دو بڑے سیاسی اجتماع

دو بڑے سیاسی اجتماع
دو بڑے سیاسی اجتماع

  


پاکستان میں انتخابی سیاست آج تو دولت مند افراد کے ہاتھوں میں یرغمال ہے۔ پیسہ ہے تو اکثر پارٹیاں ٹکٹ بھی دیتی ہیں، اور پیسہ نہیں ہے تو خواہ کتنا ہی عوام الناس میں پزیرائی حاصل ہو، کوئی پوچھتا تک نہیں ہے اور ذاتی حیثیت میں انتخاب لڑنا بھی ناممکن ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر سیاسی جماعتیں پیسے والے امیدوار کو ہی ترجیح د یتی ہیں۔ سندھ میں گزشتہ دنوں دو بڑے سیاسی اجتماع منعقد ہوئے۔ نواب شاہ میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جلسہ کیا، جلسہ میں موجود افراد کی رائے میں جلسہ کی حاضری متاثر کن تھی۔ یہ جلسہ پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی سالگرہ والے روز تھا۔ نواب شاہ میں شدید گرمی کے دوران جلسہ منعقد کرنا ویسے بھی بڑا امتحان اس لحاظ سے تصور کیا جاتا ہے کہ حاضرین کی تعداد متاثر کن کیوں کر ہو سکتی ہے۔ نواب شاہ کے اطراف میں موجود اضلاع کی وجہ سے زیادہ حاضری ممکن بھی ہوئی۔ پھر پیپلز پارٹی کے وسائل سے مالا مال مقامی رہنماؤں کی کوششوں کو بھی دخل تھا کیوں کہ ان کے چیئرمین کا جلسہ تھا۔

دوسرا جلسہ ضلع ٹھٹھہ کے علاقے جنگ شاہی میں منعقد ہوا۔ یہ جلسہ عوامی تحریک کے مرحوم سربراہ رسول بخش پلیجو کی پہلی برسی کے سلسلے میں تھا۔ جنگ شاہی دور افتادہ علاقہ ہے، جہاں ان کا آبائی گاؤں ہے۔ یہ جلسہ اس لحاظ سے زیادہ اہم تھا کہ عوامی تحریک کی تقسیم کے بعد پہلا عوامی جلسہ تھا۔ رسول بخش کی زندگی کے آخری ایام میں ہی انہوں نے اپنے صاحبزادے ایاز لطیف پلیجو کی سربراہی میں قائم عوامی تحریک سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور اپنی عوامی تحریک بحال کر لی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد پارٹی میں عہدیداروں کا پہلا انتخابات ہوا تو اس میں سجاد چانڈیو صدر منتخب ہوئے تھے۔ سجاد حیدرآباد میں وکالت کرتے ہیں، عوامی تحریک سے طویل عرصے کی وابستگی ہے۔ پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں میں اپنے اثرات کی وجہ سے وہ صدر منتخب ہو ئے ہیں۔ یہ جلسہ ان کی صلاحیتوں کا امتحان تھا۔ جنگ شاہی میں کارکنوں اور حامیوں کا اتنا بڑا اجتماع منعقد کرنا بڑی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔ پاکستان بھر سے سیاسی رہنماؤں کی موجودگی بھی اس بات کی عکاسی کر رہی تھی کہ سجاد اور ان کے ساتھیوں نے بہت سوچ سمجھ کر جلسے کی تیاری کی تھی۔ ایاز لطیف نے بھی برسی کا انتظام کراچی میں کیا تھا۔

عوامی تحریک میں رسول بخش پلیجو اور سندھیانی تحریک کی مرحومہ سربراہ ریحانہ شیخ کی کوششوں کو بڑا دخل تھا کہ انہوں نے نچلے اور متوسط طبقے کی خواتین کو گھروں سے نکال کر سیاست کا حصہ بنایا اور انہیں اس پیمانے پر سیاسی شعور دیا کہ وہ کسی بھی اجتماع میں اپنے خیالات کا بے دھڑک اظہار کر سکتی ہیں۔ محسوس ہوا کہ تربیت کا وہ سلسلہ جاری ہے کیوں کہ کم عمر بچیاں جس انداز میں اپنے مرحوم کو قائد کو خراج عقیدت پیش کر رہی تھیں وہ تربیت کا ہی نتیجہ تھا۔ رسول بخش نے تو انہیں طویل لانگ مارچ تک میں شریک کیا۔ پیدل لانگ مارچ میں چلنا مردوں کے لئے ہی مشکل ہوتا ہے یہ تو خواتین تھیں، لیکن جب مقصد سامنے ہو اور اپنے سیاسی مقاصد سے خلوص ہو تو لانگ مارچ کیا، لوگ تو اونچے پہاڑوں کو بھی سر کر لیا کرتے ہیں۔

رسول بخش پلیجو نے اپنی سیاست کا محور ہی اپنے نظریات کو بنایا تھا۔ انہوں نے اپنے حامیوں اور کارکنوں کو نظریاتی طور پر تیار کیا تھا جس کے لئے باقاعدگی کے ساتھ ان کی سیاسی تعلیم و تربیت کی گئی۔ خواتین بھی اسی کا حصہ تھیں جو نچلے اور متوسط گھرانوں کی خواتین کے لئے مشکل کام تصور کیا جاتا تھا۔ گھر کے مرد اپنی خواتین کو گھروں سے باہر سیاسی جلسوں یا جلوس میں شرکت کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔سیاست میں کارکنوں اور حامیوں کی سیاسی تربیت ہی اہم چیز قرار پاتی ہے۔ ہجوم تو تماش بینی کے لئے ہر جگہ جمع ہو جاتا ہے، لیکن اس ہجوم میں تربیت یافتہ کارکن ہی اصل سیاسی طاقت ہوتے ہیں۔ آج سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی سیاسی تربیت پر توجہ نہیں دی جاتی۔ سیاسی تربیت ہی کسی بھی سیاسی جماعت کا اہم تریں اثاثہ قرار دی جاتی ہے۔

رسول بخش پلیہجو ووٹ کی طاقت سے محروم رہے کہ بڑے زمینداروں کی اپنی اپنی سیاسی دلچسپی کی وجہ سے ان کے حلقہ انتخابات میں ووٹ ان ہی کی دسترس میں ہوتا ہے۔ بھٹو کی سیاسی مقبولیت کی وجہ سے 1970 میں ووٹ زمینداروں کی مٹھی سے نکل گیا تھا،لیکن بعد میں تو زمینداروں نے گرفت مضبوط کر لی تھی جو آج تک قائم ہے۔ ایسی صورت میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی سیاسی رہنماء یا کارکن کے کے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ انتخابی سیاسی کا حصہ بنے اور کامیابی بھی حاصل کرے۔ رسول بخش پلیجو نے انتخابی سیاست سے الگ تھلگ رہ کر عوامی تحریک کے کارکنوں کو تیار کیا۔ وہ اس غلطی کے مرتکب نہیں ہوئے جس کا شکار ہاری تحریک کے رہنماء حیدر بخش جتوئی ہوئے تھے۔ پوری ہاری تحریک کی طاقت انہوں نے اپنے ایک انتخابی مقابلہ میں لگادی تھی جس کا ہاری تحریک کو بڑا نقصان ہوا۔ اس کا ازالہ آج تک نہیں ہو سکا ہے۔

رسول بخش پلیجو اور ریحانہ شیخ کی خواتین کو تیار کرنے کی محنت کا مظاہرہ ان کی برسی کے موقع پر بھی دیکھنے میں آیا۔ بچیوں کا وہ دستہ جو مرحوم رہنماء کو سلامی دینے اسٹیج پر آیا تو لوگ ان کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔ اس کے بعد لڑکیوں کے دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ یہ بچیاں اور لڑکیاں جس پر اعتماد انداز میں اپنے قدم اٹھا رہی تھیں وہ ان کی تربیت کی عکاسی کرتا تھا۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں اسٹیج پر بیٹھے ہوئے سندھی، سرائیکی، پختون، بلوچ اور اردو بولنے والے سیاسی رہنماء اور کارکن مرحوم رہنماء کی صلاحیتوں کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔ کئی مقررین نے انہیں ان کی سیاست اور فکر پر بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ جلسے میں خواتین کی بڑی تعداد میں موجودگی بھی اس بات کی نشان دہی کرہی تھی کہ یہ لوگ دور دراز علاقوں سے بھی اپنے مرحوم رہنماء کو خراج عقیدت پیش کرنے آئے ہیں۔

سندھ کی موجودہ سیاسی تاریخ میں بھٹو، سائیں جی ایم سید اور رسول بخش پلیجو نے انمٹ نشانات چھوڑے ہیں۔ لوگ ان نشانات پر چلنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ جی ایم سید اور رسول بخش پلیجو ووٹ کی طاقت سے محروم رہے ،لیکن انہوں نے پیپلز پارٹی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مخلص کارکن اور حامی پیدا کئے جو ابھی تک عوامی تحریک سے وابستہ ہیں۔ ان کی وابستگی کو زیادہ مستحکم بنانا عوامی تحریک کے موجودہ صدر سجاد چانڈیو کی بنیادی ذمہ داری بھی ہے۔

مزید : رائے /کالم