپچپانے لگا۔ بے ہوشی کا سبب بننے والی غالب بندوق کے بٹ کی وہ ضرب تھی جو سر کے پچھلے حصے پر لگائی گئی تھی۔ اس سے میرا سر پھٹ گیا تھا اور کچھ خون رس کر جم چکا تھا۔

وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔دسویں قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

’’یہ سب کیا ہے۔۔۔؟؟اگر کوئی سازش ہے تو کسی کو میرے ساتھ کیا دشمنی ہو سکتی ہے؟‘‘ میں نے دکھتے سر کے ساتھ سوچ اور ہمت کرکے دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی۔ بڑی مشکل سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ سر سے ٹیسیں نکل رہی تھیں۔ نظر گھما کر دایءں بائیں دیکھا سلاخوں والا دروازہ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ میں تھانے میں بند ہوں۔

رات کی تاریکی اور خاموشی نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ مجھے لانے والے نہ جانے کہاں چلے گئے تھے؟ میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر اس وقت کو کوسنے لگا جب میں نے اس لڑکی کو لفٹ دی تھی ۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ چمپا نے یہ کیوں کہا کہ میں دھوکے سے اسے گاڑی میں ڈال کر لے جا رہا تھا اور انسپکٹر دو لڑکیوں کا قتل میرے کھاتے میں ڈال رہا تھا۔ یہ سارا گورکھ دھندا میری سمجھ سے باہر تھا۔ نہ جانے کتنی دیر میں اپنے خیالوں میں کھویا رہا۔ اچانک مجھے باہر سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی جو آہستہ آہستہ قریب آرہی تھی۔ تالہ کھلنے کی آواز آئی اور کوئی اندر آگیا۔ میں نے سر گھما کر دیکھا اور بری طرح اچھل پڑا۔ اندر آنے والا وہی خبیث صورت سادھو تھا۔ سادھو امرکمار۔جو مجھے پہلے بینک، دوسری بار کھیتوں کے پاس ملا تھا۔ جب میں ملنگ کے پیچھے جا رہا تھا۔ اب وہ میرے سامنے کھڑا بڑی گہری نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس کے بدن پر آج بھی صرف ایک دھوتی تھی۔ پاؤں میں اس نے لکڑی کے کھڑاؤں پہن رکھے تھے اور انگلیاں حسب معمول موٹی موٹی سی مالا کے دانوں پر حرکت کر رہی تھیںَ۔

کمرے میں ناگوار بو پھیل گئی تھی۔ جس کا منبع یقیناً یہی مردود تھا۔ ایک سپاہی اس کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ پل بھر میں ساری بات میری سمجھ میں آگئی۔ اب ہم دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے۔

’’تو یہ سب کچھ تیرا کیا دھرا ہے‘‘ غصے سے میرا چہرہ تپ گیا۔ کچھ دیر وہ خاموش کھڑا مجھے گھورتا رہا پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔

’’تو واقعی مورکھ ہے تیرے سر میں بدھی(عقل) کے بجائے بس بھرا ہے۔ اس سمے میں دیوی کے کارن تیری سہائتا کرنے آیا ہوں اور تو ہے کہ مجھے ہی دوش(الزام) دے رہا ہے‘‘ اس نے افسوس سے سر ہلایا۔ ’’یدی میں اس سمے یہاں نہ آتا تویہ لوگ تیرے سنگ جانے کیا کرتے؟ میرے اپکار(احسان) کو ماننے کے بجائے تو الٹا مجھے ہی دوشی ٹھہرا رہا ہے تو واقعی مورکھ ہے ۔ جانے دیوی کو تجھ میں کیا نجر آیا ہے جو مجھے بار بار تیری سہائتا کے واسطے بھیج دیتی ہے؟‘‘ وہ مجھے یوں دیکھ رہا تھا جیسے میں نے نہایت احمقانہ بات کہہ دی ہو۔ میری کنپٹیاں سلگ اٹھیں۔ اب تک جو کچھ میرے ساتھ ہوا۔۔۔میری جتنی تذلیل ہوئی تھی اس کا باعث یہی منحوس تھا۔ رگوں میں خون جوش مارنے لگا۔ اچانک میرا ہاتھ گھوما اور سادھو کے چہرے پر زناٹے سے پڑا جو کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ تھپڑ مارتے ہوئے میں نے سارے جسم کی قوت استعمال کی تھی باوجود بھاری تن و توش کے وہ بری طرح لڑکھڑا گیا اور گرتے گرتے بچا۔ کچھ تو وہ اپنے دھیان کھڑا تھا اورمیں بھی مارتے ہوئے پوری طاقت استعمال کی تھی۔

’’تو کیا سمجھتا ہے اس قسم کی دھکمیوں سے میں ڈر جاؤں گا؟ یاد ہے میں نے تجھ سے کہا تھا میرے سامنے نہ آنا ورنہ وہ حشرکروں گا کہ یاد رکھے گا‘‘ غصے سے میرا بھرا حال ہوگیا۔ تھپڑ کھا کر اس کا چہرہ غصے سے تپ گیا۔ آنکھیں جو پہلے ہی لال تھیں انگارہ بن گئیں۔حیرت اور صدمے سے وہ گنگ ہوگیا۔ اسے شاید مجھ سے اس قسم کے سلوک کی توقع نہ تھی۔ وہ سمجھ رہا تھا میں اسے دیکھتے ہی منتیں کروں گا اور اس سے مدد کی بھیک مانگوں گا۔ مالا کے دانوں پر حرکت کرتی انگلیاں ساکت ہوگئی تھیں۔ وہ کسی سانپ کی طرح پھنکارا۔

’’پاپی تو نے سادھو امر کمار پر ہاتھ اٹھا کر گھور پاپ(بہت بڑا گناہ) کیا ہے۔ اس دن بھی میں نے دیوی کارن تجھے شما کر دیا تھا۔ پرنتو آج جو پاپ تو نے کیا ہے یدی دیوی بھی چاہے تو اب تجھے میرے شراپ (سزا) سے نہ بچاپائے گی۔میں تجھے ایسا شراپ دوں گا کہ تو نرکھ (جہنم) میں جا کر بھی مجھے نہ بھول پائے گا۔‘‘

وہ مڑا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ سپاہی جو اس دوران بالکل خاموش کھڑا تھا وہ بھی جلدی سے باہر نکلا اور دروازہ بند کرکے تالا لگا دیا۔ کچھ دیر تو میں کھڑا غصے میں پیچ و تاپ کھاتا رہا پھر آہستہ آہستہ پر سکون ہو کر دوبارہ چٹائی پر بیٹھ گیا۔ میرے بڑے بھائی کے چیف منسٹر صاحب کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات تھے۔ میں فقط اس انتظار میں تھا کہ صبح ہو اور میں کسی سپاہی کو کچھ ’’دے دلا‘‘ کر اس بات پر آمادہ کر لوں کہ وہ میرے گھر فون کرکے ان کو ساری صورتحال بتا دے۔ مجھے یقین تھا کہ فوراً سے پہلے علاقے کا ایس پی خود یہاں آکر مجھ سے معافی مانگے گا اور تھانہ انچارج کو عملے سمیت معطل کر دے گا۔

سردی بڑھتی جا رہی تھی۔ میں صرف پینٹ شرٹ پہنے ہوئے تھے۔ سادھو سے میری نفرت دو چند ہوگئی تھی۔ اس حرام زادے کی وجہ سے میں یہاں اس حال میں پڑا تھا۔ وہ بڑا کینہ توز انسان تھا۔ آج اس سے نے مجھ سے اس دن کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے یہ سب کچھ کروایا تھا۔ غلطی میری بھی تھی میں نے خواہ مخواہ گاڑی روک کر چمپا کو بٹھایا۔

مجھے خود پر شدید غصہ آرہا تھا۔ کردار کے لحاظ سے میں ایک صاف ستھری زندگی گزارتا آیا تھا۔ آج میں قصر مذلت میں گرنے کی پوری تیاری کر بیٹھا تھا۔ یہ تو اس رحیم و کریم اللہ تعالیٰ کی مہربانی تھی کہ میں گناہ کبیرہ سے بچ گیا۔ میرا ضمیر مجھے بار بار ملامت کر رہا تھا لیکن میرا قصور بھی نہ تھا۔ نہ جانے اس لڑکی کی آنکھوں میں کیسا سحر تھا کہ میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ انہی سوچوں میں گم بیٹھا تھا کہ دوبارہ مجھے قدموں کی آواز سنائی دی جو دم بدم قریب آرہی تھی۔(جاری ہے)

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی داستان۔ ۔ ۔ بارہویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

رادھا -