آئین اور الیکشن ایکٹ میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ سزایافتہ پارٹی کا عہدیدار نہیں ہوسکتا،مریم نواز نے پارٹی عہدے کیخلاف درخواست پر جواب جمع کرادیا

آئین اور الیکشن ایکٹ میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ سزایافتہ پارٹی کا عہدیدار ...
آئین اور الیکشن ایکٹ میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ سزایافتہ پارٹی کا عہدیدار نہیں ہوسکتا،مریم نواز نے پارٹی عہدے کیخلاف درخواست پر جواب جمع کرادیا

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوازنے پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف دائر درخواست پر اپنا جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیا جبکہ مسلم لیگ(ن)نے الیکشن کمیشن سے مہلت طلب کرلی جس پر الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت4 جولائی تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان میں مریم نواز کے پارٹی عہدے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی،چیف الیکشن کمشنر سردار رضا حیات کی سربراہی میں3 رکنی بنچ نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی ملیکہ بخاری کی درخواست پر سماعت کی،مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے اپنے جواب الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا جبکہ وکیل ن لیگ کاکہناتھا کہ مسلم لیگ(ن)کاجواب آئندہ ہفتے جمع کرادیاجائےگا،مریم نواز نے اپنے جواب میں کہاہے کہ آئین اور الیکشن ایکٹ میں ایسی کوئی ممانعت نہیں ہے، ایسی کوئی شرط نہیں کہ سزایافتہ پارٹی کا عہدیدار نہیں ہوسکتا،آمریت میں عوامی نمائندوں کوانتخاب سے روکنے کیلئے ایسے قوانین ہوتے تھے، مریم نواز کاکہناتھا کہ سیاسی جماعتوں کے آرڈر 2002 میں شق تھی سزایافتہ پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا،پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ2017 میں اس شق کو ختم کردیا تھا۔

دوران سماعت رکن خیبرپختونخوا نے استفسار کیا کہ کیامریم نوازکی تعیناتی کانوٹیفکیشن جمع کرایا؟وکیل نے کہا کہ درخواست گزارنے اخباروں کی کٹنگ لگائی ہے نوٹیفکیشن نہیں،الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 4 جولائی تک ملتوی کردی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد /اہم خبریں