خدانخواستہ تباہی نہ آ جائے

خدانخواستہ تباہی نہ آ جائے
خدانخواستہ تباہی نہ آ جائے

  

اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات دو جہانوں کا نظام اپنے پاس رکھا ہے اور وہ دنیا میں جس طرح جب چاہے اپنی مرضی سے اپنی اشرف المخلوقات اور کئی ہزار دوسری مخلوقات کے بارے میں حالات پیدا کر دے اور بگڑے ہوئے انسانوں اور اشرف المخلوقات کے مخالفین کو اللہ تعالیٰ کے احکامات چیلنج کرنے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دے یا ان کو معاف کر کے سیدھی راہ پر چلا دے فطرت ہمیشہ سے سب پر مہربان رہی ہے اور اس نے کرۂ ارض پر ماحولیاتی اور حیاتاتی توازن کو برقرار رکھا ہے حضرت انسان لاکھوں برسوں سے اس دنیا میں موجود ہے فطرت نے اس کی بقا کا ماحول پیدا کیا اور انسان نے بھی ایک فرمانبردار بچے کا انداز اپنائے رکھا لاکھوں برسوں میں کیا کچھ نہ ہوا لیکن انسان نا صرف زندہ رہا خوش رہا بلکہ آگے بڑھتا گیا انسان اور فطرت میں ہم آہنگی تھی اور دنیا انتہائی خوبصورت، مہربان اور پرامن جگہ تھی صرف دو ڈھائی سو سال پہلے انسان نے کوشش کی جدید اور دیوہیکل مشینوں نے کرۂ ارض پر ایک انقلاب برپا کیا انسان جب با اختیار اور طاقتور ہوا اس نے سب سے پہلے قدرتی ماحول کو اپنا نشانہ بنایا اور اس پر یوں حملہ آور ہو ا جیسے کوئی بدترین دشمن ہو صنعتی نظام کے ان دو ڈھائی سو سال دور میں ہم نے فطرت کے نظام میں اتنی شدید مداخلت کی کہ اس کا توازن بکھرنے لگا ہم نے ترقی خوشحالی اور دولت کے لئے قدرتی ماحول کو تباہ کر ڈالا تو ازن بے ترتیب ہوا تو فطرت کا قہرناک ہونا بھی فطری امر تھا اب ہر طرف ایک کہرام بپا ہے کہ دنیا کو سنبھالو کرہ ارض کو بچاؤ اب ہمارے ذہنوں سے یہ خبط نکل رہا ہے کہ ہماری جنگ فطرت کے خلاف ہے اور انسان ایک دن بالآخر فطرت پر غالبا ٓ جائے گا اقوام متحدہ سمیت عالمی حکومتیں دنیا کے بڑے مذاہب عالمی پالیسی ساز انفرادی طور پر اثر و رسوخ رکھنے والی عالمی شخصیت سب کرہ ارض کو محفوظ بنانے اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لئے اپنی کوششیں کر رہے ہیں دنیا کے جن ملکوں میں ماحول اور فطرت کے حوالے سے لوگوں میں آگہی کی سطح بلند ہے وہاں اب ماحولیات کا تحفظ کرنے کے لئے مختلف سطح پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور وہاں کے عوام ان پر عمل کرنے میں مصروف ہیں ترقی پذیر اور غریب ملکوں میں ماحولیات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی صرف لاہور کی سڑکوں گنجان آبادیوں اور سارے شہر میں سینکڑوں من کوئلہ روزانہ جلا کر ماحول کو آلودہ کیا جاتا ہے اور ماحولیات کی وزارتیں اور بے شمار لوگ اس محکمے میں موجود ہیں لیکن کیا مجال کہ شام (مغرب) کے بعد کسی بھی ذمہ دار آفیسر یا اہل کار کو خیال آیا ہو کہ ہم کو حکومت نے ماحولیات کے حوالے سے کچھ ذمہ داریاں دی ہیں، پنجاب کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ماحولیات کی تباہی ہو رہی ہے جس کی وجہ کرپشن بھی ہو سکتی ہے غیر ذمہ داری بھی ہو سکتی ہے لاپرواہی بھی ہو سکتی ہے اگر ماحولیات کو بہتر بنانے میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرنی تو پھر صوبے کے فنڈز کو کیوں ضائع کیا جا رہا ہے حکومتیں سول سوسائٹی، سیاسی جماعتیں اور ذرائع ابلاغ کی نظر میں دیگر امور معاملات قدرتی ماحول کے تحفظ جیسے بے کار کام کے مقابلے میں زیادہ اہم سمجھے جاتے ہیں پاکستان کا شمار دنیا کے ترقی پذیر ملکوں میں ہوتا ہے جہاں ایک مخصوص نفسیات پائی جاتی ہے اگر کوئی منصوبہ شروع کیا جاتا ہے تو یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ اس منصوبے پر اتنا سرمایہ برباد کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ دیگر دیرینہ مسائل ہنوزحل طلب ہیں جہاں یہ ماحول ہو وہاں آپ کسی سے یہ کہیں پرندوں کو نہ ماریں جنگلی حیات پر رحم کریں تو لوگ طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کس طرح کے لوگ ہیں یہاں انسانوں کی زندگی محفوظ نہیں ہے اور آپ جنگلی حیات کو بچانے کی بات کرتے ہیں اگر کہا جائے کہ ہمارے بڑے شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی صف میں شامل ہو چکے ہیں اور فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لئے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر اقدامات کرنے چاہئیں جنگلات اور درختوں کا تحفظ کرنا بے حد ضروری ہے تو مذاق کیا جاتا ہے کہ انہیں مغربی این جی اوز سے پیسہ ملتا ہے یہ کہا جائے کہ زہریلی گیسوں پر قابو نہ پایا گیا ان کے اخراج پر کنٹرول نہ کیا تو درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا رہے گا اور وہ دن بھی آئے گا جب کرہ ارض کا ماحولیاتی توازن درہم برہم ہو جائے گا اور انسانی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو جائیں گے، دنیا کی بیشتر حکومتیں ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لئے اپنی پالیسیوں اور عوام کے رویوں میں تبدیلی لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ایسے میں ہمارا انفرادی اور اجتماعی رویہ وقت کو ٹالنے، وقت پر درست فیصلے نہ کرنے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کا نہیں ہے ہمارے انہی رویوں کی وجہ سے پورا ملک آلودگی کی آما جگاہ بن چکا ہے کون سی شئے ہے جو آلودہ نہیں ہے جب اپنے ملک کو معاشی تباہی اور معاشرتی برائی سے بچانے کی فکر موجود نہ ہو تو ماحول کو بچانے کی فکر کیسے ہو گی۔

ماحول کا تحفظ کیا جائے اور ہر سال کھربوں روپے کا نقصان بچایا جا سکتا ہے ہم اس حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں کہ جنوبی ایشیا کا خطہ عالمی موسم کی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے بے موسم اور موسم کی شدید بارشیں گرمی کی شدید لہر خشک سالی سیلاب، آبی و فضائی آلودگی تیزی سے کم ہوتے پانی کے ذخائر یہ تمام عوامل نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کو کتنا شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اور آئندہ اس کی شدت میں کتنا اضافہ ہو گا اس کا ہمیں بالکل اندازہ نہیں ہے ہم کئی برسوں سے خشک سالی، سیلابوں، گرمی کی شدید لہر پانی کی کمی اور دیگر آفات بھگت رہے ہیں جس کے اثرات براہ راست ملک کی مع یشت پر بھی بڑھ رہے ہیں ماحولیاتی ماہرین سمیت کئی ماحولیاتی ادارے اس بات کی نشان دہی کر چکے ہیں کہ آنے والی دہائیوں میں عالمی درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کی بہ نسبت پاکستان کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ تیزی سے ہو گا گزشتہ چند برسوں سے ملک کے ساحلی علاقوں سے دیگر مقامات کی جانب نقل مکانی کرنے والے ماحولیاتی مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے پاکستان کے بیشتر علاقے پہلے ہی خشک سالی کا شکار ہیں اس کے ساتھ ماہرین آنے والے دنوں میں پانی کی شدید کمی کی نوید سنا رہے ہیں اور یہ سب کچھ بدترین ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ ہے ہمیں بھی تبدیل ہوتے ہوئے موسموں کی طرح اپنے طرز عمل اور طرز زندگی میں تبدیلی لانی ہو گی ہمیں اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ موسمیاتی تبدیلی تیزی کے ساتھ انسانی زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہیں اور ان کے سنگین اثرات ہماری زندگیوں پر مرتبہ ہونا شروع ہو گئے ہیں ہمیں اپنے جنگلات کا رقبہ بڑھانے کے لئے ملک کے کونے کونے میں شجر کاری کی ضرورت ہے تاکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت میں کمی لائی جا سکے ہمیں انفرادی طور پر پانی کی بچت کرنا ہو گی اور اس کے ضیاع کو روکنے کے اقدامات کرنا ہونگے گلی محلوں میں کوڑا کرکٹ جلانے سے پرہیز کرنا ہو گا اپنے طرز فکر کو تبدیل کرنا بہت ضروری ہے۔

مزید :

رائے -کالم -