انڈو۔ پیسیفک ریجن میں ایک نیا چہارگانہ اتحاد (آخری قسط)

انڈو۔ پیسیفک ریجن میں ایک نیا چہارگانہ اتحاد (آخری قسط)
انڈو۔ پیسیفک ریجن میں ایک نیا چہارگانہ اتحاد (آخری قسط)

  

اس کالم کی تمہید میں دو قسطیں صرف کرنا پڑیں!…… اس کی وجہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اردو زبان کے قارئین کی اکثریت ان مباحث کی تفہیم کا بہت کم ادراک رکھتی ہے جو آج پاکستان کی سلامتی کے لئے از بس ناگزیر ہیں۔ پاکستان کی سٹرٹیجک لوکیشن جتنی اس کی دوست ہے، اس سے زیادہ اس کی دشمن بھی ہے…… کوئی دوشیزہ جتنی زیادہ حسین و جمیل ہوگی اس پر بُری نگاہ ڈالنے والوں کی تعداد اتنی ہی زیادہ کثیر اور ہوس پرست ہو گی۔

اس کالم کے عنوان میں بھی دو الفاظ تشریح طلب ہیں۔ پہلا انڈو پیسیفک (Indo-Pacific)اور دوسرا چہارگانہ اتحاد (Quad Coalition)۔ اول الذکر کا ترجمہ ”انڈیا اور بحرالکاہل“ ہے اور دوسرے کا چار ملکوں (یا اشخاص) کا اکٹھ ہے۔ دونوں کے لغوی معانی میں تو کوئی مشکل نہیں لیکن سمجھنے والی بات یہ ہے کہ انڈیا اور بحرالکاہل کا باہمی تعلق کیا ہے اور ان کے ملاپ سے جو علاقہ (ریجن) تشکیل پاتا ہے اس کی اہمیت کیا ہے۔ انڈیا اور بحرالکاہل کی کوئی بھی زمینی یا سمندری حدود آپس میں نہیں ملتیں۔ لیکن اگر یہ بات ہے تو پھر”انڈیا اور بحرالکاہل“ (انڈو پیسیفک) کی اصطلاح چہ معنی دارد؟……

اس کو سمجھنے کے لئے دنیا کا نقشہ اپنے سامنے پھیلایئے۔ آپ دیکھیں گے کہ بحرالکاہل اور بحرہند دنیا کے دو بڑے سمندر ہیں اور ان کے ملانے کے لئے 2.8کلومیٹر عریض اور 550کلومیٹر طویل پانی کی صرف ایک شاہراہ ہے جس کو آبنائے ملاکا (Mallaca Strait)کہا جاتا ہے۔ اس نقشے سے آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ بحرالکاہل کے مشرقی ساحل پر صرف ایک ہی قابلِ ذکر ملک (امریکہ) واقع ہے۔ یعنی امریکہ…… اس کے شمال میں کینیڈا ہے اور جنوب میں جو ”امریکہ“ ہے اس کو جنوبی امریکہ یا لاطینی امریکہ بھی کہا جاتا ہے۔ دنیاوی طاقت کی مساوات میں کینیڈا اور لاطینی امریکہ کی کوئی زیادہ اہمیت نہیں …… بس ان کو ٹوٹل ہی سمجھئے…… اور بحرالکاہل کے جنوب میں آسٹریلیا ہے جسے آپ مغربی یورپ اور شمالی امریکہ (USA) کی ایک توسیع قرار دے سکتے ہیں …… بحرالکاہل کے وسط میں سینکڑوں جزیرے ہیں جن پر امریکہ کا قبضہ ہے۔ اور ایک جزیرہ تو اس کی 52ویں ریاست (ہوائی) بھی ہے…… اب بحرالکاہل کے مغربی ساحل پر نظر ڈالئے۔ آپ کو درجنوں ممالک نظر آئیں گے جن میں جاپان، روس، چین، شمالی کوریا، جنوبی کوریا، ویت نام، فلپائن، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا ہیں …… لیکن انڈیا ان میں شامل نہیں۔ تو پھر انڈو۔پیسیفک کی اصطلاح کہاں سے آ گئی؟ اس کے لئے آپ کو انڈونیشیا اور ملائیشیا کو دیکھنا پڑے گا۔

انڈونیشیا کا ایک بڑا جزیرہ سماٹرا کہلاتا ہے۔ اس کے شمال میں ملائیشیا واقع ہے اور ان دونوں کے درمیان جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا پانی کی ایک شاہراہ ہے ہے جس کی چوڑائی 2.8کلومیٹر ہے اور جس پر سے بڑے بڑے بحری جہاز آ جا سکتے ہیں۔ ان دو ملکوں انڈونیشیا اور ملائیشیا کے درمیان اسی آبی پٹی کو آبنائے ملاکا کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ نام اس کو آج سے 4،5سو برس پہلے ایک شہر کے نام کی وجہ سے ملا جو ملائیشیا کا ایک ساحلی شہر تھا اور آج بھی اس کا نام ملاکا (Mallaca) ہی ہے…… کوئی بحری جہاز اگر بحرالکاہل سے اس آبی پٹی (Strait) میں سے گزر کر آگے بڑھے گا تو اس کو بحرہند (Indian Oceon) نظر آئے گا۔ آبنائے ملاکا سے آگے 1000کلومیٹر کا سمندری راستہ طے کریں گے تو آپ کو وہ دو جزیرے بھی نقشے پر نظر آئیں گے جن کو انڈیمان اور نکو بار کہتے ہیں۔1947ء تک ان کو ”کالاپانی“ بھی کہا جاتا تھا اور یہ جزیرے برطانوی ہند کا حصہ تھے۔ ان سے آگے بڑھیں تو انڈیا کا جنوبی ساحل اور سری لنکا واقع ہے۔ اس خطہ ء آب میں ماسوائے ڈیگوگارشیا اور مالدیپ کے کوئی اور جزیرہ واقع نہیں۔ ڈیگوگارشیا پر امریکہ کا قبضہ ہے اور مالدیپ ایک چھوٹا سا آزاد ملک ہے لیکن انڈین قوت کی پرچھائیاں اس پر غالب ہیں۔ بحرہند سے آگے مزید مغرب کی طرف جائیں تو مشرقی افریقہ کے ممالک ہیں اور شمالی ریجن کا رخ کریں تو بحیرۂ عرب آتا ہے جس میں پاکستان کا ساحلی علاقہ (کراچی تا گوادر) واقع ہے۔

جاپان دوسری عالمی جنگ کے بعد مغربی طاقتوں کا ماؤتھ پیس بن چکا ہے اور چین کے حریفوں میں شامل ہے۔ اس کے وزیراعظم شیزوایبے (Shizo Abe) کو 2012ء میں بیٹھے بٹھائے نجانے کیا سوجھی کہ اس نے اعلان کر دیا کہ اگر میرے ساتھ، امریکہ، انڈیا اور آسٹریلیا مل جائیں تو ہم چاروں (Quad) چین کے خلاف ایک موثر چہارگانہ اتحاد بنا سکتے ہیں۔ اس طرح 8سال پہلے جو تجویز ایک دور کی کوڑی معلوم ہوتی تھی آج حقیقت بن کر سامنے آ کھڑی ہوئی ہے……

انڈیا پہلے ہی امریکہ کو اپنی بحری اور زمینی بیسز (Bases) پر آمد و رفت کی سہولیات دینے کا معاہدہ کر چکا ہے اور اب آسٹریلیا کے وزیراعظم سکاٹ موریسن نے بھی ایک ورچوئل معاہدے میں انڈیا سے وہی ”حقوق“ حاصل کر لئے ہیں …… یعنی ایک دوسرے کے فضائی، بحری اور زمینی مستقروں پر آنے جانے اور انصرامی امداد کی سہولیات وغیرہ (گزشتہ اقساط میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی جا چکی ہے)۔

اب 15جون کو لداخ میں انڈیا کو جو مار پڑی ہے تو وہ اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ اس تناظر میں اس مجوزہ چہارگانہ اتحاد کی کڑیاں صاف نظر آ رہی ہیں …… اس اتحاد سے امید لگائی گئی ہے کہ:

1۔ چین کی بحری ناکہ بندی کر دی جائے…… چونکہ چین کی تجارت کا انحصار زیادہ تر آبنائے ملاکا پر ہے۔ اس لئے اگر انڈیا، آسٹریلیا اور امریکہ اس آبنائے کو بلاک کر دیں تو چین کی تجارت ٹھپ ہو کر رہ جائے گی۔ ایسی صورتِ حال میں چین کے پاس جو دوسرا متبادل تجارتی راستہ رہ جاتا ہے وہ خنجراب سے گوادر تک کا پاکستانی علاقے کا راستہ ہے۔ بحیرۂ عرب میں واقع گوادر بندرگاہ اب ایک نیول بیس (بحری مستقر) میں تبدیل کی جا رہی ہے جسے شاہراہِ قراقرم اور CPEC کے ذریعے ملایا جا چکا ہے۔ تقریباً تین برس پہلے آپ کو یاد ہو گا چینی ٹرکوں (کنٹینروں) کا ایک قافلہ سنکیانگ سے خنجراب اور حویلیاں سے ہوتا ہوا CPEC کی مغربی شاخ کی راہ گوادر تک پہنچا تھا اور پھر وہاں سے تجارتی سامان کو بحری جہازوں پر لاد کر بحیرۂ عرب کے راستے افریقہ اور یورپ کو بھیجا گیا تھا۔ (برسبیلِ تذکرہ، ہارن آف افریقہ پر جیوبوتی کی بندرگاہ کو چین ایک مضبوط بحری مستقر میں تبدیل کر رہا ہے) اس طرح چین اپنے BRI (بیلٹ اینڈ روڈ انی شی ایٹو) منصوبے کو آئندہ کسی بھی حریف اتحاد کے ہاتھوں سبوتاژ ہونے سے بچا رہا ہے۔

2۔ شاہراہ قراقرم اور CPEC کی اس دوسری متبادل شاہرگ (Artery) کو بلاک کرنے کے لئے انڈیا نے لداخ میں وہ منصوبہ ڈویلپ کرنا شروع کیا تھا جس کو 15جون 2020ء کو چین نے انڈیا کی شرمناک شکست کی صورت میں تبدیل کر دیا ہے…… انڈیا اس منصوبے پر بتدریج عمل کر رہا تھا۔ اس منصوبے کے تحت دولت بیگ اولدی کو ایک فضائی اور زمینی مستقر میں تبدیل کرنا…… لداخ ایریا میں ایسی بڑی اور چھوٹی سڑکوں کا جال بچھانا جس پر فوجی قافلے آ جا سکیں …… لیہ، جو لداخ کا دارالحکومت ہے اس میں ایک وسیع ائر فیلڈ بنانا جس پر C-17(امریکی) اور AN-32 (روسی) ٹرانسپورٹ طیارے لینڈ اور ٹیک آف کر سکیں …… جموں، کشمیر اور لداخ کی آئینی حیثیت تبدیل کرنا یعنی آرٹیکل 370اور 35Aکی منسوخی…… اس علاقے کو انڈین یونین کا حصہ بنانا…… اس میں امریکی اور آسٹریلوی افواج کو رسائی دینا ……دولت بیگ اولدی اور لیہ کی ائر فیلڈز سے امریکی ائر بورن عناصر کا گلگت۔ بلتستان میں اترا……(82ائر بورن اور 101ائر بورن امریکی ڈویژن ان آپریشنوں کے لئے ایک معروف شہرت کی حامل فضائی فارمیشنیں ہیں)…… شاہراہ قراقرم کو کاٹنا…… اور CPEC کو سبوتاژ کرنا وغیرہ وغیرہ سب اسی چہارگانہ اتحاد کی وہ کڑیاں ہیں جو مستقبل قریب میں حقیقت بننے والی تھیں لیکن جن کو چین نے اب ادھیڑ کر رکھ دیا ہے!

چین نے انڈیا کو صاف صاف بتا دیا ہے کہ وادیء گلوان ساری کی ساری اس کی ہے۔ اس لئے نہ صرف دولت بیگ اولدی بیس کو ختم کیا جائے بلکہ اپنے اس زمینی اور فضائی راستے کی خیر منائی جائے جو درۂ قراقرم سے ہو کر سیاچن گلیشیئر تک جاتا ہے اور وہاں کے دو معروف برفانی دروں سایالا اور بیلافونڈالا پر صف بند بھارتی فوج کو انصرامی امداد فراہم کرتا ہے۔

اندریں حالات اب مودی کے پاس دو آپشنز ہیں …… ایک یہ کہ 6ماہ تک انتظار کرے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اگر دوبارہ صدر منتخب ہو جاتے ہیں تو لداخ میں سٹیٹس کو برقرار رکھا جا سکتا ہے اور ساؤتھ چائنا سی (S.C Sea) میں بھی تین امریکی طیارہ برداروں کو بحرالکاہل کے علاقے میں اپنی بحری قوت کی نمائش کی علامت کے طور پر باقی رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن چین یہ بھی تو دیکھے گا کہ وہ روس کے ساتھ کولیشن بنانے کی ”جوابی آپشن“ کو کب بروئے کار لائے گا……مودی کی دوسری آپشن وہی ہے جس کی طرف پاکستان ایک عرصے سے عالمی توجہ مبذول کروا رہا ہے یعنی انڈیا،

ایل او سی پر کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن لانچ کرکے پاکستان کو مغلوب کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ دونوں ممالک (انڈیا اور پاکستان) کورونا کی وجہ سے جنگ کی اقتصادی مشکلات برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں لیکن چین کے ہاتھوں اپنے 20سورماؤں کی ہلاکت کے بعد مودی اور اس کے فوجی کمانڈروں کی راتوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں، اس لئے کچھ بعید نہیں کہ وہ اپنی عددی اکثریت اور امریکی چھتری کے زعم میں لائن آف کنٹرول پر کوئی ایسی ویسی حرکت کر بیٹھیں جس سے اس خطے میں جنگ کے آثار پیدا ہو جائیں۔ لیکن پچھلے دنوں بیجنگ کے ایک ٹی وی چینل پر ایک چینی مبصر، مودی کو خبردار کر رہا تھا کہ اگر اس نے لداخ میں مزید کوئی چھیڑ چھاڑ کی تو چینی فوج کشمیر میں آنے سے دریغ نہیں کرے گی۔ مجھے معلوم نہیں کہ دھمکی تھی یا چین اور پاکستان کا کوئی سوچا سمجھا مشترکہ آپریشنل پلان تھا کہ اس میں کسی آنے والی جنگ کے خدشات بظاہر صاف نظر آ رہے ہیں …… انڈیا ان دنوں کوئی بھی ایسی اندھا دھند (Reckless) حرکت کر سکتا ہے جس کے انجام کے سلسلے میں کوئی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی!(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -