مریم نواز کی پریس کانفرنس (2)

مریم نواز کی پریس کانفرنس (2)
مریم نواز کی پریس کانفرنس (2)

  


مریم نواز شریف نے میاں نواز شریف کے ساتھ ہونے والی میڈیکل زیادتیوں کی تفصیل بھی بتائی کہ انہیں اڈیالہ جیل کی قید کے دوران میں پچھلے سال جولائی میں دِل کا دورہ پڑا تھا جسے حکومت نے چھپایا، لیکن اب میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ اسی طرح میاں نواز شریف کے دِل میں پڑے ہوئے کئی سٹنٹ ناکارہ ہو چکے ہیں اور یہ طبی لحاظ سے تشویش ناک صورتِ حال ہے۔ پاکستان میں صرف معیشت کے شعبہ ہی میں مصر کا ماڈل نہیں تھوپا جا رہا، بلکہ کچھ لوگوں کی یہ خواہش بھی ہو سکتی ہے کہ مصرکے پہلے جمہوری منتخب صدر محمد مرسی کی طرح میاں نواز شریف کو بھی حالت قید میں مرنے دیا جائے۔مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نہ تو مصر ہے اور نہ ہی میاں نواز شریف کو محمد مرسی بننے دیں گے، لیکن جو ہو رہا ہے وہ تو سب کو نظر آرہا ہے۔ پچھلے دس سال میں لئے گئے قرضوں کی تحقیقات کے لئے کمیشن تو تشکیل دے دیا گیا ہے،لیکن یہ سوال سب کی زبانوں پر ہے کہ صرف دو حکومتوں ہی کو ٹارگٹ کیوں کیا جا رہا ہے اور جنرل پرویز مشرف کا انتہائی کرپٹ دور اس میں کیوں شامل نہیں کیا گیا ہے،ویسے بھی اس دور میں افغانستان کے خلاف فرنٹ لائین سٹیٹ بن کر مشرف حکومت نے اربوں ڈالر حاصل کئے تھے۔ ان اربوں ڈالروں کا حساب کون کرے گا۔

اسی طرح موجودہ حکومت نے بھی اپنے دس ماہ کے دوران قرضے لینے کے جو نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں ان کی تحقیقات کون کرے گا۔ اس کمیشن پر ایک اور جائز اعتراض مختلف حلقوں کی طرف سے یہ بھی آ رہا ہے کہ معاشی تحقیقات پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران(جنہیں معیشت کی الف ب سے بھی واقفیت نہیں ہے) کی بجائے معاشی ماہرین کیوں نہیں کر رہے ہیں۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اس دور کی تحقیقات کیسے کریں گے، جس میں وہ خود وزیر خزانہ تھے، اس لئے دیکھا جائے تو یہ کمیشن بھی ایک ڈرامہ ہے، جس کے ذریعے لوگوں کی توجہ اصل مسائل اور حکومت کی معاشی کارکردگی سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مریم نواز شریف نے بالکل درست کہا ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی حکومت کی نااہلی، معیشت کو تباہ کرنے اور سیاسی انتقامی کارروائیوں میں حکومت کی شراکت دار کیوں بنے گی۔

کوئی مانے یا نہ مانے، لیکن پاکستانی سیاست میں مستقبل کی قیادت عمر رسیدہ عمران خان نہیں، بلکہ نوجوان مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھوں میں ہو گی۔ عمران خان اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ وہ ہمیشہ سے سلیکٹروں کو پسند رہے ہیں۔ انہوں نے قومی ٹیم کے لئے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 1971ء میں کھیلا تھا، چونکہ ان کی سلیکشن میرٹ کی بجائے سلیکٹروں کی ذاتی پسند پر ہوئی تھی اِس لئے چھ سال تک کرکٹ کے میدان میں وہ ڈلیور نہ کر سکے۔ البتہ 1977ء میں سڈنی ٹیسٹ کے بعد ان کے کیرئیر میں کامیابیاں شروع ہوئیں، جو بالآخر 1992ء میں ورلڈ کپ کی فتح تک جاری رہیں۔ اب وہ پاکستان کے وزیراعظم تو ضرور ہیں، لیکن عمر کے اس حصہ میں ہیں، جس میں یہ بتانا ممکن نہیں ہوتا کہ کب تک وہ عملی سیاست میں رہیں گے۔اِسی لئے بلاول بھٹو نے عمران خان کو للکار کر کہا ہے کہ آپ 70 سال کے بوڑھے اور میں 30سال کا نوجوان ہوں۔ اِس کا مطلب ہے کہ اگر وہ سیاست یا حکومت میں رہتے ہیں تو بھی وہ چند سال سے زیادہ عملی طور پر زیادہ متحرک نہیں رہ پائیں گے اور کوئی نہ کوئی ان کے بعد ان کے خلا کو پُر کرے گا کہ یہی قدرت کا نظام ہے۔

ویسے آج کل ان کی زیادہ توجہ سیاسی مخالفین کو دھمکیاں دیتے رہنے کے علاوہ موقع بے موقع آئے دن قوم سے خطاب پر ہے۔ان کے خطاب کا کوئی خاص وقت نہیں ہوتا، کبھی صبح صبح اور کبھی آدھی رات کو ان کا خطاب نشر ہوتا ہے، جن میں اپوزیشن کو خوب دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ عمران خان کی حکومت کا ایک سال پورا ہونے میں صرف چند ہفتے ہی رہ گئے ہیں اور اِس دوران انہوں نے کیا ڈلیور کیا ہے اور پاکستانی عوام کو کتنا ریلیف ملا ہے اس طرف تو وہ غالباً سوچتے بھی نہیں ہیں ورنہ کبھی تو مخالفوں کو دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ اپنی کارکردگی کا ذکر بھی کرتے۔ مریم نواز شریف 45 سال اور بلاول بھٹو زرداری 30 سال کے ہیں۔ ان دونوں کو سب سے بڑا ایڈوانٹیج یہ ہے کہ دونوں کے پاس بہت وقت موجود ہے اور دونوں کی سیاسی اٹھان ان کی واپسی کا پتہ دیتی ہے۔ مریم نواز شریف نے پریس کانفرنس میں میاں شہباز شریف کی مصالحت پسندی کو مسترد کرکے عندیہ دے دیا ہے کہ اگلے چند ماہ میں حالات کیا رُخ اختیار کریں گے۔ (ختم شد)

مزید : رائے /کالم