طلبہ اور قومی معاملات

طلبہ اور قومی معاملات
طلبہ اور قومی معاملات

  


ایم فل سطح کے سینئرطلبہ و طالبات کی ایک کلاس سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے۔؟ جواب تھا: اضافہ آبادی کے بم کا پھٹنا اور قوم کی بھاری اکثریت کا تعلیم اور تربیت سے محروم رہ جانا۔! کہا گیا کہ پھر تم ملک کے موجودہ سیاسی اورمعاشی بحران کے متعلق کیا کہتے ہو۔؟ طلبہ نے کہا: اس بحران کا تعلق بھی انہی دو چیزوں سے ہے۔ ہماری آبادی ملکی وسائل کے مقابلے میں بہت بڑھ چکی، لیکن اس تناسب سے قومی وسائل اور آمدنی میں اضافہ نہیں ہورہا۔ تعلیم اور تربیت پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے قوم کے کروڑوں بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔ سکول اور والدین کے تعاون سے بچوں میں صحت و صفائی قومی ذمہ داریوں اور نظم و نسق کا جو احساس پیدا کیا جاسکتا ہے وہ نہیں ہو رہا۔ سکول نہ جانے والے بچے احساس کمتری او ر محرومیوں کا شکار اور جرائم کی طرف راغب رہتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں خود غرض اور نالائق سیاستدانوں نے دانستہ اپنے پراپیگنڈا کے لئے نامعقولیت اور اپنے ناجائز مقاصد کے لئے ہٹ دھرمی کی فضا پیدا کررکھی ہے۔ سیاستدان ایک دوسرے کو چور اور لٹیرا کہہ رہے ہیں۔ عدل کا نظام انتہائی ناقص اور کمزور ہے۔ انصاف حاصل کرنے کی غرض سے جو شخص ایک بار عدالت سے رجوع کرلے،ساری عمر مقدمات میں خوار ہوتا ہے۔ اخبارات کے صفحہ اول پر سیاسی لیڈروں کے پراپیگنڈا سے لیس سیاسی نعرے خبروں کی سرخیوں اور شہ سرخیوں کے طور پر شائع ہوتے ہیں، جو کسی طرح کی خبری اہمیت کے حامل نہیں ہوتے۔ اس طرح ہر وقت ملک پر ایک سیاسی دنگل کی فضا طاری رہتی ہے۔

ایسی ذہنی و فکری فضا افراد قوم میں غیر یقینی پیدا کرتی ہے، مسلسل غیر یقینی مایوسی کو جنم دیتی ہے۔ اس مایوسی کی وجہ سے ملک میں ذہنی انتشار، نفسا نفسی اور افرتفری پیدا ہوتی ہے۔یہ بات واضح طور پر محسوس کی گئی کہ ہماری ٹریفک کی صورتحال نہایت گندی اور قابل رحم ہے روزانہ ملک میں سینکڑوں افراد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو رہے ہیں، ٹریفک قوانین کا شعور نہ ہونے اور ان پر عمل نہ کئے جانے کی بنا پر ٹریفک میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ ہماری ٹریفک میں کوئی طریقہ سلیقہ نظر ہی نہیں آتا۔ ٹرک، ٹرالر، ٹریکٹر گڈے، ریڑھے، ہتھ ریڑھیاں، گدھا گاڑیاں، رکشے، کاریں، سائیکل اور موٹر سائیکل سب ایک ساتھ پھنسے پھرتے ہیں، کسی بھی شہر میں پبلک ٹرنسپورٹ کا کوئی معقول انتظام نہیں۔ سٹرکیں اور ان پر رواں دواں ٹریفک کسی ملک کا چہرہ مہرہ ہوتی ہیں،لیکن ہماری ٹریفک ہمارا بہت بھیانک چہرہ پیش کررہی ہے۔ہمارے شہروں کی فضا دھوئیں اور گرد سے اٹی رہتی ہے۔ بڑے بڑے ٹرکوں اور ٹرالروں پر بیٹھے سولہ سولہ گھنٹے مسلسل ڈرائیونگ کرنے والے ڈرائیور حالت غنودگی میں پیدل چلنے والوں اور چھوٹی ٹریفک میں موت بانٹتے پھرتے ہیں۔ پاکستان آنے والے غیر ملکیوں اورخود کچھ سال باہر رہ کر آنے والے پاکستانیوں کو یہاں جو چیزسب سے پہلے اور نمایاں طور پر کھٹکتی ہے، وہ یہاں ہر طرف ہجوم در ہجوم نظر آنے والی آبادی اور بے ہنگم اور بے ترتیب ٹریفک ہے۔

سیاستدانوں اور سیاسی قیادت کا سب سے بڑا کام قوم کی تربیت اور ان میں ہم آہنگی اور یک جہتی پیدا کرنا ہے۔ ہمارے ہاں علاقائی، لسانی، نسلی، اور مذہبی منافرت پیداکرکے اپنے لئے ووٹوں کا انتظام کرنے کو سیاست سمجھ لیا گیا ہے۔ وزیرستان، بلوچستان، سندھ اور کراچی میں جا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کام میں ہمارے سیاستدانوں نے کس قدر”کامیابی“حاصل کی ہے۔ پاکستان اور دنیا بھرکے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ پاکستان کے لئے سستی بجلی اور پانی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے بے حد اہم ہے، لیکن ہمارے بد باطن قسم کے سیاستدانوں نے اسے سیاسی مسئلہ بنا کرقوم کو اس نعمنت سے محروم کر دیا۔ سیاستدان اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات کے لئے سر جوڑ جوڑ کر بٹھتے اور اس کے لئے اپنے تنخواہ دار کارکنوں سے کام لتیے ہیں، لیکن قوم کے مختلف طبقات میں محبت و اخوت پیدا کرنے اور ان کے باہمی اختلافات اور کشیدگی ختم کرنے کا خیال قومی سیاسی قیادت کہلانے والوں کو کبھی نہیں آیا۔ہماری تاریخ گواہ ہے کہ اس سلسلے میں قوم کی قیادت نہیں کی گئی، البتہ سیاستدان ا پنی اپنی سیاسی دکانداری چمکانے کے لئے اس تاک میں رہتے ہیں کہ مہنگائی یا دوسرے مسائل کے سلسلے میں عوام کی شکایات بڑھیں، وہ احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکلیں تو یہ سیاستدان بھی اپنی اپنی جماعتوں کے جھنڈے لے کر پریشان حال عوام کے جلوسوں آگے آگے آن پہنچیں۔

ایسے معاملات میں سیاستدانوں کو انتہائی ڈھیٹ اور خود غرض پایا گیا ہے، انہوں نے احتجاجی عوام کے آگے جھنڈے پکڑ کر چلتے ہوئے اس بات کی پراوہ کبھی نہیں کی کہ ان مصیبت زدہ عوام نے ان کو اپنی قیادت کرنے کی دعوت بھی دی ہے یا نہیں۔ کیا ان کے دور حکومت میں عوام اس سے بھی زیادہ مسائل کا سامنا کرتے رہے ہیں یا نہیں۔ کیا ان کے آج کے مسائل کا سبب ماضی میں خود ان کی طرف سے قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ ہے یا نہیں؟ طلبہ طالبات سے پوچھا گیا کہ سیاست میں بہتری لانے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ انہوں نے کہا کہ تمام وہ لوگ جو سچے اور دیانتدار ہیں، اور خود کو شریف سمجھتے ہوئے ہر زیادتی برداشت کرنے کے عادی ہیں اور دل ہی دل میں ملکی حالات بہتر ہوجانے کی دعائیں کرتے رہتے ہیں انہیں عملی سیاست میں آنا چاہئیے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا طالب علموں کو سیاست میں آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں تو ہر گز نہیں۔ ان سے کہا گیا کہ کیا وہ خود کوایسے شریف اور معقول لوگ نہیں سمجھتے جو سیاست میں آکر اس کی اصلاح کرسکتے ہوں۔ انہوں نے کہا ایسا ہمارے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہوسکتا ہے۔

اگر ہم نے تعلیم حاصل کرنا ہے تو دوران تعلیم ہمیں سیاست میں اس لئے نہیں آنا چاہئیے کہ حقیقی معنوں میں حصول تعلیم کے لئے بہت دلجمعی اور توجہ کی ضرورت ہے، بہت محنت کرنا ہوتی ہے جس کے لئے پرسکون ماحول درکار ہے۔ لیکن جس طرح کی ہماری موجودہ سیاست ہے اس سے طالب علموں کو ہاہر ہی رہنا چاہئیے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ تعلیمی اداروں میں طالب علموں کی سیاست اور یونین کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں سیاست لانے کے طالب علموں سے زیادہ حامی سیاستدان ہیں کیونکہ انہیں جذباتی طور پر بھڑکائے ہوئے نوجوانوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ نوجوانوں میں اپنی جماعتوں کی برانچ بنانے کے متمنی ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا نوجوانوں کو جمہوریت کا تجربہ کرنے اور خود میں لیڈر شپ کی خوبیاں پیدا کرنے کے لئے یونین کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا یونیورسٹیاں فیکٹریاں نہیں جہاں یونینز کی ضرورت ہو، جس قدر یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں مختلف ہم نصابی سرگرمیوں کے لئے سوسائٹیز کام کرتی ہیں اس طرح کا کام ہمارے ہاں بھی مختلف سوسائٹیز کر رہی ہیں، ہمیں اسی حد تک رہنا چاہئیے۔ جہاں تک ہماری لیڈر شپ کا تعلق ہے تو تعلیمی ادار وں میں ہمارے لیڈر ہمارے اساتذہ ہوتے ہیں۔ جس دن ہم ایک تعلیمی ادارے میں داخل ہوتے ہیں اسی دن سے اساتذہ کو ہر معاملے میں اپنا استاد تسلیم کرلیتے ہیں، کسی طالب علم کی اس کے برعکس سوچ کو اس کی بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم