فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر460

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر460
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر460

  

نیرہ نور اپنے خاندان کے ہمراہ ان ہی خالہ اماں کی کوٹھی کے نصف حصے میں رہا کرتی تھیں۔ہم لاہور آنے کے بعد اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنے لگے تھے۔ انیسہ آپا شادی کے بعد دہلی میں ہی مقیم رہیں۔ چندبارملاقات کے لیے ضرور آتی رہیں۔ چند سال قبل ان کا دہلی میں انتقال ہوگیا ہے۔

ہم خالہ اماں کے پاس جاتے رہتے تھے۔ اخباری مصروفیات کے باعث جب بھی موقع ملتا تھا خالہ اماں کے گھر کا پھیرا ضرور لگتا تھا۔ ہمارے گھر سے یہ گھرزیادہ دور بھی نہ تھا۔ پیدل جاتے ہوئے مشکل سے تین چار منٹ کا راستہ تھا۔

نیرہ نورکوہم نے شایدکئی بار دیکھا ہوگامگر صرف گزرتے ہوئے۔ چہرہ شناسا تک نہ تھے اورنہ ہی یہ جانتے تھے کہ۔۔۔

ایسی چنگاری بھی یا رب تیرے خاکستر میں ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر459 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پھرہم فلموں سے وابستہ ہوگئے مگرنیرہ نورسے بے خبرہی رہے۔ وجہ یہ تھی کہ نیرہ نور ایک سیدھی سادی، کم آمیز اور کم گو لڑکی تھیں۔ خالہ اماں کے گھر بھی انکی آمد و رفت زیادہ نہ تھی۔ اللہ نے انہیں بہت خوب صورت آواز سے نوازا تھامگرانہوں نے موسیقی یا گلوکاری کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ وہ سن ۷۰کے اوائل میں لاہور کی معروف درس گاہ این سی اے میں ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کا کورس کررہی تھیں۔ اس زمانے میں تعلیمی درس گاہوں میں اکثر آل پاکستان مقابلے ہوتے رہے تھے۔ جن میں تقاریر اور موسیقی کامقابلہ بھی شامل تھا۔ نیرہ نور اپنے کالج کی طرف سے موسیقی کے مقابلوں میں حصہ لیتی تھیں اور خوش گلوئی کے باعث انعام بھی حاصل کرلیا کرتی تھیں۔ ایسی ہی ایک تقریب میں ٹیلی وژن کے پروگرام منیجر رفیق وڑائچ صاحب کی توجہ انکی طرف منعطف ہوگئی۔ وہ لاہور ٹی وی سے ایک تفریحی پروگرام پیش کرتے تھے۔ انہوں نے نیرہ نور کے بارے میں سن رکھا تھا۔ ان کی آواز سنی تو انہوں نے نیرہ نور کو اپنے پروگراموں میں حصہ لینے پر آمادہ کرلیا۔ اسی زمانے میں ارشد محمودنے لاہور ٹی وی سے پیش کیے جانیو الے شعیب ہاشمی اور سلیمہ ہاشمی کے پروگراموں ’’ٹال مٹول‘‘ اور ’’سچ گپ‘‘ کے لیے نیرہ نورکی آواز میں کئی گیت غزلیں اور نظمیں ریکارڈ کیں۔ اس طرح نیرہ نور اتفاق سے یا پھر حسن اتفاق سے گلوکارہ کے طور پر دریافت کر لی گئیں۔ جس نے انکی آواز سنی مسحورہوگیا۔

نیرہ محض شوقیہ غزل سرائی کرتی تھیں۔ اختری فیض آبادی،بیگم اختر ان کی آئیڈیل تھیں اور نیرہ کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ بیگم اختر کے انداز میں غزل گائیں۔ انہوں نے اس رنگ میں بہت سی غزلیں گائیں اور ریکارڈ بھی کرائیں۔

غزل ایک ایسی صنف ہے جو اپنی نغمگی الفاظ کی خوب صورتی اور ان کی ترتیب کی وجہ سے سننے والوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے ۔ غزل کو پسند کرنے کے لیے واقفیت بھی ضروری نہیں ہے۔ بمبئی میں جب سہراب مودی صاحب نے فلم ’’مرزا غالب‘‘ بنائی اور ثریا اور محمد رفیع کی آوازوں میں غالب کی غزلیں پیش کیں تو سارا ہندوستان ہمہ تن گوش ہوگیا۔ ہمارے دوست مصنف عزیز میرٹھی ان دنوں بمبئی گئے ہوئے تھے وہاں سے واپس آکر انہوں نے بتایا کہ مرزا غالب دیگر خوبیوں کے علاوہ موسیقی اور غالب کی غزلوں کی وجہ سے بھی بے حد مقبول ہوئے۔

انہوں نے کہا’’آفاقی صاحب میں نے غزل کی تاثیر اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ بمبئی کے جس سینما میں ، میں نے یہ فلم دیکھی اس کا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اکثریت مرہٹہ فلم بینوں کی تھی جن میں سے اکثر غالب کا نام تو کیا اردو بھی نہیں جانتے ہوں گے مگر جب غزل سامنے آتی تھی تو ہال میں سناٹا چھا جاتا تھا۔ صرف سانس لینے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں کیونکہ ہر شخص مکمل توجہ اور دلچسپی سے غزل سننے کا خواہش مند تھا۔‘‘

ان غزلوں میں ایسی سادہ غزل بھی تھی

دل ناداں تجھے ہوا کیا

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

لیکن اس کے ساتھ ہی ثریا کی آواز میں یہ غزل بھی پیش کی گئی تھی۔

نکتہ چیں ہے غم دل جس کو سنائے نہ بنے

کیا بنے بات کہ جب بات بنائے نہ بنے

غالب کے اس شعر کی بڑے بڑے نقادوں نے بے شمار شرحیں بیان کی ہیں لیکن فلم کے تماشائی اس کے معنی، مطلب سے یکسر بے تعلق ہو کر محض غالب کی غزل کے سحر میں کھو گئے تھے۔

خود نیرہ نور کا کہنا ہے ’’غزل میری پسندیدہ صنف ہے۔ کیونکہ یہ سامعین پر بھرپور تاثر چھوڑتی ہے۔ سننے والا فوراً اس سے متاثر ہوتا ہے اور پھر یہ تاثر بہت دیر تک قائم رہتا ہے۔‘‘

لاہور ٹیلی ویژن سے ’’سخن ور‘‘ کے عنوان سے ایک موسیقی کا پروگرام پیش کیا جاتا تھا۔ اس میں ایک بار نیرہ نور نے بہزاد لکھنؤی کی یہ غزل پیش کی اور سامعین کو بے خود کر دیا

اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آجائے

منزل کی طرف دو گام چلوں اور سامنے منزل آجائے

ایک تو یہ غزل اس پر نیرہ نور کی آواز۔ ہر طرف اس کا چرچا ہوگیا۔

ان ہی دنوں انہوں نے پی ٹی وی کراچی کے ڈراما سیریل’’تیسرا کنارہ‘‘ کے لیے احمد شمیم کی یہ نظم صدا بند کرائی۔

کبھی ہم خوب صورت تھے

حسینہ معین کے لکھے ہوئے اس سیریل میں یہ نظم پس منظر میں مختلف مقامات پر پیش کی گئی۔

نیرہ نور نے ٹی وی کے لیے جو غزلیں اور نظمیں گائیں وہ سب کی سب مقبول ہوئیں۔ اس میں طرزوں کی دلکشی اور نغمات کی خوب صورتی کے ساتھ ساتھ نیرہ نور کی آواز کا بھی بڑا دخل تھا۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر461 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -