شکوہ جواب شکوہ……

شکوہ جواب شکوہ……
شکوہ جواب شکوہ……

  

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

بات ایسی تو نہیں کہ جس پر طوفان برپا کیا جائے اور جب محترمہ ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ کی طرف سے معذرت کر لی گئی ہے تو پھر اس پر کیا بات بڑھانا، مگر پھر بھی اس پر لب کشائی کی وجہ حقائق سے پردہ اْٹھانا مقصود ہے تاکہ اس غلط فہمی کو دور کیا جا سکے کہ حال ہی میں جو منظر کشی لا ہوریوں کے بارے میں کی گئی ہے۔ ویسے بھی شکوہ جواب شکوہ تو ہم نے شاعرِ مشرق سے سیکھا ہے جو شہر لاہور ہی کی دانش گاہ سے تعلیم حاصل کر کے پوری قوم کو شعور و آگہی بخش گئے۔ اب اگر محترمہ کی طرف سے شکوہ کیا گیا ہے تو لاہوری خون فشار کا شکار تو ہوگا، مگر انتہائی ادب کے ساتھ ڈاکٹر صاحبہ سے التماس ہے کہ ہم اس بات کو دل سے مانتے ہیں کہ آپ کی لاہور یوں کے لئے گراں قدر خدمات ہیں اور آپ نے بہت ہی درد دل کے ساتھ ان الفاظ کا استعمال کیا ہو گا، کیونکہ یقینا آپ کو لاہور سے اُسی طرح محبت ہو گی جیسے کسی بھی محب وطن پاکستانی کو ہونی چاہئے، اس بات میں بھی صداقت ہے کہ لاہور میں کورونا کا معاملہ بہت سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے اور لاہور میں بہت ہی بے احتیاطی بھی برتی گئی ہے، مگر میرا موقف ذرا سا مختلف ہے میرا خیال ہے کہ لاہور میں دوسرے شہروں سے لوگوں کے آنے جانے کی وجہ سے بھی کورونا کے کچھ سنگین اثرات مرتب ہو ئے ہیں اور دوسرا یہ کہ آپ ہی نے تو عدالتی حکم پر عمل پیرا ہو کر لاک ڈاؤن کھولا تھا اور کھولا بھی بغیر کسی ہوم ورک کے تھا تو پھر اس طرح کھولنے کے اثرات تو ہونے ہی تھے۔ عدالت عالیہ نے آپکو حفاظتی اقدامات کرنے سے تو نہیں روکا تھا۔

پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کھولنے کے بعد کورونا کی دوسری لہر کے آنے کے شواہد واضع طور پر دیکھے گئے ہیں، مگر حکومتوں نے جہاں بھی لاپرواہی برتی اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ امریکہ کی مثال آپ کے سامنے ہے اور اس کے بعد ایران کی جہاں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کورونا کی دوسری لہر نے بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ اسی طرح سپین، فرانس اور اٹلی یہاں تک کہ برطانیہ میں بھی دوسری لہر کے خدشات کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ یہ ساری قومیں جاہل ہیں اور ان کو کسی بھی طرح مسائل کا ادراک نہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے جو جواز پیش فرمایا تھا کہ سازشی تھیوریاں پھیلائی جا رہی ہیں تو آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ غلط یا سازشی تھیوریاں بیرون ملک سے پھیلائی جا رہی ہیں ابھی حال ہی میں کورونا کے حوالے سے غلط تھیوریاں پیش کرنے پر برطانیہ نے چند اسرائیلی چینلز پر پابندی عائد کی ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کام لاہور سے نہیں،بلکہ کہیں اور سے ہو رہا ہے اس لئے سنی سنائی باتوں کی بجائے تحقیق سے بات کرنے اور آپ کو اپنی خبر رساں ایجنسیوں کو فعال بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ آپ کو حقائق کا علم ہو سکے۔

اب یہاں کچھ سوالات جنم لیتے ہیں کہ آپ کی حکومت نے عوام کو ایجوکیٹ کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں اور ان حالات سے نمٹنے کے لئے کس طرح کی تیاری کی ہے۔اور ہاں آپ کی وہ ”ٹائیگرفورس“ آج کل کہاں ہے؟ سوالات اور بھی ہیں جن کو تفصیل سے ذرا آگے چل کر زیر بحث لا ئیں گئے۔

اب اگر محترمہ نے اپنے الفاظ واپس لے لئے تو یقین جانیے لاہور یوں کا دل بہت بڑا ہے آپ کی معذرت نہ تو درکار تھی اور نہ ہی مسیحا سے ہم معذرت کے کبھی طلب گار تھے، کیونکہ لاہوریئے آپ کی خدمات کو کبھی پس پشت نہیں ڈالیں گے اور ویسے بھی یہ الفاظ اگر کسی اور نے کہے ہوتے تو شاید لاہور یوں کے لئے واقعی نا قابل برداشت ہوتے، مگر آپ نے ایک مسیحا کی حیثیت سے مسیحائی کی ہے اور اپنی محنت اور لہو سے جو گلشن کی آبیاری کی ہے اس کا احسان چکانا مشکل بھی ہے اور نا ممکن بھی۔ آپ تو لاہوریوں کو جانتی ہیں کہ ان میں بلا کا حو صلہ بھی ہے اور دریا دلی بھی کیونکہ اس شہر میں کو ئی کہیں سے بھی تشریف لائے، زندہ دلانِ لاہور اُس کے لئے اپنے دروازے کھول دیتے ہیں۔ کیا کمال لوگ ہیں جناب۔ ذرا اندازہ کیجیے کہ اس شہرمیں پورے ملک سے لوگ آکر بستے ہیں۔ یہ داتا گنج بخش اور بی بی پاک دامن کا شہر ہے ان سب کے لئے اپنے دامن میں ایثار رکھتا ہے، محبت رکھتا ہے، بھائی چارہ رکھتاہے، اخوت رکھتاہے، اس کے ساتھ ساتھ نیک نیتی سمیٹے ہوئے ہے۔پاکستان کے لئے 1940ء کی قرارداد کا امین ہے اور پاکستان کی بنیاد کا مؤجب اور اسلام پسندی کا گہوارہ ہے کہ جہاں جامعہ پنجاب بھی ہے اور جامعہ اشرفیہ بھی جہاں جامعہ المنتظر بھی ہے تو جامعہ لاہور بھی اور سب سے بڑھ کر اس شہر میں انسانیت موجودہے۔

جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ اس عظیم شہر کی لازوال تاریخ ہے، اس شہر نے کبھی باہر سے آنے والوں کے لئے دروازے بند نہیں کیے بلکہ اپنے دل کو مزید وسیع اور اپنی پلکوں کو فرشِ راہ کیا ہے۔ کسی بھی آنے والے مسافر یا مہاجر پر زمین تنگ کرنے کی بجائے اپنے پنکھ کھول کر اور بڑھا لئے تاکہ کوئی پاکستانی مایوس نہ ہو، یہ شہر زندہ دلان کا شہر ہے اس میں سب ہم وطنوں کے لئے اْتنی ہی گنجائش ہے کہ جتنی و سعت دلوں کی زمین میں ہے۔یہ شہر مہمان نوازوں کا شہر ہے اسی شہر نے بے شمار ذی شعور اور قابل لوگ پیدا کئے ہیں کہ جن میں شاہ جہاں، شورش کاکشمیری، نواز شریف، آپ کے لیڈر عمران خان، حامد میر، وسیم اکرم، سلیم ملک، عبدالقادر، یش چوپڑا،او پی نیّر،گورورام داس، امجد اسلام امجد، کا نام سرفہرست ہے اس کے علاوہ اور بہت سے لوگ ہیں کہ جن کا نام تاریخ میں رہتی دنیا تک سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔یہ شہر ہمیشہ سے ہی علم و دانش کا مرکز رہا ہے۔چاہے وہ ترکوں کا دور ہو یا مغلوں کا، علمی حوالے سے اس شہر کی ایک الگ ہی پہچان رہی ہے۔اس شہر کے پڑھے لوگ نہ صرف پاکستان کے کونے کونے، بلکہ دْنیا بھرمیں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس شہر کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے رہنے والوں نے کبھی پٹھان، بلوچی، سندھی اور پنجابی کی آواز بلند نہیں کی، بلکہ اپنی زبان تک قومی زبان پر نچھاور کر دی۔آج بھی لاہور میں رہنے والا ایک ایک فرد پنجابی بولنے کی بجائے اْردو زبان بولنے کو اہمیت دیتا ہے۔

اس شہر کے میٹھے اور ٹھنڈے پانی کی طرح اس کا مزاج اپنے آنے والوں کے لئے شجر سایہ دار کی طرح ہے کہ جس کی ٹھنڈک میں بیٹھ کر ہر آنے والا اس کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔

محترمہ ڈاکٹرصاحبہ! آپکی شخصیت تو قابل صد احترام ہے، مگر میں نے تو آپ کا انتخاب کر کے اپنی جہالت مان لی مگر اب آپ بھی مان لیجئے کہ آپ کی حکومت نا اہل ہے آپ کی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے ملک آج اس مقام تک پہنچا ہے۔ اگر آپ نے ہیلتھ اور تعلیم کے شعبہ میں کو ئی خاطر خواہ کام کیا ہوتا تو پاکستان کو یہ دن دیکھنا نہ پڑتے۔

اب جن سوالات کا ذکر میں نے پہلے کیا تھا ذرا ان پر نظر ڈال لیتے ہیں۔محترمہ نہایت احترام سے ہمیں بھی تو بتائیے کہ آپ نے کتنے نئے ہسپتال بنائے ہیں؟ کتنے ہسپتالوں کے نظام کو بہتر کیا ہے؟ کتنے نئے میڈیکل کالج بنائے ہیں؟ کتنے نئے نرسنگ سکول بنائے ہیں؟ کتنی نئی لیب بنائی ہیں؟ کتنے نوجوان ڈاکٹرز اور نرسز کو حکومتی اخراجات پر اعلی تعلیم کے لئے باہر بھجوایا ہے؟ کیا ہیلتھ کارڈ تمام پاکستانیوں تک پہنچ چکا ہے؟ کیا بزرگ پنشنرز تک ہیلتھ کارڈ سب سے پہلے پہنچانا آپکی ذمہ داری نہیں تھی؟ کیا آپ نے بجٹ میں پنشنرز کی پنشن میں کوئی اضافہ کیا؟ کیا آپ نے تعلیم بالغاں کا کوئی نظام متعا رف کروایا ہے کہ لوگوں کے شعور اور علم میں اضافہ کیا جا سکے؟ کیا آپ نے قوم کے غریبوں، کسانوں اور مزدوروں کے کوئی وضائف مقرر کئے؟کیا آپ نے قوم میں آگہی پھیلانے کے لئے تعلیمی اداروں اور خاص کر یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر کوئی عملی اقدامات کئے؟ کیا آپ نے آنے والے چند سال میں پانی کی کمی جیسے مسائل پر کوئی حکمت عملی وضع کی؟ کیا آپ نے الیکشن کمیشن میں شفافیت لانے کے لئے کوئی قدم اُٹھایا؟کیا آپ نے ملکی انڈسٹری کو بچانے کے لئے کوئی پلاننگ کی؟ کیا آپ نے احتساب کر لیا؟ کیا آپ نے ملک کی لوٹی ہو ئی دولت واپس سٹیٹ بنک میں جمع کروادی؟ کیا آپ نے گورنر ہاؤسز اور وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹیوں میں تبدیل کر دیا؟

کیا آپ نے بجلی، پانی اور گیس کے ذخائر سے اس بے چاری غریب قوم کو اُن کا حق دے دیا؟ کیا آپ نے میڈیا کو حقیقی آزادی دے دی کہ جس کا آپ نے اُن سے وعدہ کیا تھا؟کیا آپ نے پچاس لاکھ گھر بنا کر غریبوں کے حوالے کر دئیے؟کیا کالا باغ اور بھاشا ڈیم بن گئے؟ کیا سٹیل مل میں باہر سے لوگ آکر نوکریاں حاصل کرنے میں کا میاب ہو گئے؟ کیا آپ نے تمام کرپٹ سیاست دانوں کو رولا لیا؟ کیا آپ نے قومی اداروں کو مضبوط کر کے ان کی گورننس کو درست فرما دیا؟کیا آپ نے نیا صوبہ بنا دیا؟ کیاآپ نے سانحہ ماڈل ٹاون کا حساب لیا؟ کیا آپ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے مجرموں کو سزا دلوا دی؟ کیا آپ نے پولیس کے نظام کو درست کر دیا؟

اگر ایسا کچھ نہیں ہوا توان لوگوں پر رشک کیجئے کہ جنہوں نے ابھی تک آپکی حکومت کو برداشت کیا ہوا ہے آپ کی حکومت کی مجبوریوں اور مشکلات کے ساتھ سمجھوتا کیا ہے آپ کی بات پر یقین کیا ہے آپ پر بھروسہ کیا ہے آپ کو موقعہ دیا ہے کہ آپ اس ملک کی تقدیر بدلیں۔

مزید :

رائے -کالم -