حکومت کا اندرونی خلفشار

حکومت کا اندرونی خلفشار

  

سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے پاس چھ ماہ ہیں، وزیراعظم نے بھی کہہ دیا کہ چھ ماہ میں کارکردگی نہ دکھائی تو معاملات دوسری طرف چلے جائیں گے،پارٹی کے اندرونی جھگڑوں سے حکومت کو نقصان پہنچا، وزیراعظم کے مشیر فیصلے کر رہے ہیں اور سیاسی لوگ منہ دیکھ رہے ہیں۔تحریک انصاف کی حکومت اور وزیراعظم سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کی گئیں یہ امیدیں نٹ بولٹ ٹھیک کرنے کے لئے نہیں،بلکہ پورے نظام کی اصلاح کے لئے ہیں، اِس لئے اس حکومت کو جانچنے کے لئے پیمانہ دوسروں سے مختلف ہے، ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں کہ ڈلیور نہیں کر سکے، جب حکومت بنی تو جہانگیر ترین، اسد عمر اور شاہ محمود میں اتنے جھگڑے ہوئے کہ سارا سیاسی طبقہ کھیل سے باہر ہو گیا، جہانگیر ترین نے اسد عمر کو وزارت سے فارغ کرا دیا۔سیاسی خلا نئے لوگوں نے پُر کیا جن کا سیاست سے تعلق نہیں تھا۔ عہدوں پر کمزور لوگوں کو لگایا گیا، جو ہر بات کی ڈکٹیشن لیں اس کا عمران خان کی ذات کو نقصان پہنچا ہے، حکومت دو چیزوں پر چلتی ہے ایک سیاست پر اور دوسری گورننس پر، اِن دونوں میں توازن نہ رہے تو معاملات کسی بھی وقت قابو سے باہر نکل جاتے ہیں،عمران خان کی ناکامی ایک فرد کی ناکامی نہیں ہو گی۔ وفاقی وزیر نے اِن خیالات کا اظہار غیر ملکی میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جب اس انٹرویو پر ساتھی وزیروں نے نکتہ چینی شروع کی تو فواد چودھری نے یہ موقف اختیار کیا کہ اُن کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کون سی باتیں کہاں سیاق اور کہاں سباق سے ہٹی ہوئی تھیں، البتہ انٹرویو میں اُن کے خیالات سُن کر ان کی پارٹی میں ان کے ہمدردوں نے اُنہیں یہ مشورہ دینے میں دیر نہیں لگائی کہ وہ مطمئن نہیں ہیں،تو عہدہ چھوڑ دیں، کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے فواد چودھری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ نے پہلے بھی ایسے متنازع بیانات دیئے تھے، پہلے بھی روکا تھا،لیکن آپ باز نہیں آئے،انہوں نے فواد چودھری کے بیان کو بے وقت قرار دیا۔ کابینہ کے دوسرے ارکان نے بھی ساتھی وزیر کو ہدفِ تنقید بنایا،وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے اسد عمر، رزاق داؤد اور ندیم بابر کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی اور کچھ ارکان پر سازشوں کا الزام بھی لگا دیا،جس پر وزیر اعظم نے اُنہیں کہا کہ وہ زیادہ جذباتی نہ ہوں اور پُرسکون(ریلیکس) ہو جائیں،مَیں تمہارے جذبات سمجھ سکتا ہوں۔فیصل واوڈا نے کہا کہ وزراء کی نااہلی کی وجہ سے حکومت بدنام ہو رہی ہے۔ کابینہ کے اندر سے لوگ سازشیں کر رہے ہیں،یہاں گیم ہو رہی ہے ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے، کابینہ میں کچھ کہا جاتاہے، باہر کچھ اور کہتے ہیں، کچھ وزراء اپنے آپ کو وزیراعظم سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔

کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم کی موجودگی میں جو کچھ کہا سنا گیا، اُس سے سننے اور دیکھنے والوں کو اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں پر اعتبار ہی نہیں آیا، قومی اسمبلی میں اگر کوئی اپوزیشن رکن ایسے خیالات کا عشرِ عشیر بھی بیان کر دے تو جذباتی وزراء ایوان کے تقدس کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور لڑنے مرنے پر اُتر آتے ہیں، کئی بار تو ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔ اِدھر کسی اپوزیشن رکن کی زبان سے حکومت کے خلاف کوئی بات نکلی اور اُدھر وزراء نے اپنا حق الخدمت ادا کرنا شروع کر دیا،لیکن یہاں وزیر، اپنے ساتھی وزیروں مشیروں اور معاونین خصوصی پر کھل کر نکتہ چینی کر رہے تھے اور یہ سب کچھ وزیراعظم کی موجودگی میں ہو رہا تھا جسے سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندر نظم و ضبط نام کی کوئی چیز نہیں،بات بات پر وزیراعظم کو خراجِ تحسین تو پیش کیا جاتا ہے،لیکن اُن کے مشوروں پر عمل نہیں کیا جاتا، وہ بار بار اپنے وزراء سے کہہ رہے ہیں کہ ذمہ دار عہدوں پر بیٹھ کر غیر ذمے داری کی باتیں نہ کریں،لیکن کوئی اُن کی بات سننے کے لئے تیار ہی نہیں، کہتے اور کرتے وہی ہیں جو اُن کا دِل کہتا ہے، ایسے میں کابینہ سے کس کارکردگی کی توقع کی جا رہی ہے اور کیا یہ ممکن ہے کہ اگلے چھ ماہ میں یہ تمام وزیر اپنی اصلاح کر لیں اور ایک دوسرے کے گلے پڑنے کی بجائے اپنی اپنی وزارتوں کی کارکردگی پر توجہ دیں،لیکن عام خیال یہ ہے کہ وزیر ہر وہ بات کرتا ہے جس کا اُس کی اپنی وزارت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،کئی وزیر تو ایسے ہیں، جنہوں نے عملاً یہ ثبوت مہیا کر دیا ہے کہ اُنہیں پتہ ہی نہیں کہ اُن کے پاس کون سی وزارت ہے اور اس کے تقاضے کیا ہیں۔ کابینہ کے اجلاس کے مناظر سننے کے بعد اگر کوئی مخالف یہ تبصرہ کرے کہ ریت مُٹھی میں سے پھسلتی جا رہی ہے تو کیا غلط ہو گا؟

اسد عمر جب وزارتِ خزانہ سے فارغ ہوئے تو وہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے، جن کا مقصد بیل آؤٹ پیکیج کا حصول تھا، ماہرین کا خیال تھا کہ مذاکرات جلد از جلد مکمل کر کے پیکیج لے لیا جائے،لیکن اسد عمر اس میں تاخیر کر رہے تھے جس پر یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ اُنہیں وزارت سے رخصت کر دیا جائے اور نئی ٹیم مذاکرات کرے۔ایک شام اپنے مستقبل کے منصوبوں کے خیالی ہیولے تراش کر وہ گھر جا کر سوئے، اگلے دِن جاگے تو اُن کی وزارت ختم ہو چکی تھی،اُن کی بے خبری کا عالم یہ تھا کہ ناپائیدار عمارت استوار کرتے وقت اُنہیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ ان کی وزارت چند گھنٹوں کی مہمان ہے وہ تو وزیراعظم کی مہربانی تھی کہ اُنہیں دوبارہ کابینہ میں لے آئے،اب کی بار البتہ محکمہ مختلف ہے، لیکن فیصل واوڈا کی جذباتی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنے آپ کو وزیراعظم سمجھتے ہیں، خصوصاً جہانگیر ترین سے اپنی ہتک کا بدلہ لینے کے بعد اب ان کے چہرے پر اطمینان کی لہر محسوس کی جاتی ہے،اس لہر میں کہیں کہیں اپنی کامیابی پر فخر کی جھلک بھی نظر آ جاتی ہے۔

یہ تو کابینہ کی حالت ہے اگر پارٹی کے بعض ارکانِ اسمبلی کے خیالات سنیں تو لگتا ہے بے اطمینانی اور خلفشار کی لہریں بڑی دور دور تک پھیل چکی ہیں، اپوزیشن نے اگر حکومت پر ہاتھ ہلکا رکھا ہوا ہے تو اس کی کمی یہ حضرات پوری کر رہے ہیں۔فیصل آباد سے قومی اسمبلی کے رکن راجہ ریاض نے کہا تحریک انصاف زوال اور تباہی کا شکار ہو چکی ہے، عوام آئندہ انتخابات میں بہت بُرا سلوک کریں گے، تمام معاملات اور اختیارات پر بیورو کریسی حاوی ہو چکی ہے،بیورو کریسی نے سازش کے تحت عمران خان اور جہانگیر ترین میں پھوٹ ڈالی۔ وزیراعظم عمران خان کے اردگرد مفاد پرستوں اور لٹیروں کا گروہ جلد بریف کیس اُٹھا کر بیرون مُلک فرار ہو جائے گا۔ وفاقی وزراء ہوا میں اُڑ رہے ہیں، جب زمین پر آئیں گے تو عوام کی محبت کا پتہ چل جائے گا، کرپشن ختم کرنے کا دعویٰ کرنے کی دعویدار حکومت سے پہلے جو کام دس ہزار روپے میں ہوتا تھا اب وہ تیس ہزار میں ہوتا ہے، پارٹی کے ایک دوسرے رکن ریاض مزاری نے کہا ہم نے جنوبی پنجاب صوبے کی مہم چلائی،مگر نئے صوبے کے لئے بجٹ میں ایک پیسہ بھی نہیں رکھا گیا، نوجوانوں کو بڑی امیدیں تھیں، لیکن وہ مایوس ہو گئے ہیں۔اِن حالات میں سوال یہ ہے کہ فواد چودھری چھ ماہ میں معاملات درست کرنے کی جو مدت دے رہے ہیں اس دوران اتنے بہت سارے زخموں پر پھاہا کیسے رکھا جا سکے گا؟

مزید :

رائے -اداریہ -