A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 42

شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 42

Jun 25, 2018 | 14:48:PM

قمر نقوی

چھبلا کو ہر بات معلوم تھی ..... وہ تو راجہ اندر کی کہانیاں بھی بڑے مزے کی سناتا تھا ..... اکثر شام کو چوپال میں لوگ جمع ہوجاتے اور چھبلا لہک لہک کر قصے سناتا ..... اور چلم کا دور چلتا ..... چوپال میں دو قسم کی چلمیں ہوتی تھیں ..... ہندوچلم ..... مسلمان حقہ ..... باوجودیکہ ہندواور مسلمان ساتھ رہتے اٹھتے بیٹھتے تھے مگر دونوں کی چلم الگ تھی ..... پانی تو ایک ہی کنویں سے نکالتے لیکن دونوں کی ڈولیں الگ الگ تھیں ..... 

ہندو مسلم اتحاد بہت تھا ..... تعصب کوئی نہیں تھا ..... گاندھی جی انہیں یہی سکھا گئے تھے کہ ..... بہت ضرور ہے ..... اور ہندو مسلم بھائی بھائی والے نعرے بھی ان کو معلوم تھے .....وہ دونوں عورتیں ..... سروں پر ہانڈی اٹھائے لکشمی کے گھر پہنچیں تو اس کا خاوند بھولا رام باہر ہی تھا .....

شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 41 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’لکشمی کیسی ہے ..... ؟‘‘ایک عورت نے پوچھا 

’’ٹھیک ہے .....‘‘

’’ادھر چندی آئی ہے نہ .....‘‘

’’نہیں تو ..... ‘‘بھلانے تعجب سے جواب دیا .....

’’نہیں آئی ..... ؟!‘‘

’’نہیں ..... کیوں ..... گھر نہیں تھی ..... ‘‘

’’نہیں .....چولہا جلتا چھوڑ کر کسی طرف نکل گئی ..... ‘‘

بھولا بھی سوچ میں پڑ گیا .....

نزدیک ہی رحمو خاں موجود تھا ..... اس نے بھی سنا

’’کوئی گھنٹہ ڈیڑھ پہلے میں ادھر سے گزرا تھا ..... ‘‘ رحمو بولا ‘‘ اس وقت تو چندی رسوئی میں آٹا گوندھ رہی تھی ..... ‘‘

شام اب سر پر آہی گئی تھی ..... 

مراری حیران اپنے گھر کے صحن کی کمر تک اونچی مٹی کی دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا ..... اور چندی کے لوٹنے کا منتظر تھا ..... 

جب اندھیرا قریب آگیا تو گھر گھر پتہ کیا گیا ..... کسی کو کیا معلوم ..... چندی تو پلٹ کرآئی نہیں ..... ساری مرد چوپال میں جمع ہوگئے ..... ساری مرد مراری کے گھر کے پاس بھی آئے ..... مراری اس طرح حیراں کھڑا تھا ..... اور چندی لاپتہ تھی ..... 

چھوڑے سے قد کی دبلی پتلی چندی گاؤں کی ہر عورت کی مدد کرنے کے لیے مستعد رہتی تھی ..... اور سب ہی اس کو چاہتے تھے .....اب اندھیرا ہونے میں تھوڑی ہی دیررہ گئی تھی ..... کچھ لوگ چوپال میں تھے ..... کچھ مراری کے گھر کے پاس جمع تھے .....

رسوئی میں چولہا کب کا بجھ چکا تھا ..... برتن ویسے ہی بکھرے پڑے تھے ..... 

اور لکشمی کا درست بہت بڑھ گیا تھا ..... عورتیں اس کے گھر جمع تھیں ..... بچہ ہونے کو ہی تھا.....

’’مراری ..... یہ تو کچھ گڑبڑ ہی لگتی ہے .....‘‘ ایک بولا ..... 

’’ہاں ..... یہ تو میں بھی سوچ رہا ہوں ..... ‘‘ مراری نے کہا ..... واقعی وہ خود بھی بہت پریشان تھا .....یہ پریشانی کی بات ہی تھی ..... 

ادھر چوپال میں بڑے بوڑھے سر جوڑے مشورہ کر رہے تھے..... 

’’نہار .....؟‘‘ ایک نے کہا 

’’نہار تو ادھر کب آوت ہے ..... ‘‘

’’تیند وا بہت ہے ..... ‘‘ 

’’تیندوا توہیں ..... مگر ..... ‘‘اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا ..... 

اب وہ سب ہی خوفزدہ اور پریشان تھے..... کسی نے کچھ نہیں کہا ..... لیکن وہ خیال ہی ان سب کے لیے روح فرسار تھا ..... ہر شخص وہی بات سوچ رہا تھا ..... لیکن ہر شخص اس بات کے بیان کرنے سے بھی بچ رہا تھا ..... !

گاؤں کے لوگ ..... ایک دوسرے کے رشتے دار تو نہیں تھے ..... لیکن ایک خاندان کی طرح تھے ..... سب ہی ایک دوسرے کے دکھ درد کے شریک ..... ایک دوسرے کے مددگار ..... ایک دوسرے کے محافظ ..... ! چندی کی اچانک گمشدگی ان سب کے لیے بہت تشویشناک بات تھی ..... ہر شخص یہی سوچنے پر مجبور تھا کہ چندی کسی مشکل میں پھنس گئی ..... اور ..... سب ہی اس کی طرف سے مایوس ہو چکے تھے ..... 

مون سون علاقوں کے وہ گھنے جنگل ان کو بہت کچھ دیتے تھے ..... لیکن ان سے بہت کچھ لے بھی لیتے تھے ..... ان کا اور جنگل کا حساب ہمیشہ برابر ہی رہتا تھا ..... 

’’کوئی اور بات نہ ہوئے ..... ‘‘ ایک بوڑھے نے کہا ..... اور سب سوچ میں پڑگئے ط 

’’چلو ..... ڈھونڈھنا چاہیے ..... ‘‘

’’رات ہوئے رہی ہے ..... ‘‘

’’اٹھو پھر ..... ‘‘

اور وہ دس بارہ آدمی مراری کے گھر کے سامنے جمع ہوئے ..... مشعلیں جلالیں اور سب ہی سیدھے ندی کے پاٹ کو پار کرتے چلے ..... وہاں جگہ ایسی تھی کہ کسی نشان کا امکان کم تھا ..... ساری پتھریلی زمین ..... چھوٹے بڑے پتھر کنکر جو پانی بہا کر لایا اور وہاں چھوڑ گیا تھا ..... 

مون سون کے دنوں میں تو سارا چالیس پچاس گزر چوڑا پتھریلا پاٹ پانی پانی ہوجاتاتھا .....لیکن شروع سردیوں کے دن تھے..... پانی کب کا کسی دریا میں اتر چکا تھا .....

شام اب گہری ہوگئی تھی ..... جنگل میں اندھیرا زیادہ ہی ہوتا ہے ..... وہ لوگ جھاڑ جھنکاڑ میں یوں ہی بھٹکتے اور ٹھوکریں کھاتے رہے ..... شوروغل بھی کیا ..... چندی کو سب نے ہی خوب خوب پکارا بھی ..... آوازیں بھی دیں ..... اور کہنا چاہیے سارے جنگل میں ایک ہنگامہ برپا کر دیا ..... لیکن کوئی نشان نہیں ملا ..... نہ کوئی آواز آئی ..... وہ لوگ دو تین گھنٹہ طرح طرح سے تلاش کرتے رہے ..... اور آخر کار تھک کر واپس آگئے ..... مراری بہت ہی پریشان تھا ..... 

کچھ عورتوں نے اس کے گھر کی رسوئی میں برتن سمیٹ کر صفائی کردی ..... اس کا پڑوسی دینا ..... جو مسلمان تھا اس کے لیے کھانا لے آیا ..... اور زبردستی اس کو تھوڑا بہت کھلایا بھی ..... چوپال میں رات گئے تک لوگ بات چیت کرتے رہے ..... اگرچہ وہ سب دن ڈھلے ہی سوجانے کے عادی تھے ..... 

مراری بہت دیر جاگتا رہا ..... پھر سوگیا ..... نیند تو تختہ دار پر بھی آجاتی ہے .....صبح وہ منھ اندھیرے ہی جاگ گیا ..... اور اپنے آٹھ جوان ساتھیوں کے ہمراہ ایک دفعہ پھر تلاش کی مہم پر چل نکلا ..... وہی جنگل جس میں وہ لوگ گذشتہ رات خاک چھانتے پھرتے تھے اور اندھیرے نے ان کو کچھ نہیں دکھایا تھا ..... اب ان کے سامنے کھلا پڑا تھا ..... لیکن جنگل تو بہرحال درختوں ..... جھاڑیوں ‘ بیلوں ‘ پتوں اور شاخوں سے بنا ہوا ایک ایسی بھول بھلیاں جیسا تھا کہ اس میں سے گزرنا بھی دشوار ہوتا ،بجز اس کے کہ آبادی کے ڈھورڈنگر بھی اس میں گھسے تھے اور ان کی دخل اندازی نے کہیں کہیں جھاڑیوں کی ایک دوسرے سے گلے ملتی شاخوں کو ہٹا کر کسی قدر گنجائش پیدا کردی تھی ان ہی راستوں پر وہ لوگ جاسکتے تھے ..... 

جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ..... ویسے ہی ویسے مراری کی بیقراری میں بھی اضافہ ہوتا جاتا تھا ..... پریشانی بھی بڑھتی جاتی ..... اس لیے کہ گزرتا ہوا ہر لمحہ چندی کے بارے میں اس کے ..... اور دوسروں کے ..... خدشات کو تقویت دیتا جا رہا تھا .....

انہوں نے دواڑھائی میل یا اس سے بھی زیادہ علاقہ کھنگال ڈالا ..... لیکن کوئی نشان نہیں ملا ..... دوپہر ہونے کو تھی اور وہ لوگ واپسی کا خیال کرنے ہی کو تھے ..... کہ ایک شخص نے نسبتاً بلندی پر تھا ایک گدھ کو ندی کے آس پاس کوئی میل بھرپر اترنے کے لیے ہوا میں چکر لگاتے دیکھا ..... 

’’مراری بھیا ..... ‘‘

’’ہاں ..... ‘‘

’’او دیکھو ..... ‘‘ اس نے گدھ کی طرف اشارہ کیا ..... 

سب ہی ادھر دیکھنے لگے ..... پھر کسی نے کچھ نہیں کہا ..... لیکن سب ہی ایک ایسے شبہے میں مبتلا ہوگئے جو ان سب کے لیے ناقابل بیان تھا ..... اور مراری کا تو گویا دل اچھل کر حلق مین آگیا ..... !

تلاش ترک کر کے وہ لوگ جنگل سے واپس ندی کی طرف آئے اور سیدھے ادھر گئے جدھر گدھ اترتا نظر آتا تھا اب اسی سمت دو تین گدھ اور آگئے تھے اور رفتہ رفتہ نیچے اتر رہے تھے ..... ان کو وہاں پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگا ..... لیکن وہ منظر جو انہوں نے دیکھا بہت افسوسناک اور روح فرسا تھا ..... 

انسان لاش ..... اور تین گدھ اس کو نوچ رہے تھے ..... یہ چندی کی لاش تھی ..... 

مراری تو دیوانہ ہوگیا ..... اس نے گدھوں کو تو بھگا یا ہی ..... لاش پر گر کر کس قدر بین کئے کہ جس کی حد نہیں ..... لوگوں نے بمشکل اس کو چندی کی لاش سے ہٹایا .....

لاش پر چادر ڈال کر اس کے ننگے بدن کو چھپادیا ..... دونوں ٹانگیں جسم سے الگ پڑی تھیں اور صاف معلوم ہوتا تھا کہ کسی جانور نے نوچ کر ان کو جسم سے الگ کر دیاتھا ..... (جاری ہے )

شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 43 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں