اپوزیشن چالیس سال حکومت کرتی رہی اورہم سے حساب مانگتی ہے،ایف بی آر سے گھروں پر چھاپے مارنے کے اختیارات واپس لے لیے:حماد اظہر

اپوزیشن چالیس سال حکومت کرتی رہی اورہم سے حساب مانگتی ہے،ایف بی آر سے گھروں ...
اپوزیشن چالیس سال حکومت کرتی رہی اورہم سے حساب مانگتی ہے،ایف بی آر سے گھروں پر چھاپے مارنے کے اختیارات واپس لے لیے:حماد اظہر

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہاہے کہ اپوزیشن والے چالیس سال حکومت کرتے رہے اور ہم سے حساب مانگتے ہیں جو ممالک ہم سے پیچھے تھے ، آج ہم سے آگے ہیں ، ماضی میں سیاسی فائدے کیلئے سخت فیصلے نہیں کئے گئے،اپنی سیاست بچانے کے لیے مسلم لیگ نون نے ملکی معیشت دا پر لگا دی جبکہ ٹیکس ریونیو میں اضافے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں،ایف بی آر سے گھروں پر چھاپے مارنے کے اختیارات واپس لے لیے،حکومتِ پاکستان آئندہ سٹیٹ بینک سے قرضے نہیں لے گی،پھلوں اور سبزیوں پر بھی کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے حماداظہر نے کہا کہ آج ہمارا ادائیگیوں کا توازن گزشتہ سال اگست سے بہتر ہے، قطر نے تین ارب ڈالر امداد کا وعدہ کر رکھا ہے جبکہ اسلامک ڈویلپمنٹ بینک سے بھی امداد کا معاہدہ ہو چکا ہے،زرمبادلہ کے ذخائر کو جنوری سے مستحکم کر دیا گیا جبکہ سالانہ کرنٹ اکانٹ خسارے میں بھی 30 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔ ہمیں 9 ارب ڈالر کی امداد دوست ممالک نے دی اور 3 ارب ڈالر قطر دے رہا ہے، استحکام کی پالیسی پر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے جو اقدام کیے وہ یہ تھے کہ پہلے 9 ماہ میں پیپلز پارٹی کے دور میں مہنگائی ساڑھے 24 فیصد، مسلم لیگ نون کی 11 فیصد اور ہم نے 9 فیصد کی لیکن ہم مہنگائی کو 5 فیصد پر کرنے کے خواہشمند ہیں، جسے بتدریج کم کرنے کی کوشش کریں گے، اگر مسلم لیگ نون کی معیشت مستحکم تھی تو پھر سابق وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے بیل آٹ پیکج کی پیش گوئی کیوں کر گئے تھے، آخری بجٹ میں کئی سو ارب کا خسارہ کر گئے اور بجٹ میں ڈیڑھ سو ارب کے ریونیو بھی مزید کم کردیے گئے، ہم نے جب حکومت سنبھالی تھی تو دو ہفتے سے بھی کم کے بیرونی ذخائر تھے لیکن اب پچھلے ڈیڑھ سال میں پاکستان کے بیرونی ذخائر 19 ارب ڈالر سے کم ہو کر 6 ارب ڈالر رہ گئے ہیں،اب ہم زر مبادلہ کے ذخائر بڑھائیں گے اور تین سے چار فیصد ٹیکس ریونیو کو مزید بڑھائیں گے، پھلوں اور سبزیوں پر بھی کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا البتہ درآمد شدہ پھلوں، سبزیوں پر ٹیکس لگایا گیا ہے جو امرا کھاتے ہیں۔

اسی طرح ہم نے آٹے اور گھی پر کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگایا ہے، ہمیں معلوم نہیں 10 لاکھ افراد کیسے بے روزگار ہوئے ہیں اور حزب اختلاف یہ اعداد و شمار کہاں سے لائے ہیں جبکہ وزیر اعظم ہاسنگ پراجیکٹ پر کام جاری ہے جو نجی شعبہ کے ذریعے کیا جا رہا ہے اس سے روزگار کے مواقع کھلے ہیں، اسی طرح احساس پروگرام، غربت مٹا پروگرام لا رہے ہیں جس کے لیے 190 ارب روپے مختص کیے، بجلی کی سبسڈی کے لیے بھی 217 ارب روپے رکھے گئے ہیں،چینی کی قیمت میں اضافہ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ چینی پر ٹیکس لگا کر اسے 17 فیصد کیا گیا جس سے چینی کی قیمت میں ساڑھے تین روپے کلو کا اضافہ ہو گا لیکن 20 روپے فی کلو جو قیمت بڑھی ہے اس کی وجہ سے یہ ٹیکس نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے قرضے لئے لیکن آمدن نہیں بڑھائی ، گزشتہ پانچ سال میں تجارتی خسارہ دگنا ہوگیا تھا، نیا قرضہ پرانے قرضوں کا سود ادا کرنے کیلئے بھی کافی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گھی پر کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا، چینی پر سلز ٹیکس بڑھایا گیاہے ، معیشت میں گزشتہ ستر سال سے بنیادی نقائص رہے ہیں معیشت میں نقائص کوماضی کی کسی حکومت نے دور نہیں کیا ، تعلیم صوبائی ذمہ داری ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے کرنٹ اخراجات میں 9 فیصد کٹوتی اور سابق ترقیاتی اخراجات میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح صحت کے لیے 13 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وزیر اعظم ہاس کے اخراجات 98 کروڑ تھے جن کو 32 فیصد کمی کر کے 66 کروڑ پر لایا جا چکا ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر زراعت کے شعبے میں 280 ارب روپے خرچ کریں گے، کوئٹہ کے لیے 10 ارب اور کراچی کے لیے 45 ارب روپے مختص کیے ہیں، اسی طرح سابق فاٹا میں 10 سال کے دوران صوبوں کے تعاون سے ایک ہزار ارب روپے خرچ کریں گے، ہمیں 8 ہزار ارب ٹیکس کی ضرورت ہے لیکن ہم 4 ہزار سے زائد اکٹھا نہیں کر پا رہے اور جب تک ٹیکس کی آمدن کو نہیں بڑھائیں گے اس وقت تک فلاحی کام نہیں کر سکتے۔ حکومت نے کالا دھن پیدا کرنے کے تمام عوامل کو بھی روکنے کی کوشش کی، ڈیٹا انٹریگریشن گزشتہ 10 سال سے نہیں ہو رہا تھا لیکن ہم نے 10 ماہ میں ساڑھے 5 کروڑ افراد کو انٹریگریٹ کردیا ہے، ہم ایک لاکھ 52 ہزار افراد کا ڈیٹا اکھٹا کر چکے ہیں اور مزید 10 ممالک سے بھی ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، ٹیکس ٹارگٹ 5 ہزار 550 ارب روپے رکھا گیا ہے کیونکہ عام آدمی کو سہولت دینے کیلئے ٹیکس آمدن بڑھانے کی ضرورت ہے اور ٹیکس اضافے کیلئے ایف بی آر میں اصلاحات بھی ضروری ہیں، سیگریٹ سے حاصل ہونے والا اضافی ٹیکس صحت کے شعبہ پر خرچ کیا جائے گا جبکہ مقامی تیار گاڑیوں پر ایف ای ڈی عائد کی گئی ہے اسی طرح 50 ہزار روپے سے کم کی خریداری پر شناختی کارڈ نمبر دینا ضروری نہیں ہو گا۔ ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے لیے موبائل ایپ بن رہی ہے۔

حماد اظہر نے کہاہے کہ مشکل فیصلے لینے میں مشکل تب ہوتی ہے جب قومی مفاد کی بجائے اپنا مفاد عزیز ہو، بجلی اور گیس کے شعبوں میں 453 ارب خسارہ بڑھ گیا،بجلی اور گیس کے محکمے میں نقصان بڑھ رہے تھے لیکن اصلاحات نہیں کی گئیں؟ آج یہ ملک معاشی طورر آگے جا چکے ہیں، کیا یہ عمران خان کی وجہ سے ہوا؟کوریا،ملائیشیا، انڈونیشیا اور دیگر ایشیائی ممالک پاکستان سے پیچھے تھے، ہم ان سے حساب مانگتے رہیں گے،یہ چالیس سال تک حکمران رہے تو عوام کے لیے کیا کیا؟کیا اس سب کا ذمے دار عمران خان یا موجودہ حکومت ہے؟جب ہم نے حکومت سنبھالی غربت، بجلی، پانی، گیس روزگار نہیں تھا،سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، ارکان پارلیمنٹ اور عملے کا بھی شکرگزار ہوں، آج سٹیٹ اون انٹرپرائز کا خسارہ رکنے کا نام نہیں لے رہا گیا، ملک میں تعلیم اور پینے کا پانی نہیں ہے ،  ماضی میں سیاسی فائدے کیلئے سخت فیصلے نہیں کئے گئے ،معیشت ٹھیک ہونے تک ان سے حساب مانگتے رہیں گے،ہم سے 10 ماہ کا حساب مانگنے والے پہلے 40 سال کی حکمرانی کا حساب دیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں