کرکٹ میں ہار پر عدمِ برداشت کا مظاہرہ

کرکٹ میں ہار پر عدمِ برداشت کا مظاہرہ
کرکٹ میں ہار پر عدمِ برداشت کا مظاہرہ

  


مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جب جب ہم کرکٹ میں ہارتے ہیں, ہمارے چھوٹے بڑے دانشور کرکٹ کے ڈھانچے,کپتان, ٹیم, کوچ, چیئرمین پی سی بی وغیرہ پر تھوک کے حساب سے مشورے دینے لگتے ہیں, غصہ کا اظہار کرتے ہیں،کھلاڑیوں کی گالیوں سے تواضع کرتے ہیں اور نہ جانے کیاکیا…… حالانکہ بات اتنی سادہ ہے کہ الجھن ہوتی ہے اگر آپ کو نظر نہیں آ رہی تو……دوستو! بات اتنی سی ہے کہ زوال پذیر معاشروں کی ہر چیز زوال آمادہ ہوتی ہے, جیسے بھربھراتے ہوئے مکان کی بنیادوں سے لے کر چھت تک ہر شے بوسیدہ تر ہوتی چلی جاتی ہے, جیسے گھن لگے شہتیر کا ہر انچ برادہ تھوک رہا ہوتا ہے, جیسے کینسر کا مریض ہر گذرتے روز موم کی طرح پگھل رہا ہوتا ہے, ویسے ہی ایک زوال کی طرف جاتا معاشرہ ہوتا ہے جسکا ہر شعبہ اپنی کارکردگی کھوتا چلا جاتا ہے,

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک کینسر زدہ وجود کا باقی جسم گل سڑ رہا ہو اور اسکے بازوؤں کے مسل فولادی ہو جائیں, یہ کیسے ممکن ہے کہ اندرونی تمام اعضا پر تو بیماری کا حملہ ہو, مگر جلد شاندار اور چمکدار نظر آئے, کرکٹ کی بات کی جائے تو راقم کو دنیا کی پہلی کرکٹ گراونڈ لارڈز لندن میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے زیر اہتمام ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا تھا۔ سیمینار کے آخر میں ہمیں لارڈز کی تاریخ کے متعلق بریفنگ کے دوران اس کی سیر کروائی گئی جس میں ہمیں یہ دکھایا گیا کہ صرف آٹھ سے بارہ سال کے بچوں کے لیے ایک قطار میں آٹھ نیٹس لگائے گئے تھے جس میں بین الاقوامی سطح کے کوچ بچوں کو کرکٹ سکھا رہے تھے۔انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کا ڈھانچہ بہت مضبوط ہے۔ آسٹریلیا کے اندر بھی علاقائی سطح پر کرکٹ پر بہت زیادہ کام ہوتا ہے۔ ابھی حال ہی میں راقم جنوبی افریقہ کے اندر بھی ایسے ہی مشاہدات کر کے آیا ہے۔ لیکن جب ان ممالک کی ٹیمیں بری طرح ہار کر جاتی ہیں۔ تو وہاں کھلاڑیوں پر جوتے نہیں برستے۔ اس کے مقابلے میں ہمارے ہاں بچے بغیر جوتوں کے گلیوں میں کرکٹ کھیلتے ہوئے انضمام، وقار، وسیم اکرم، جاوید میانداد، محمد یونس، آفریدی، وہاب ریاض اور محمد عامر بنتے ہیں۔ اور ورلڈ چیمپئن بھی بنتے ہیں۔

دراصل پاکستان تضادات کا شکار, معجزوں کا امیدوار, اور غیب سے اترتے فرشتوں کی جھوٹی خوشخبریاں سناتے مبلغ ڈھونگیوں کا ملک بن چکا ہے, خط غربت سے نیچے جاتے ملک کا ایٹمی طاقت بن جانا ہو یا کسی جہانگیر خان, شیر خان کی وجہ سے ایک ڈیڑھ دہائی کے لیے اسکوائش پر اجارہ داری ہو, 92 کا ورلڈ کپ ہو یا دنیا کی سب سے بڑی ایمبیولینس اسکواڈ بنانے جیسا کارنامہ, یہ سب صرف افراد کے کارنامے ہیں, دودھ سے نکلی بالائی نہیں ہے, پاکستانی معاشرے یا ریاست پاکستان کی پروڈکٹس نہیں ہیں, سادہ الفاظ میں ریاست پاکستان میں اتنا دم خم کبھی نہیں رہا کہ اپنے اداروں اور افراد کی تربیت اس ڈھنگ سے کر سکے کہ وہ دنیا میں چھا جائیں۔جب تک مملکت خداداد کا ہر نظام درست نہیں ہو جاتا تب تک ہمیں عمران خان, جہانگیر خان, عبد القدیر خان اور عبدالستار ایدھی جیسے افراد کے کارناموں پر ہی خوش ہونا پڑے گا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری کرکٹ ٹیم دنیا پر چھا جائے, تو ہمیں باقی تمام شعبوں میں بھی کمال دکھانا ہوگا, انفراسٹرکچر, میرٹ, ایمانداری اور محنت کو شعار بنانا ہوگا, جیسے باقی تمام کامیاب ٹیموں کے ملکوں میں ہوتا ہے۔

ہماری پہچان تو یہ ہے کہ کسی شہر سے کوئی قابل قدر کتاب نہیں ملتی ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی کی اچھی تحریر ملتی نہیں اگر مل جائے تو اسے لائکس نہیں ملتے، البتہ تصویر لگا دیں تو اس کے لائکس ماشااللہ سنبھالنے مشکل ہو جاتے ہیں۔ ہم بحث کرتے ہیں تو صرف جیتنے کے لیے کرتے ہیں۔ اور اپنی وابستگی اور عقیدت کے خول کے اندر رہتے ہوئے کرتے ہیں۔ ہماری بات بات میں تعصب جھلکتا ہے۔ برداشت نام کے کسی لفظ سے واقف نہیں، دوسروں پر اپنا ہی فلسفہ اور سوچ ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لیے اب لڑائیاں زمینوں پر کم سوچوں اور عدم برداشت پر زیادہ ہونے لگی ہیں۔ یہاں تک کہ جنہیں ہم اپنا نظام بنانے اور ملک کا نظام چلانے کے لئے منتخب کرتے ہیں وہ بھی کروڑوں روپے سے شروع ہونے والے اجلاس میں صرف ایک دوسرے پر الزام کی پوچھاڑ کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو طعنے دیتے ہیں اور ایک گھنٹے کے شور شرابے کے بعد اجلاس ملتوی کروا کر موج میلہ کرتے ہیں۔

جسے علم کہتے ہیں۔ وہ ہمارے قریب سے نہیں گزر سکتا۔ البتہ ہم افواہ سازی کی صنعت میں ید طولی رکھتے ہیں۔ سازش ڈھونڈنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ سوچنے کی زحمت ہمیں گوارہ نہیں ہے۔ کام کرنا ہماری شان کے خلاف ہے۔ اسی لیے صرف سرکاری نوکری ڈھونڈنے کی تگ و دو میں رہتے ہیں۔ کیونکہ سب کو پتا ہے کہ سرکار کام کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ دوسروں کی برائیاں کرتے وقت خود اسی برائی کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں لیکن سوچتے نہیں۔

ہر کوئی اپنی برائیوں کو کوستا ہے لیکن ٹھیک ہونے کی کوشش نہیں کرتا۔ غرض کہ کسی بھی شعبے میں ہمارے پاس ایک ٹکے کا سکل نہیں, دو ٹکے کی ڈگری نہیں, تین ٹکے کا تجربہ نہیں, چار ٹکے کا حوصلہ نہیں, پانچ ٹکے کی ہمت نہیں, چھ ٹکے کا صبر نہیں, سات ٹکے کا تسلسل نہیں, آٹھ ٹکے کی دور اندیشی نہیں, نو ٹکے کی حقیقت آشنائی نہیں،مگر دس کروڑ ٹکے کی سستی شیخیاں, گیدڑ بھبھکیاں, کسلمندی, ہڈ حرامی کے وسیع ریسورسز ر میں ہم خود کفیل ہیں۔اب ان حالات میں اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا پر حکمرانی کریں گے اور جنت کے اندر بھی ہماری ہی حکمرانی ہوگی۔ تو پھر ہم سب احمقوں کی جنت کے سردار ہیں۔

مزید : رائے /کالم