کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے اثرات کئی صدیوں تک محسوس کئے جائیں گے

کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے اثرات کئی صدیوں تک محسوس کئے جائیں گے

  

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی کورونا وائرس کے بحران سے نکلنے کی صرف جدوجہد کر رہے ہیں مگر مکمل طور پر کوئی بھی ملک یہ دعوی نہیں کر رہا کہ وہ کورونا فری ہے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کیا گیا مگر اسکے کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں ہوئے ان خیالات کا اظہار آل پاکستان الیکٹرک فن مینوفیکچر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک اظہار احمد اعوان نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ کورونا نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی چیخیں نکلوا دی ہیں پاکستان ترقی پذیر ملک ہے جو قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہے تو بیروزگاری بھی اپنے عروج پر ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بڑی جرات اور بہادری کے ساتھ لاک ڈاؤن کوختم کر دیا ہے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی لاک ڈاؤن کو ختم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کورونا وائرس کب ختم ہو گا کسی کو کچھ معلوم نہیں انہوں نے کہا کہ کورونا سے پہلے ایف بی آر نے صنعتکاروں کی چیخیں نکلوا دیں اور وہ بددل ہو کر گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہو گئے تو اچانک کورونا کی وباء کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن ہوا دو ماہ کے لاک ڈاؤن کے اثرات دو صدیوں تک محسوس کیے جائیں گے چھوٹی فیکٹریاں اور صنعتیں تو کجا بڑی فیکٹریاں بھی اپنی بقا ء کی جنگ لڑ رہی ہیں اب تو صورتحال یہ ہے کہ اس وقت عوام اور پولیس‘ مزدور اور آجر‘ خاوند اور بیوی‘ بچے اور باپ‘ بدترین معاشی حالات کی وجہ سے آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کا موقف ہے کہ وہ کورونا کی وبائی مرض سے اگر نکل بھی جائیں تو انکی معیشت تین صدیاں پیچھے چلی گئی ہے تو پاکستان کا کیا حال ہوگا جہاں شرح نمو پہلے ہی خوفناک حد تک کم سے کم ہوتی چلی جا رہی ہے تو بیروزگاری کی شرح کے بھی تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں پاکستان لاک ڈاؤن کا مکمل طور پر متحمل نہیں ہو سکتا حکمرانوں کو انتہائی شعور اور تدبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا کورونا کسی نہ کسی صورت اب ہمارے معاشرے کا لازمی جزو بن گیا ہے انہوں نے کہا کہ دنیا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پنکھا سازی صنعت جو ملک کے لیے گرانقدر زرمبادلہ اکٹھا کرتی ہے ایکسپورٹ کے آرڈرز حاصل نہیں کر سکی حتی کہ پنکھا سازی کی صنعت ملکی ضروریات بھی پوری کرنے کے قابل نہیں رہی کیونکہ خام مال فراہم کرنے والی چھوٹی صنعتیں اور تاجر پابندیوں کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت ملک میں کوئی بھی تھنک ٹینک کام نہیں کر رہا ہر شخص بھانت بھانت کی بولیاں بول کر اپنی راہ ناپ رہا ہے پاکستان کو اس وقت جتنی مخلص قیادت کی ضرورت ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی صنعتکاروں‘ تاجروں کے مسائل اور انکی مشکلات کا ازالہ کرنے والے اسٹیک ہولڈرز اور سیاستدان بلاشبہ تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوائیں گے یہ بھی حقیقت ہے کہ کورونا کے آفر شاکس جس قدر خوفناک محسوس کیے جا رہے ہیں اس سے یہ اندازہ لگانا بعید از قیاس نہیں کہ کورونا نے پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی پرکاری ضرب لگائی ہے ترقی یافتہ ممالک تین صدیاں پیچھے جانے کا واویلا کر رہے ہیں تو پاکستان تو ان سے پھر کئی صدیاں پیچھے چلا جائے گا کورونا بحران اور لاک ڈاؤن ملک کے سیاستدانوں کے لیے ایک آزمائش کی گھڑی ہے اس بحران میں جس سیاستدان نے تاجروں اور صنعتکاروں کے علاوہ عوام کی ہمدردیاں حاصل کر لیں تو وہی مقدر کا سکندر ہوگا وگرنہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے پہلے بیروزگاری نے مارا‘ رہی سہی کسر ایف بی آر نے پوری کی تو کورونا لاکھوں ہلاکتوں کا باعث بن چکا ہے لوگ اپنی زندگیاں بچانے کیلئے اپنی جمع پونجی خرچ کرنے پرمجبور ہیں حکومت کے بارہ ہزار روپے سے بارہ گھنٹے بھی گزارنا مشکل ہے اگر حکومت بحران سے احسن طریقے سے نکلنا چاہتی ہے تو ایک منظم انداز سے لاک ڈاؤن کو ختم کرے اور تمام تر ایس او پیز پر عمل کرائے نہ کہ لاک ڈاؤن کر کے پورے ملک کو جام کر کے رکھ دیا جائے یہ ایک غریب ملک ہے پاکستان کے غریبوں کے اندر قوت مدافعت سب سے زیادہ ہے کورونا تو کیا کورونا کا باپ بھی ان غریبوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اگر کوئی چیز بگڑ سکتی ہے تو حکمرانوں کی کم عقلی اور بیوقوفی کی وجہ سے پاکستان کی معیشت ہے جو اگر بگڑ گئی تو اسے سنبھالنے والا کوئی نہ ہوگا کیونکہ پہاڑ کے اوپر چڑھنا سب سے مشکل اور پہاڑ سے نیچے اترنا سب سے زیادہ آسان لگتا ہے انہوں نے کہا کہ گجرات پنکھا سازی کی صنعت کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت کا حامل ہے اب اس صنعت سے وابستہ لاکھوں ہنر مند اور غیر ہنر مند بیروزگارہو کر خود کشیوں پر مجبور ہو گئے ہیں صنعت پنکھا سازی کے اربوں روپے مارکیٹ میں ادھار دیکر بکھرے پڑے ہیں ادھار لینے والے لاک ڈاؤن کا رونا رونا شروع کر دیتے ہیں تو ادھار واپس لینے والے بھی انکا جواب سن کر اپنا سر زمین پر پٹخنے پر مجبور ہیں صنعتکاروں کی جمع پونجی مارکیٹ میں بکھری پڑی ہے ان حالات میں اگر حکومت نے فوری طور پر مکمل طور پر لاک ڈاؤن ختم نہ کیا اور اپنے ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرایا تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ لوگ جن کی گھریلو معیشت کورونا نے پہلے ہی تباہ کر رکھی ہے خود کشیوں پر مجبور ہو جائیں گے اور اسکے اثرات کئی صدیوں تک محسوس کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ پنکھا سازی صنعت نے اجتماعی طو رپر حکمران بالا سے اپیل کی مگر کسی نے اپیل کا مثبت جواب نہیں دیا پنکھا سازی صنعت کو اپنے چاروں طرف بقا کی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے ایک طرف مارکیٹ میں ڈوبے ہوئے اربوں روپے‘ دوسری طرف ایف بی آر کی چیرہ دستیاں‘ تیسری طرف حکومت لاک ڈاؤن اور چوتھی طرف عوام کی قوت خریداری کا خاتمہ شامل ہے ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ معاشرے پر ضرور مرتب ہونا چاہیے تھا مگر ذخیرہ اندوزوں اور کرپٹ سرکاری ملازمین و افسران نے عوام کو اس تاریخی فائدے سے محروم رکھا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کو پاکستانی تاجروں اور صنعتکاروں سے اس قدر پیار کرنا چاہیے جس طرح ایک والد اپنی اولاد سے کرتا ہے پاکستان میں جو صنعتکار ایماندارانہ طریقے سے ہر قسم کے ٹیکس ادا کرتا ہے اس کے لیے عرصہ حیات اور حلال رزق کمانے کا وسیلہ بند کر دیا جاتا ہے اور کرپٹ مافیا ان ایماندار صنعتکاروں اور تاجروں کا منہ چڑاتے ہوئے انہیں طعنے دیتے ہیں کہ انہیں ایمانداری کا صلہ مل گیا ہے بڑھتی ہوئی مہنگائی‘ روپے کی گرتی ہوئی قیمت کی وجہ سے پنکھا سازی کی صنعت پہلے ہی بحران کا شکار تھی یمن‘ شام‘ عراق اور مصر کی جنگ کی وجہ سے پنکھوں کی ایکسپورٹ پہلے ہی متاثر ہو چکی تھی جنگ کے اختتام پر تھوڑا بہت سکھ کا سانس لیا تو موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آتے ہی ایف بی آر نے صنعتکاروں‘ تاجروں کا جینا محال کر دیا پاکستانی صنعتکار پہلے بھی ایماندار کے ساتھ ٹیکس ادا کر رہے تھے اگر کوئی ٹیکس چوری کرتا ہے تو یقینا اسے سیاسی آشیر آباد حاصل ہوتی ہے اور جو لوگ حق حلال کی روزی کماتے ہیں انہیں مال و دولت کی نسبت اپنی عزت سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے گجرات جسے پنکھوں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے میں سینکڑوں پنکھا ساز ادارے بند ہو چکے ہیں کورونا وائرس اور ایف بی آر کا صنعتکاروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے اثرات کئی صدیوں تک محسوس کیے جائیں گے پفما کے چیئرمین ملک اظہار احمد اعوان ملک کے معروف صنعتکار ملک اعجاز احمد اعوان کے چھوٹے بھائی ہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -