کچھ فوج اور فوجیوں کے بارے میں (1)

کچھ فوج اور فوجیوں کے بارے میں (1)
کچھ فوج اور فوجیوں کے بارے میں (1)

  


پاکستان کی مسلح افواج میں کمیشنڈ آفیسر ہونا اگرچہ ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ مرورِ ایام سے اس میں وہ دلکشی اور جاذبیت نہیں رہی جو 1971ء کی جنگ تک وافر ’مقدار‘ میں پائی جاتی تھی۔ بعض قارئین میری اس رائے سے متفق نہیں ہوں گے۔ وہ کہیں گے کہ اگر ایسا ہوتا تو فوج کی بھرتی (Intake) میں کمی آ جاتی۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ کمیشن کے لئے آج بھی درخواست دینے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ والدین بھی اپنے بچوں (بلکہ بچیوں) کو کشاں کشاں فوج میں بھیجنے کو باعثِ افتخار گردانتے ہیں۔ PA ڈائریکٹوریٹGHQ راولپنڈی سے بآسانی یہ اعدادوشمار حاصل کئے جا سکتے ہیں کہ بالخصوص آفیسرز کلاس میں امیدواروں کا تانتا کم نہیں ہوا بلکہ ہر برس اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔یہی حال باقی سپاہ کا بھی ہے جس میں نان کمیشنڈ آفیسرز اور جونیئر کمیشنڈ آفیسرز شامل ہیں …… لیکن یہ کالم بالخصوص کمیشنڈ افسروں کی کیٹگری کے بارے میں ہے۔

اس استدلال کی نفی نہیں کی جا سکتی لیکن اس کے برخلاف بعض اشاریئے ایسے بھی ہیں کہ ان کی بھی نفی نہیں کی جا سکتی۔ میں مختصراً آپ کی توجہ اسی اشاریئے کی طرف دلانا چاہتا ہوں …… پہلے یہ ہوتا تھا کہ والدین (میری مراد لکھے پڑھے متوسط گھرانوں کے والدین سے ہے) کو اپنی بیٹیوں کی شادی کے لئے افواج پاکستان کا آفیسر ہونا ان کی پہلی ترجیح ہوتی تھی، اس کے بعد بیورو کریٹس، ڈاکٹرز، انجینئرز آتے تھے اور کاروبار سے منسلک نوجوان آخری ترجیح پر ہوتے تھے۔ آج ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کیا یہ ترتیب تبدیل ہو گئی ہے یا ویسی کی ویسی ہی ہے۔ایسا کیوں ہوتا تھا اس کی وجوہات بھی چند در چند تھیں جن کو کالموں کے اس سلسلے میں آگے چل کر عرض کروں گا۔

ہمارے دورِ ملازمت میں فوجی وردی کا ایک اپنا چارم (Charm) اور دلکشی ہوتی تھی جس میں مالی آسودگی اور امارت وغیرہ کو فوقیت نہیں دی جاتی تھی۔ لیکن آج اگر متوسط پاکستانی گھرانوں میں ریفرنڈم کروایا جائے تو فوج کی یہ دلکشی گہنا سی گئی ہے۔

یہ درست ہے کہ بچے اپنے والد / والدین کے پیشے کو پسند کرتے ہیں۔ اس کی وجوہات بڑی مدلل اور زوردار ہیں۔ سیاستدانوں، وکلاء، اساتذہ اور کاروباری حضرات کی اولادیں چونکہ ایک مخصوص ماحول میں پروان چڑھتی تھیں اس لئے وہ اپنا آبائی پیشہ اختیار کرنے کی طرف رجحان رکھتی تھیں۔ مثلاً بینکار اپنے بیٹے کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، پروفیسر اپنے بیٹے یا بیٹی کو محکمہ ء تعلیم، ڈاکٹر محکمہ ء طب اور کارخانہ دار اپنے بیٹے کو کارخانہ دار بنانے کو ترجیح دیتے تھے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا فوج میں آج بھی یہ مساوات قائم ہے۔ کیا آج کا آرمی آفیسر اپنے بیٹے کو آرمی میں بھیجنے کو ترجیح دیتا ہے؟ پاکستان آرمی کے سینئر آفیسرز کا سروے کیجئے۔ کیا ان کی اولادیں آرمی میں ہیں؟ جن آفیسرز کو میں جانتا ہوں، ان کی اولادیں (بیشتر) فوج میں نہیں، کسی دوسرے پیشے سے منسلک ہیں …… ایسا کیوں ہے؟…… اس کی وجوہات اور مضمرات پر غور کرنا چاہیے۔ کوئی سیاستدان، ڈاکٹر، پروفیسر، بیورو کریٹ، فیکٹری اونر، تاجر یا وکیل اگر اپنے بیٹے کو فوج میں نہیں بھیجتا تو اس کی سمجھ تو آتی ہے لیکن اگر فوجی آفیسرز (بالخصوص سینئر رینک کے آفیسرز) اپنے بیٹوں کو فوج میں نہیں بھیجتے تو اس کا جواب ڈھونڈنا چاہیے۔

پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف کے دونوں بیٹے (گوہر ایوب اور اختر ایوب) آرمی میں کمیشنڈ آفیسرز تھے جنہیں ایوب خان نے صدر بننے کے فوراً بعد فوج سے ریلیز کروایا اور کاروبار میں لگا دیا۔ جنرل یحییٰ کا کوئی بیٹا فوج میں نہیں تھا۔جنرل ضیاء الحق کا بیٹا اعجاز الحق فوج کی بجائے سیاست میں کیوں گیا اور جنرل پرویز مشرف نے اپنے بیٹے کو فوج میں کیوں نہ بھیجا؟…… ان آرمی چیفس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل، میجر جنرل اور بریگیڈیئر رینک کے افسروں کے بیٹے بیٹیوں کی ایک فہرست بنایئے اور دیکھئے کہ انہوں نے اپنے آبائی پیشے کا رخ کیوں نہ کیا؟…… جنرل اختر عبدالرحمن کے دونوں بیٹے آج کہاں ہیں؟ انہوں نے قومی اسمبلی کا رکن بننے کو کیوں ترجیح دی؟ کیا جنرل اختر عبدالرحمن کے والد، فوجی تھے؟ اور اگر تھے تو ان کے اپنے بیٹے فوج میں کیوں نہ گئے؟ ساتھ ہی ان بیٹوں کے موجودہ مالی اثاثوں کی تفصیل بھی دیکھئے اور ان کے اپنے بچوں اور بچیوں کا ایک گوشوارہ بھی سامنے رکھئے کہ وہ اپنے اثاثوں کی نگہبانی کر رہے ہیں یا اپنے اسلاف کے پیشے سے منسلک ہیں؟ اگر نام بتانے لگوں تو کئی صفحات بھر جائیں گے۔ سوال پھر وہی ہو گاکہ فوج میں وہ دلکشی کیوں باقی نہیں رہی جو ان کو سینئر رینک تک لے گئی تھی یا پھر کیا جلبِ زر کی کشش تھی جو ان کو فوج سے دور لے گئی؟ غالب نے اگر پیشہ ء سپاہ گری کو سو پشت کے ماضی کے لئے باعثِ اعزاز جانا تھا تو آج کے سپہ سالار اپنے ماضی کو اپنے مستقبل کا سرمایہ دار کیوں نہیں بنانا چاہتے؟

اپنی مثال اگرچہ کچھ زیادہ معتبر اور مستحسن نہیں گردانی جاتی لیکن میرے والد مرحوم کا پیشہ سپہ گری نہیں تھا۔ دادا ڈاکٹر تھے اور پڑدادا سے شروع کروں تو واقعی سو پشت سے ان کا پیشہ سپاہ گری تھا…… میں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو فوج میں بھیجا۔ اس کے آرمی جوائن کرنے کا ذوق و شوق (بلکہ جنون) اتنا بڑھ گیا تھا کہ ایف ایس سی (میڈیکل) سے بھاگ کر خود فوج کی نوکری اختیار کی، انفنٹری جوائن کی اور وہیں سے ریٹائر ہوا۔ میرے دو داماد فوج میں سینئر رینک (بریگیڈیئر) میں ہیں اور صاحبِ اولادِ نرینہ ہیں۔ میرا پوتا اپنے باپ دادا کے نقشِ قدم پر نہیں گیا بلکہ آرکی ٹیکٹ ہے اور مزید (اعلیٰ) تعلیم کے لئے شکاگو (امریکہ) میں ہے۔ ایک نواسہ کمرشل پائلٹ ہے اور اس نے بھی اپنے والد کا پیشہ اختیار نہیں کیا۔ دوسرے داماد کا بیٹا بھی اے لیول کر رہا ہے اور اس کا فوج میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ میرے ایک داماد کے والد، فوج میں کمیشنڈ آفیسر تھے۔ بلکہ ان کا 80% خاندان فوج میں تھا لیکن اس خاندان کے آج کے لڑکے اور لڑکیاں فوجی وردی پوش نہیں ہیں۔ میں نے ایک دن اپنے بیٹے اور دامادوں سے یہ سوال پوچھا کہ انہوں نے اپنے بیٹوں / بیٹیوں کو فوج میں کیوں نہیں بھیجا تو ان کا جواب بڑا دلچسپ اور فکر انگیز تھا!

ایک نے کہا کہ ہمارے ایک آرمی آفیسر 6برس تک آرمی چیف رہے۔ ان کے والد فوج میں سپاہی تھے۔ ان کے بھائی فوج میں آفیسرز تھے۔ لیکن کیا جنرل کیانی کے بیٹے اور بھتیجے بھانجے فوج میں گئے؟ اگر باپ / دادا کے لئے پیشہ ء سپہ گری قابلِِ افتخار تھا تو ان کی اولادیں اس پیشے سے منسلک کیوں نہ ہوئیں؟ سویلین وزرائے اعظم پر نظر ڈالتا ہوں تو سوائے جمالی صاحب کے کسی کا بیٹا / بیٹے فوج میں نہیں؟

ایک اور سوال جو اسی سے منسلک ہے وہ یہ ہے کہ ان جرنیلوں نے اپنی اولادوں کو سیاست ہی میں کیوں بھیجا؟…… فیلڈ مارشل کے بیٹے گوہر ایوب نے اپنے بیٹے عمر ایوب کو سیاستدان کیوں بنایا؟ جنرل اختر عبدالرحمن کے بیٹوں نے پیشہء سیاست کیوں اختیار کیا؟ جنرل ضیاء الحق کے بیٹے نے بھی سیاست کی اوڑھنی کیوں اوڑھی؟ آج قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے جتنے بھی اراکین ہیں، ان میں بہت سوں کے اجداد کا پیشہ سپہ گری ہو گا۔ اگر ان اراکین اسمبلی نے آبائی پیشہ ترک کیا اور سیاست اختیار کی تو اس کی وجہ کیا تھی؟ اگرچہ یہ لازمی نہیں ہوتا کہ فوج کے فرزندوں کے بیٹے بھی فوجی ہوں لیکن جب سراسر فوجی ماحول میں پرورش پانے والے بچے اپنا آبائی پروفیشن چھوڑ کر سیاست میں آجائیں اور سیاست کی راہ (Via) کاروباری دنیا میں پھلیں پھولیں تو اس سے فوج کا مجموعی تاثر اور امیج گہنائے گا نہیں تو کیا اس میں چار چاند لگیں گے؟……

پاکستان سے باہر نکل کر اگر ان اقوام کی تاریخ دیکھیں جنہوں نے صدہا برس تک دنیا کی امامت کی تو آج دیکھنا پڑے گا کہ ان میں ان کی افواج کا موجودہ سٹیٹس کیا ہے؟ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ پشت ہا پشت سے برطانوی تاجداروں کے بیٹے فوج میں جاتے رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔ امریکہ کے اب تک کے صدور پر نظر ڈالیں تو اس فہرست میں 80% سے زائد امریکی لیڈرشپ کا تعلق فوج سے ہو گا۔ فرانس اور جرمنی کا حال بھی یہی ہے۔ نئے چین کی روایات ابھی تک سیال ہیں۔ یہ ایک دلچسپ مطالعہ (Study) ہو گا اگر کوئی مصنف اس موضوع پر قلم اٹھائے کہ ماضی اور حال میں سویلین لیڈرشپ کی سوانح حیات میں اس کے عسکری پس منظر کا حصہ کیا ہوتا ہے۔

تاہم باوجود اس کے کہ پاکستان کی مسلح افواج میں وراثتی کیف و کم کا حصہ کم ہوتا چلا جا رہا ہے آج اگر پاکستان لاتعداد چیلنجوں سے کامیابی سے عہدہ برآ ہو رہا ہے تو اس میں افواجِ پاکستان کا حصہ باقی دوسرے پیشوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ قوم کی سویلین اور ملٹری الیٹ (Elete) اگرچہ پیشہ ء سپاہ گری پر دوسرے پیشوں کو ترجیح دے رہی ہے پھر بھی ملک کی موجودہ مسلح افواج باقی تمام پیشوں پر سبقت رکھتی ہیں …… مجھے معلوم ہے کہ میری اس جملے سے بہت سے قارئین کے ماتھوں پر شکنیں ابھر آئیں گی اور وہ یہی کہیں گے کہ ملک کو اگر ایک آرکسٹرا تصور کر لیا جائے تو اس میں سارے ساز اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں کہ ایک کامیاب سازینہ اور سمفنی تبھی فردوسِ گوش بنتی ہے جب ہر چھوٹا بڑا ساز اس میں اپنا حصہ ڈالے۔ لیکن اس حصے میں ایک Lion`s Shareبھی تو ہوتا ہے۔اگراس سوال پر بحث کی جائے تو شائد اس بات کا جواب مل جائے کہ باوجود اس کے کہ پاکستان میں فوج میں جانے کے ارمان نسبتاً کم ہوتے جا رہے ہیں، پھر بھی اس کا Shareمقابلتاً گراں قدر اور گرں بہا کیوں ہے۔ جو معاشرے اور اقوام آج ترقی کی معراج پر ہیں ان کے اوج و عروج کا مطالعہ کیا جائے تو آپ کو یہی معلوم ہو گا کہ اس سازینے میں کس ساز کا حصہ Lion`s Share ہے۔ (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم