عمران خان کا غصہ اور بے بسی

عمران خان کا غصہ اور بے بسی
عمران خان کا غصہ اور بے بسی

  


تاریخ کا جبر بڑے بڑے حکمرانوں اور شہ زوروں کو اوندھا کر دیتا ہے۔وہ اپنی لاف زنی اور تمام تر رعب و داب کے باجود تیز دھار میں تنکے کی طرح بہہ جاتے ہیں۔ ہم نے پاکستان میں بڑے بڑے طرم خان حکمران راکھ ہوتے دیکھے ہیں،لیکن نہ کرسی محفوظ رہی اور نہ ہی اس میں نشست رکھنے والا،لیکن ہر دھڑن تختہ ملک کو اور اس کے عوام کو مایوسی، غربت، نفسیاتی شکست و ریخت، احساسِ کمتری اور احساسِ عدمِ تحفظ کے تنگ ہوتے ہوئے دائروں میں قید کرتا رہا۔بقول غالب:

بس کہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرپا

موئے آتش دیدہ، ہے حلقہ مری زنجیر کا

لیکن حکمران اِس صورتِ حال سے کوئی سبق نہ حاصل کر سکے۔ہر آنے والے نے اپنے آپ کو تاحیات حکمران ہی سمجھا اور اس غریب اور بدقسمت ملک کے وسائل کو بے دریغ لوٹا اور اس میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔1977ء کے بعد تو ملک ایک منڈی بن گیا۔ حکومت کا ساتھ دینے والوں کے لئے سیاست کھلے عام کاروبار بنا دی گئی۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر وہ لوگ سیاست میں لائے گئے،جن کا مطمح نظر نہ عوام کے سیاسی، شہری حقوق تھے اور نہ ہی معاشی، نہ بچوں کی تعلیم سے کسی کو کوئی غرض تھی، نہ نوجوانوں کے روزگار سے، نہ کسی بوڑھی ماں اور بزرگ کے علاج سے اور نہ ہی ملک کے مستقبل سے۔ مقتدر ایوانوں میں ”پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے“ کی کیفیت تھی، لیکن صرف ضیا الحق کے پسندیدہ کھلاڑیوں پر ہی اس کا اطلاق نہ ہوا، بلکہ جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لئے تختہ دار پر جھولنے والے ذوالفقار علی بھٹو کے وارثوں نے بھی یہی طرزِ عمل اپنایا،ایک طرف سرکاری نوکریوں کی، پٹواری، تحصیلدار، تھانیدار اور انکم ٹیکس ملازمتوں کی لوٹ سیل لگائی گئی، تو دوسری طرف اٹھارہ مہینے کی حکومت میں وہ کھیل کھیلے گئے جو پہلے نہ سنے تھے اور نہ دیکھے تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو شہید کے نام لیواؤں اور نئے رشتہ داروں نے اپنی اپنی ہنر مندی کی دھاک بٹھا دی اور کھیل باری باری چلتا رہا، ہمارے اردگرد کے ممالک میں کسی سیاست دان یا ریاستی عہدیداروں میں ہمت نہ تھی کہ ہماری پیروی کر سکتا۔بھارت کے حکمرانوں میں سے کسی راجیو گاندھی، من موہن سنگھ،اٹل بہاری واجپائی یا نریندر مودی، سری لنکا میں کسی بندرا نائیکے، مہندا راجا پاسکا،چندریکا کمارا تنگا، جے آرجے وردھنے، اور کروجے سوریا نے، نیپال کے کسی گریجا پرشاد کوئرالہ، شیر بہادر دیبو، پشپا کمال دھل اور جی پی کوئرالہ اور امریکی چھتری تلے حکومت کرنے والے افغان حامد کرزئی اور اشرف غنی نے آف شور کمپنیاں بنائی، اُن کی اولادیں غیر ملکی محلوں میں مقیم ہیں۔ اشرف غنی اور کرزئی پر غیر ملکی کٹھ پتلیاں ہونے کے الزام کے باوجود اپنے ملک کے ساتھ ایسا کھیل نہ کھیل سکے،جو ہماری جمہوری قیادت نے ہمارے ساتھ کیا ہے،لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا،پورا ملک عدم استحکام ہی کا شکار نہیں ہوا،ہم آج پھر سے اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لئے پریشان ہیں، شاید حکمرانوں کے لئے یہ محسوس کرنا آسان نہ ہو، کیونکہ ہمارے جیسے ممالک کے حکمرانوں کی حسیّات بہت حد تک کمزور پڑ جاتی ہیں۔

عوام کی زبوں حالی اور ملک کی اقتصادی خود مختاری کے خدشات کے احساس سے زیادہ انہیں اپنی حکومت کا نشہ ہوتا ہے۔وہ تکبر جو گزشتہ حکمرانوں کا خاصا ہوتا ہے،نئے حکمران میں اس سے دو گنا ہوتا ہے اور آج ہم اس المیہ کا شکار ہیں۔ عمران خان ایک روز غصے میں نظر آتے ہیں اور اگلے روز بے بس، بلکہ یوں کہنا بہتر ہو گا کہ ان کے غصے میں ان کی بے بسی ظاہر ہو رہی ہوتی ہے۔ ابھی چند ماہ قبل معاشی بحران نے انہیں اپنی پوری مالیاتی ٹیم تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا، جو لوگ پہلے بھی اس ملک کی معیشت کی صحت بحال نہ کر سکے،انہی عطار کے لونڈوں کو ایک بار پھر آزمایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف سیاسی بحران جسے خود بڑھایا گیا تھا، اب اُسے کم کرنے کی کوشش کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے ذہنی تناؤ کا اظہار ہمارے سامنے ہے،اب صرف جمہوریت کے لئے نیک خواہشات کی ضرورت باقی رہ گئی ہے۔

مزید : رائے /کالم