انقلاب جسے انقلابی کھا گئے

انقلاب جسے انقلابی کھا گئے
انقلاب جسے انقلابی کھا گئے

  

گوجرانوالہ میں آفریدی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ممتاز امپورٹرز حیات خان ، لندن پلٹ میاں عامر اور اینٹرپینیور باؤ حفیظ کہتے ہیں عمران خان نے سابق حکمران جماعت کو دیوار سے لگا دیا ہے اور آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کا دھڑن تختہ ہوجائے گا۔

مرکز میں پی ٹی آئی تخت حکمرانی پر جلوہ افروز ہوگی ، پنجاب میں نیا دربار سجے گا ، خیبر پختونخوا میں لشکری دوبارہ خیموں میں لنڈھائیں گے اور سندھ میں بھی اکا دکا پیامبر بوسیدہ فصیلوں میں نقب لگانے کی کوشش کریں گے۔ ویل۔۔۔ کیا واقعی ایسی سوچ زمینی حقائق کے عین مطابق ہے؟عمران خان سے قوم نے بے پناہ پیار بھی کیا اور غلط فیصلوں پر جی بھر کر کوسا بھی۔

اس کی شدید محنت نے ہمیشہ پرانی غلطیوں کو دھندلایا۔ وہ جہاں بھی گیاپیار سمیٹا، امید کی کرن بنا ۔ سیاسی محاذ ، مخالفین پر تابڑ توڑ حملے کئے ، پروپیگنڈہ اس قدر شدت سے کیا جیسے ہمالیائی تو دوں سے پھوٹتا پانی۔ اوسط درجے کی جماعت، ستر فیصد ناتجربہ کار کارکن، لیکن تبدیلی کے نعرے نے ایک زمانے کو مسحور کیا۔ تاہم تبھی۔۔۔تبھی یہ سوال پوری شدتوں سے اٹھا کیا عمران خان جیتی ہوئی بازی ہار رہے ہیں؟

بازی کیا تھی؟ پرانے حریفوں کو ٹھکانے لگانا۔ وہ60فیصد کامیاب بھی رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو ابتدائی جھٹکوں میں اس قدر بے توقیر کر دیا کہ پنجاب میں عزت بچانا مشکل۔ جلسے جلوس، دھرنے اور پانامہ سکینڈل کے فالو اپ کی صورت عمران خان متواتر بلندی پر گئے۔

اتنی بلندی ۔۔۔اتنی بلندی۔۔۔کہ وہ نیچے بکھرے کارکنوں، تنظیمات کو ہی بھلا بیٹھے۔آخر پی ٹی آئی میں مسئلہ کیا چل رہا تھا؟ چودھری سرور کی صورت پنجاب کے ضلعوں، قصبوں میں اٹھان لیتی پی ٹی آئی کو پاتال سی گہرائیوں میں دھکیلنے والے کون تھے؟۔ عمران خان کو بن بتی کے سائیکل چلانے پر کون مجبور کر رہا تھا؟ جہانگیر ترین ، علیم خان،شاہ محمود قریشی۔ کیا ان احباب نے عمران خان کی سوچ کو ہائی جیک کر لیا یا بنی گالہ کی نشستوں میں مستقبل کی کامیابیوں کے سرور نے پنجاب میں نمودار ہوتی تباہی کو ڈھانپ لیا تھا۔

اگر لغزشوں کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو جناب عمران خان صاحب ،چیئرمین پاکستان تحریک انصاف ،پنجاب میں بہت بڑی ہار آپ کا انتظار کر رہی ہوگی۔ قطعا یہ نہ سمجھئے گا وجہ مسلم لیگ(ن) کی مقبولیت ہوگی، یہ بھی خیال نہ کیجئے گا لوگ آپ سے خفاء ہو چکے ہیں اور یہ گمان بھی قریب نہ پھٹکنے دیجئے آئندہ دھاندلی ہوگی۔ ایسا کچھ بھی نہیں جیتی بازی ہارنے کے براہِ راست ذمہ دار آپ اور صرف آپ خود ہوں گے۔ آپ اپنی ٹیم میں موجود کھلاڑیوں کو فرنٹ پر لانے کی بجائے دوسری ٹیموں کے ’’ گھوڑوں‘‘ کے انتظار میں سونے سے بھی زیادہ قیمتی وقت گنوا چکے ہیں۔

کارکن کان لگا کر سننے کی کوشش کرتے رہے عمران خان آج کل کہاں ہیں۔ تخت ہوا پر سوار ایک ہی بازگشت سنائی دیتی تھی ’’بنی گالہ‘‘۔ دوسرے شہر تو اس قابل ہی نہیں تھے عمران خان تنظیمات پر براہ راست توجہ دے سکتے۔

البتہ کبھی کبھار یہ ضرور سننے میں آتا خان صاحب ’’ایک روزہ دورے ‘‘ پر لاہور تشریف لا رہے ہیں۔ یہ وقت لاہور میں مستقل ڈیرے لگانے کا تھا۔ یہ ساعتیں پنجاب بھر کے طوفانی تنظیمی دورے کرنے کی تھیں، لیکن خان صاحب کو کمرے کی حد تک محدود کر دیا گیا۔ عوامی پذیرائی، ہموار سیاسی میدان اور موافق حالات کی اس سے بڑی بے توقیر ی اور ناشکری نہیں ہوسکتی تھی۔ 

انتخابات عین سر پر اور ایسے بے بس لاوارث کارکن، اس قدر پھسپھسی تنظیمیں، کسی کو کوئی ہوش نہیں کون انہیں ہدایات دے گا، کس کو جوابدہی کرنا ہوگی، بس سبھی سیاسی حریف کی متوقع شکست کے زعم میں دم پر دم مارے جا رہے ہیں۔راجن پور، ڈی جی خان،ملتان ، خانیوال، بہاولپور،لیہ، اوکاڑہ، ساہیوال، گجرات، جہلم سمیت تقریباً پورے پنجاب میں تنظیمات جامد، مقامی قیادتیں سر سے پاؤں تک باہمی اختلافات میں لتھڑیں اور کارکن منتشر نظر آ رہے ہیں۔

ذرا گوجرانوالہ پر نظر دوڑائیں۔ پرانے عہدیداران،نئے نامزد لیڈر اور نظریاتی کارکن سبھی عالم لاہوت میں جھانک رہے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے ایم پی اے، ایم این اے گلیوں محلوں میں سائے کی مانند لوگوں کے تعاقب میں اور پی ٹی آئی رہنما و کارکن تاریک شاہراؤں پر کالے شاپروں کی مانند فٹ پاتھوں سے سر ٹکرا رہے ہیں۔

اب ان حالات میں جبکہ ضلعی و سٹی قیادتیں گھروں میں محصور ہو چکی ہیں، کارکنوں کو متحرک کون کرے گا؟ عمران خان یہ کام کر سکتے تھے، لیکن بنی گالہ پر قابض ٹولے نے انہیں ٹریپ کرتے ہوئے کہا وہ مستقبل کے وزیراعظم ہیں، تنظیمات اور کارکنوں کو ہمارے حوالے کریں یہ چھوٹے موٹے معاملات ہم نمٹا لیں گے۔ عمران خان نے ان پر یقین کرتے ہوئے عہدے تفویض کئے۔ بس اسی دن سے تباہی شروع ہوگئی۔ پنجاب کا مرکزی علاقہ علیم خان کے سپرد ہوا، اور علیم خان نے خود کو کارکنوں سے دور کہیں بہت ہی دور چھپا لیا۔

اب ایسے حالات میں پنجاب چھیننے کی باتیں مذاق نہیں تو اور کیا ہوں گی۔ تاہم پنجاب اگر مسلم لیگ(ن) کے ہاتھوں سے نکلا تو کمال عمران خان کا نہیں،بلکہ ان پہاڑ جیسی غلطیوں کا ہوگا جو نواز لیگ سے سرزد ہو ئیں۔ پنجاب بھر کے این اے حلقوں میں بیشتر ایم پی اے حضرات اپنے ہی ایم این ایز کے خلاف صف آرا ہو چکے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے لئے بھی فیصلہ کن وقت چل رہا ہے۔ کارکن یہاں بھی نالاں نظر آرہے ہیں۔شاید کارکنوں سے سلوک کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی ایک ہی صف میں کھڑی ہو چکی ہیں۔ 

تحریک انصاف کا ایک دھڑا جو محنت کا سخت دشمن اور کارکنوں کی اہمیت سے نابلد تھا وہ ہر روز عمران خان کے سامنے راگ الاپتا رہا ’’ جناب سونامی کی کراؤڈ پلنگ جیسی قوت بدستور قائم دائم ہے اور ہم کھڑکی توڑ رش کا مرحلہ پھلانگ کر گلی کوچوں میں ہوا بنا چکے ہیں۔ مہنگائی کے تھپیڑے کھا تے لوگوں کے پاس آپ کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ۔ نوجوانوں کے لئے نہ تو سرکار کے پاس روزگار ہے اور نہ ہی کاروباری مواقع۔ ان حالات میں پاکستان کے یہ رومانوی، کنگال نوجوان آپ کے پیچھے نہیں بھاگیں گے تو اور کیا کریں گے‘‘۔

یوں بنی گالہ میں ایک اور دن رات میں ڈھلتا، رات سورج کی تلاش میں تاروں سے ہمکلام ہوتی اور عمران خان کو نرگسیت کے تالاب میں دھکا دینے والے گھروں کی راہ پکڑتے۔ کارکنوں کا ایک بہت بڑا طبقہ اپنے قائدین کے رویوں سے نالاں ہوکر سائیڈ لائن پر ہو چکا ہے۔ اب جبکہ تمام اعشاریے نشاندہی کر رہے ہیں تحریک انصاف بڑے مقابل کے طور پر سامنے آچکی ہے۔ دو متحارب حریفوں میں سے کسی ایک کی سیاسی ہوا اکھڑے گی۔

متذبذب رائے عامہ یا تو مسلم لیگ (ن) کی طرف متوجہ ہوگی یا پوری کی پوری پی ٹی آئی کی جھولی میں گرے گی۔ایسے حالات میں اگر عمران خان پوری طرح چوکس نہ رہے تو ’’ وہ‘‘ بھی مایوس ہوں گے جہاں مکمل پشت پناہی بارے سوچ و بچار کی جا رہی ہے۔ 

کیا عمران خان دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں گے؟۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر عمران خان نے شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، علیم خان، اسحاق خاکوانی اور عامر کیانی کی رائے پر تکیہ کیا۔ پرانے کارکنو ں کو بے دردی سے نظر انداز کیا گیا۔ لاہور سے ولید اقبال، سیالکوٹ سے عمر مائر، گوجرانوالہ سے چودھری محمد علی جیسے احباب کے مقابلے میں کمزور امیدواروں کو بھی ٹارزن کے روپ میں پیش کیا گیا۔ یاد رہے اگر عمران خان نے پاکستان پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ق) یا مسلم لیگ (ن) سے دھتکارے ’’بڑے ناموں‘‘ کو ٹکٹ پکڑا دیئے ہیں تو ایک سو ایک فیصد ہار ان کا مقدر بھی ہوسکتی ہے۔ لوگ باریکیوں میں نہیں جائیں گے وہ صرف یہ کہہ کر دوبارہ مسلم لیگ(ن) کو ووٹ دینے چل پڑیں گے ’’اوئے چھڈو جی ایہناں بندیاں نال عمران خان نے چھنکنا تبدیلی لیانی وے‘‘۔

کامیابی کا گر یہ تھا امیدوار اپنی جماعت کے اندر سے نکالے جاتے۔اب کی مرتبہ انتخابات میں عام ووٹر نیک نامی کو ترجیح دے گا، لیکن خدشہ ہے عمران خان کو کارکنوں سے اسی لئے نہیں ملنے دیا جا رہاتھا کہ پانامہ فیصلے کے بعد مسلم لیگ(ن) میں ٹوٹ پھوٹ کا انتظار کیا جائے ۔

نتیجے میں جیتنے والے گھوڑے سر جھکائے خودبخود عمران خان کے اصطبل میں آجائیں گے۔ اگر یہ سوچ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت میں سرایت کر چکی تھی تو پھر الیکشن میں ان کا اللہ ہی حافظ۔ عمران خان بڑا خطرناک جواء کھیل چکے ہیں۔

وننگ ہارسز کے انتظار میں اپنے پاس موجود گھوڑوں کو بھی نقاہت زدہ کر دیا۔ خدشہ ہے پانامہ کے بطن سے جنم لینے والا موقع پھر ضائع ہو جائے گا۔ لوگ بہت بڑی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ انہیں بہت بڑے بڑے خواب دکھلائے گئے ہیں۔

خاص طور پر پنجاب میںیہ سمجھا جا رہا ہے پی ٹی آئی کی حکومت آتے ہی مسائل راتوں رات حل ہو جائیں گے،لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ 

مزید :

رائے -کالم -