”پہلی مرتبہ دیکھا ہے کہ خاتون پر کرپشن کا اتنا بڑا الزام ہو “چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ ریمارکس کس کیس میں دیئے ؟ بڑی خبر آ گئی

”پہلی مرتبہ دیکھا ہے کہ خاتون پر کرپشن کا اتنا بڑا الزام ہو “چیف جسٹس آصف ...
”پہلی مرتبہ دیکھا ہے کہ خاتون پر کرپشن کا اتنا بڑا الزام ہو “چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ ریمارکس کس کیس میں دیئے ؟ بڑی خبر آ گئی

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ نے کلرک نزہت بی بی کی بقایا 10 سال قید ختم کرتے ہوئے جرمانہ برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ہے ، نزہت بی بی کو جرمانے کی رقم ایک کروڑ 39 لاکھ16 ہزار 306 روپے کی رقم ادا کرنی ہو گی ۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کلرک نزہت بی بی کی سزا کے خلاف درخواست کی سماعت کی جس دوران عدالت عظمیٰ نے ملزمہ کی بقایا 10 سال قید ختم کر دی ہے جبکہ جرمانے کی سزا کو برقرار رکھاہے ، عدالت کا کہناتھا کہ ملزمہ نزہت بی بی چار سال جیل کاٹ چکی ہیں ۔سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نزہت بی بی کو جرمانے کی رقم ایک کروڑ 39 لاکھ16 ہزار 306 روپے کی رقم ادا کرنی ہو گی ۔

عدالت میں دلائل دیتے ہوئے ملزمہ کے وکیل کا کہناتھا کہ منگنی کے وقت حق مہر کے طور پر افتخار احمد نے ایک کروڑ ،100 تولے سونا اور گھر دیا تھا ۔ نزہت بی بی کی 2002 میں منگنی ہوئی تھی ۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں پہلا کیس دیکھ رہاہوں جس میں کسی خاتون پر کرپشن کا اتنا بڑا الزام ہے ۔ عدالت کا کہناتھا کہ نزہت بی بی 2002 میں پاکستان ملٹری سیل پشاور میں بطور کلرک تعینات ہوئیں ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نزہت بی بی کی شادی تو 2005 میں ہوئی ،دستاویزات کے مطابق تو افتخار احمد نے شادی کے وقت مہر دینے کا کہا تھا ، افتخار احمد ایک پوسٹ ماسٹر تھا اس کے پاس اتنی رقم کہاں سے آئی۔

جسٹس یحیٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تو نکاح نامہ بھی مشکوک لگ رہاہے ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نکاح رجسٹرار نے بھی اپنے دستخط سے انکار کر دیاہے ۔یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے ملزمہ نزہت بی بی کو 14 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی ۔

مزید : قومی