مئی کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک کروڑ 30لاکھ ڈالر سرپلس ہو گیا: سٹیٹ بینک

مئی کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک کروڑ 30لاکھ ڈالر سرپلس ہو گیا: سٹیٹ بینک

  

کراچی(این این آئی)اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں مئی کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر سرپلس ہوگیا۔واضح رہے کہ رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ دوسری مرتبہ سرپلس ہوا ہے،اس سے قبل اکتوبر 2019 میں بھی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا تھا۔گزشتہ مالی سال کی بات کی جائے تو مئی کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب ڈالر تھا جو رواں مالی سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔رواں مالی سال کے 11 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 9 ارب 16 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز (73.70 فیصد) کم ہوا اور جولائی تا مئی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3 ارب 28 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز رہا، جبکہ اپریل 2020 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 53 کروڑ ڈالرز تھاگزشتہ سال اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 12 ارب 45 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز تھا۔خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اعلان کیا تھا کہ پہلی مرتبہ حکومت نے اخراجات آمدن سے کم کرتے ہوئے ورثے میں ملنے والے 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرکے 3 ارب ڈالر تک لے آئے ہیں۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ

مزید :

صفحہ اول -