جیت کا جذبہ

جیت کا جذبہ
جیت کا جذبہ

  


قومی کرکٹ ٹیم نے گزشتہ روز افریقہ کے خلاف اہم میچ میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ٹورنا منٹ میں اپنی واپسی کی اہلیت ثابت کر دی ہے اورمخالف ٹیموں کو یہ پیغام جاری کر دیا ہے کہ انہیں تر نوالہ سمجھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔اگر اس میچ کو پاکستان کی کامیابی اور آگے جانے کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دیا جائے تو غلط نا ہو گا کیونکہ پاکستان انڈیا،آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز سے میچ ہار چکا تھا اور سابقہ سیریز میں قومی ٹیم کو شکست دینے والی افریقہ اس میچ میں فیورٹ تھی۔لیکن قومی ٹیم نے اس میچ میں شاندار کم بیک کیا اور جاندار کامیابی حاصل کی۔حالانکہ قومی ٹیم اس برس افریقہ سے سیریز ہار چکی تھی جس کا ایڈوانٹج افریقہ جیسی مضبوط اعصاب کی مالک ٹیم اٹھانے سے قاصر رہی۔یہی نہیں بلکہ افریقہ قومی ٹیم کے باؤلرز اور بلے بازوں کے سامنے زیادہ مزاحمت نا کر سکی۔سوائے اس کی فیلڈنگ نے قومی ٹیم کے خاصے رنز روکے لیکن پاکستان نے انہیں سات کیچز بطور تحفہ دے کر اپنی فیلڈنگ کی کمی بھی ظاہر کی۔خیر میچ میں کھلاڑی جیت کے جذبے کے ساتھ کھیلتے نظر آئے اور انہوں نے افریقہ کی ایک نا چلنے دی۔ٹیم میں کی گئی دو تبدیلیوں کا بھی قومی ٹیم کو فائدہ ہوا اور حارث سہیل نے اپنی سلیکشن کو درست ثابت کرتے ہوئے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور مین آف دی میچ قرار پائے۔اگر میچ میں شاہین کی جگہ حسنین کو کھلا لیا جاتا تو میچ پہلے بھی ختم ہو سکتا تھا لیکن ہمارے کپتان کسی کی سننے کو راضی نہیں ہوتے۔

میں کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ سرفراز احمد سے میرا کوئی اختلاف نہیں لیکن وہ قومی ٹیم پر اب بوجھ بنتے جا رہے ہیں انہیں اپنے مستقبل بارے سوچنا ہو گا اور محمد رضوان کے لیے جگہ خالی کرنا ہو گی۔بار بار لک کا عمل دخل ان کے عیبوں پر پردہ ڈال دیتا ہے کیونکہ انہیں اپنی اہلیت کا اندازہ ہے جب ہی انہوں نے اپنے سے پہلے عماد،وہاب کو بھیجا تھا اگر ان میں اتنی اہلیت ہوتی تو وہ قومی ٹیم کو اپنی اچھی اننگ سے مستفید کر سکتے تھے۔لیکن ان پر پی سی بی کا آشیر باد ہے۔حالانکہ ان کے نازک کندھے اب بھی تینوں فارمیٹ کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہوئے۔ جس کے باعث ان کی پرفارمنس پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔انہیں اپنی غلطی کا ازالہ کرنا ہو گا اور قومی ٹیم میں پھوٹ پڑنے سے قبل عزت کے ساتھ جگہ خالی کرنی ہو گی۔ورنہ ورلڈ کپ کے بعد قومی ٹیم سے جانے والے کھلاڑیوں میں ان کا نام بھی شامل ہو سکتا ہے۔اور یہ کوئی بڑی بات نہیں ہو گی۔افریقہ کے ساتھ میچ میں ان کا ڈارسن کا چھوڑا گیا کیچ ضرور یاد ہونا چاہیے جو سیدھا ہاتھوں میں تھا اور انہوں نے ڈراپ کر دیا۔ اگر قومی ٹیم اپنی پرفارمنس کے ساتھ سیمی فائنل میں پہنچ جاتی ہے تو شاید ان کی واپسی کا پروانہ رک جائے لیکن اس طرح کرنے سے ان کی ذاتی پرفارمنس داغدار ہی رہے گی۔

کل قومی ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف اہم میچ کھیلنے جا رہی ہے۔اگر قومی ٹیم نے اس میچ میں کامیابی حاصل کر لی تو شاید قومی ٹیم سیمی فائنل میں بھی رسائی کر جائے۔اس کے لیے کھلاڑیوں کا چناؤ بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ نیوزی لینڈ کے تمام فاسٹ باؤلر ز نے اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ ہمارے باؤلرز میں تھوڑی حد تک وہاب ریاض نے متاثر کن کارکردگی دکھائی ہے جبکہ محمد عامر نے اس ایونٹ میں اپنے آپ کو ٹاپ کلاس باؤلر ثابت کیا ہے جس کا نتیجہ ان کی اس ایونٹ میں جاری پرفامنس سے نکالا جا سکتا ہے حالانکہ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق انہیں کھلانے کے حق میں نہیں تھے۔حارث سہیل کے آنے کے بعد قومی ٹیم کا بیٹنگ آرڈر مظبوط ہو گیا ہے اگر اس میں آصف علی کو بھی شامل کر لیا جائے تو ان کا فائدہ نیوزی لینڈ کے میچ میں مل سکتا ہے کیونکہ آصف فاسٹ باؤلرز کو اچھا کھیلتے ہیں اور شرجیل خان و فخر کے بعد قومی ٹیم کو ان کی صورت میں ہارڈ ہٹر کافی عرصہ بعد میسر ہوا ہے اگر کوچ چاہیں تو ان کو اچھا استعمال کر کے ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔خیر قومی ٹیم کو عامر،وہاب، حفیظ، شاداب، حارث کے ساتھ حسنین کو کھلایا جائے اور عماد کی جگہ آصف کو شامل کر لیا جائے۔

مزید : رائے /کالم