پی آئی اے جعلی پائلٹوں کے حوالے،150کے لائسنس جعلی، متعددکی جگہ دوسرون نے امتحان دیا ذرائع، کراچی حادثے کے ذمہ دار پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر ہیں، عبوری تحقیقاتی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

      پی آئی اے جعلی پائلٹوں کے حوالے،150کے لائسنس جعلی، متعددکی جگہ دوسرون نے ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پی آئی اے کے 400 میں سے 150 پائلٹس کے مبینہ جعلی لائسنس کا انکشاف ہوا ہے۔ ان تمام پائلٹس کو سیفٹی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے فہرستیں طلب کر لی گئی ہیں۔تفصیل کے مطابق حکومت نے ایسے تمام پائلٹس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر جعلی لائسنس پر طیارے اڑا رہے ہیں۔سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایسے پائلٹس کی فہرستیں طلب کر لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایسے تمام پائلٹس کو انکوائری مکمل ہونے تک فوری طور پر گراونڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جعلی لائسنس والے پائلٹس سیفٹی کیلئے خطرہ ہیں۔ مبینہ جعلی لائسنس کے حامل پائلٹس پی آئی اے کے علاوہ بھی دیگر ملکی ائیر لائنوں میں جہاز اڑا رہے ہیں۔ ائیر مارشل ارشد ملک نے لیگل اور فلائٹ آپریشنز ٹیموں کو طلب کر لیا ہے۔۔دوسری جانب بغیر کام تنخواہیں لینے والوں کیخلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے قومی ایئرلائن کے 4 پائلٹس کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیڑھ سال میں کوئی بھی فلائٹ آپریٹ نہ کرنیوالے پائلٹ تنخواہیں لیتے رہے۔خاتون پائلٹ کا بیرون ملک ملازمت کیساتھ پی آئی اے سے تنخواہ لینے کا انکشاف ہوا ہے۔ خاتون پائلٹ نے قومی ایئر لائن کے خرچ پر اے 320 جہاز کی تربیت حاصل کی اور سرٹیفکیٹ لے کر ترکی چلی گئیں۔ حکام نے خاتون پائلٹ سے تنخواہیں اور تربیتی اخراجات واپس لینے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے جبکہ پائلٹس کی شیڈولنگ کرنے والوں کیخلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

جعلی پائیلٹ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پی آئی اے طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی۔ فاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا حادثے کی ذمے داری پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کی بھی بنتی ہے، ذمہ دار احتساب سے بچ نہیں پائیں گے۔ و غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا طیارے کے پائلٹس طبی طور پر جہاز اڑانے کیلئے فٹ تھے، پائلٹس نے دوران پرواز کسی قسم کی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی، ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارہ پرواز کیلئے 100 فیصد فٹ تھا، جہاز لینڈنگ کے وقت 7220 فٹ کی بلندی پر تھا، کنٹرولر نے 3 بار پائلٹ کی توجہ اونچائی کی جانب دلوائی، یہ ریکارڈ پر ہے کہ جہاز کے لینڈنگ گیئر کھولے گئے۔غلام سرور کا کہنا تھا 10 ناٹیکل مائل پر جہاز کے لینڈنگ گیئر کھولے گئے، 5 ناٹیکل مائل پر لینڈنگ گیئر دوبارہ بند کیے گئے، جہاز رن وے پر رگڑ کھاتا رہا، انجن کافی حد تک متاثر ہوا، پائلٹ نے جہاز کو دوبارہ اڑایا، کوئی ہدایت نہیں لی، پائلٹس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات کو نظرانداز کیا، عبوری تحقیقات رپورٹ میں کنٹرول ٹاور اور پائلٹ کی کوتاہی سامنے آئی، اے ٹی سی نے جہاز کے رگڑ کھانے کے بعد بھی ہدایات نہیں دیں۔وفاقی وزیر نے مزید کہا بدقسمتی سے پائلٹ طیارہ کو آٹو لینڈنگ سے نکال کر مینوئل لینڈنگ پر لایا، وائس ریکارڈر سے پتہ چلا پائلٹس آخر تک کورونا کے بارے میں گفتگو کرتے رہے، پائلٹ اور کوپائلٹ کے فوکس نہ ہونے پر سانحہ پیش آیا، چترال طیارے کا واقعہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا، پائلٹس کی جعلی ڈگریاں بھی ایک بدقسمتی ہے، ماضی میں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں پر تعیناتیاں سامنے آئیں، پاکستان میں ٹوٹل 860 ایکٹو پائلٹس ہیں۔غلام سرور خان کا کہنا تھا تحقیقات پر پتہ چلا متعدد پائلٹس کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا، 262 پائلٹس نے خود امتحان نہیں دیا، نچلے درجے کا اسٹاف، پائلٹ، ایڈمن تمام سٹاف شامل ہے، جعلی لائنس والے پائلٹس کیخلاف ایکشن شروع کر دیا گیا، پی آئی اے کی نجکاری نہیں کریں گے۔وزیر ہوا بازی نے کہا کراچی طیارہ حادثے کے دن ہی انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا، انکوائری بورڈ نے احساس ذمہ داری کے تحت فرائض دا کیے، انکوائری بورڈ نے جہاز کے تمام ملبے کا معائنہ کیا، فرائنسی ٹیم 26 مئی کو پاکستان آئی، انکوائری بورڈ میں پائلٹس کی نمائندگی نہیں تھی، ہم نے انکوائری بورڈ کو وسیع کیا اور ایئر بلیو کے 2 سینئیر پائلٹس کو بورڈ کا حصہ بنایا۔غلام سرور خان کا کہنا تھا یہاں پر 6، 6 سال طیارہ حادثوں کی رپورٹس پیش نہیں کی جاتیں، انشاللہ جس طرح عبوری رپورٹ پیش کر رہے ہیں مکمل رپورٹ بھی ایوان میں پیش کریں گے، کراچی طیارہ حادثے پر انکوائری شفاف طریقے سے جاری ہے۔قومی اسمبلی میں حکومت و اپوزیشن ارکان حرمت حضرت فاطمتہ الزہراؓکے حوالے سے یک زبان ہوگئے اور متفقہ قرارداد منظور کرلی، قرار داد میں کہا گیا ہے کہ حرمت حضرت فاطمتہ الزہراؓ پر ہماری جان بھی قربان ہے،گستاخی کرنیوالے مذہبی سکالر کے خلاف کارروائی کی جائے بدھ کو قومی اسمبلی نے حرمت حضرت فاطمتہ الزہراؓکے حوالے سے قرارداد متفقہ منظور کرلی، حکومت و اپوزیشن کی جانب سے متفقہ قرارداد پیپلز پارٹی کی رکن شگفتہ جمانی نے پیش کی،قرارداد پیش کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رکن شگفتہ جمانی نے کہا کہ وزیر پارلیمانی امور اور وزیر مذہبی امور سمیت حکومت و اپوزیشن کی شکر گزار ہوں جنہوں نے بھرپور حمایت کی ۔انہوں نے کہاکہ ایک مذہبی سکالر نے سوشل میڈیا پر حضرت سیدہ کائنات کی توہین کی ہے جس کی یہ ایوان نہ صرف مذمت کرتا ہے بلکہ آئین پاکستان اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے،حضور اکرم خاتم النبیین، اہلبیت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بزرگان کا احترام لازم ہے۔ قبل ازیں (ن)لیگ کے رکن قومی اسمبلی سید عمران علی شاہ نے کہا کہ سیدہ کی حرمت پر ہماری جان بھی قربان ہے، اشرف جلالی کے خلاف کارروائی کی جائے، غلام محمد لالی نے سپیکر سے رولنگ کا مطالبہ کیا جبکہ چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ آل رسول کی حرمت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا،۔قرار داد ایوان میں پیش کی گئی تو اسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا، قرار داد پیش کرنے کیلئے قومی اسمبلی کے قواعد معطل کئے گئے۔دریں اثنا قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر ریلوے اور مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ضیاء الحق کا بد ترین مارشل لاء پیپلزپارٹی کو ختم نہیں کر سکا تو کوئی کسی کو ختم نہیں کر سکتا، ہم تحریک انصاف کی حکومت کو گرانا نہیں چاہتے، ہم کوئی عدم اعتماد نہیں لا رہے ہیں،آپ کمبل کو چھوڑیں گے،کمبل نہیں چھوڑے گا،وہ وقت دور نہیں جب یہاں تذلیل کے ڈر سے کوئی وزیر اعظم بھی بننا نہیں چاہے گا،مشرق پاکستان کے ٹوٹنے سے سبق نہیں سیکھا گیا،گیارہ ووٹوں کی حکومت ہے وہ بھی آپ کے اپنے نہیں،کس خمار میں ہیں، غلط فہمی ذہن سے نکال دیں آپشن ہر وقت ہوتے ہیں،بجٹ خسارہ ساٹھ فیصد ہے،ہم مانتے ہیں ہر چیز کومصنوعی طور پر کیا،آپ بھی کچھ تو مصنوعی کام کر لیتے،کل آپ کو رسیدیں بھی دکھانی پڑیں گی اور حساب بھی دینا پڑے گا، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں،مہربانی کریں پاکستان کے بارے میں سوچ لیں،انصاف والے انصاف،سیکیورٹی والے سیکورٹی،حکومت والے حکومت اور اپوزیشن والے اپوزیشن نہیں کر رہے،اگر طاقت کے حصول کے لئے سب لڑتے رہیں گے تو کوئی طاقتور نہیں رہے گا۔ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2002-21پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ دل نہیں کررہا تھا کہ اس ایوان میں آکر بات بھی کی جائے،ماضی میں بھی پارلیمان بے توقیر ہوتی رہی مگر اتنی کبھی نہیں ہوئی جتنی اب ہورہی ہے،پارلیمان کی بے توقیر ی دونوں طرف سے ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب پولیس فورسز،ڈاکٹرز کام کررہے ہیں تو پارلیمان کا لاک ڈاؤن کردیا،ہماری جانیں زیادہ قیمتی تھیں،سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت نہیں ہے،کوئی آج مان گیا ہے کہ جمہوریت نہیں کوئی کل مان جائیگا۔

 انہوں نے کہاکہ ابھی ایک وزیر صاحب نے30 منٹ ذاتی وضاحت پر بات کی،ہم ایک دوسرے کے گریبان پھاڑنے کا مینڈیٹ لیکر نہیں آتے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ اللہ نہ کرے کہ آپ خودکشی کریں،آپ نے مقابلہ کرنا تھا بھوک کا،بھارتی جارحیت کا،لیکن آپ نے مقابلہ کیا اپوزیشن کا۔ انہوں نے کہاکہ جتنی وزارت عظمیٰ کی توہین کی گئی وہ وقت آئے گا کہ وزارتیں دینے والے وزارت ہاتھ میں لیکر پھیریں گے کوئی نہیں لے گا،یہ وقت بہت جلد آنے والا ہے، خواجہ شیراز اور وزرا نے جو کچھ کہا وہ بتا رہا اگلے دن کیا آرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اتنا کام کیا اور ایک شیخ چلی آیا ہر چیز برباد کرگیا۔ انہوں نے کہاکہ مان لیں سقوط کشمیر ہوچکا،ہمیں نشانہ بنالیں ملک کا کچھ کرلیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ڈینگی ٹیسٹ نوے روپے میں کروایا،کرونا کا ٹیسٹ دوہزار ہوسکتا تھا نہیں کیا،سوچیں آپ نے کیا کیا ہے؟آپ کے پاس بعض اچھے لوگ ہیں مگر ان سے کام نہیں لیا جاتا،سید خورشید شاہ جیسے سینئر سیاستدان کو جیل میں ڈالا ہوا ہے،حمزہ شہباز گرفتار اور خواجہ آصف کو نوٹس آگیا ہے،یہ آپ نسلوں میں دشمنی منتقل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس ملک میں مشرق پاکستان کے ٹوٹنے سے سبق نہیں سیکھا گیا،آپ اس پوزیشن میں نہیں کہ اپوزیشن کے ساتھ قومی معاملات پر بات کرسکیں،گیارہ ووٹوں کی حکومت ہے وہ بھی آپکے اپنے نہیں،کس خمار میں ہیں،اس ملک میں دو تہائی اکثریت کا کیا حشر ہوا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے،انکے ایک وفاقی وزیر کو سنا کہا کہ اْنکے پاس ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے،یہ غلط فہمی ذہن سے نکال دیں آپشن ہر وقت ہوتے ہیں،مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت نہ ہم میسر ہیں اور نہ پیپلزپارٹی میسر ہے،آپ مسائل پیدا کرتے ہیں اور این ڈی ایم اے تدارک کرتا ہے،بہتر ہے نظام ہی انکے حوالے کردیں،ویسے بھی آپ سپردگی کے مرحلے میں ہیں۔ سابق وزیر نے کہاکہ آپ کا بجٹ خسارہ ساٹھ فیصد ہے،ہم مانتے ہیں ہر چیز مصنوعی طور پر کیا،آپ بھی کچھ تو مصنوعی کام کر لیتے،کل آپ کو رسیدیں بھی دکھانے پڑیں گی اور حساب بھی دینا پڑے پیپلز پارٹی کے سید مرتضیٰ محمود نے کہاکہ عوام کو امید تھی پی ٹی آئی حکومت وہ سب کرے گی جو ن لیگ اور پی پی پی نہیں کرسکی لیکن سخت مایوسی ہوئی،ملک مشکل ترین دور سے گزر رھا ہے، ایک طرف کورونا اور دوسری طرف ٹڈی دل کا سامنا ہے،حکومتی پالیسی بری طرح ناکام ہوئی ہے، ٹڈی دل سے پاکستان کو چھ سو ارب روپے کا نقصان ہوگا،ملک کی صنعتوں پر کارٹیل اور مافیاز کا قبضہ ہے،انڈسٹری کو نیب کے حوالے کرنے سے اس کو بچایا نہیں جاسکے گا،ملک میں احتساب صرف سیاسی انتقام کے لئے استعمال ہورھا ہے،ایک صوبہ محاذ بناکر وعدہ کیا گیا نوے روز میں جنوبی پنجاب صوبہ بن جائے گا، آج تک نہیں بن سکا، حکومت میں بیٹھے صوبہ محاذ کے قائدین وعدے سے بھاگ گئے، قوم معاف نہیں کرے گی۔تحریک انصاف کے شوکت علی بھٹی نے کہاکہ میرے حلقے میں ڈی ایچ کیو ہسپتال بنائے جائیں،ہمارے دور حکومت میں گندم کی خریداری وافر مقدر میں کی گئی،باردانہ کی کوئی شارٹیج نہیں ہوئی،ہماری حکومت میں بجلی چوری کو روکی گئی،پچھلے دس سال میں میرے حلقے میں کوئی یونیورسٹی نہیں بنائی،حافظ آباد میں یونیورسٹی بنائی جائے۔وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا ہے کہ مجھ سے پیپلزپارٹی کے 7 ایم این ایز نے این آر او مانگا، ایک ایم این اے اس وقت یہاں بیٹھا ہے، یہاں پر منتیں اور پیچھے سازشیں کرتے ہیں۔وقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا اگر میرا سر بھی قلم کر دیا جائے تو سٹیٹس کو کا ساتھ نہیں دوں گا، سوشل میڈیا پر میرے خلاف مہم چل رہی ہے، کیا ان کا کوئی ڈیٹا نہیں، سوشل میڈیا پر ورکرز وہ کرتے ہیں جو ان کی قیادت کہتی ہے۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی حکومت نے کفایت شعاری کے ساتھ نظام کی بہتری پر توجہ دی، حقائق اور اعدادو شمار کے بغیر بجٹ پر تنقید مضحکہ خیزہے۔مراد سعید کا کہنا تھا سیاسی مخالفت کے نام پر میرے خاندان کیخلاف تضحیک آمیز گفتگو کی گئی، دلائل کے بجائے ذات پر حملے کرنا قابل مذمت ہے، میری تقاریر دیکھ لیں، میں نے کسی کی ذات پر حملہ نہیں کیا، میں ذاتی حملے نہیں کر رہا، دلیل سے بات کرنے کا حامی ہوں۔ مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نیقومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہا کہکہ احساس پروگرام پاکستان کا شفاف ترین پروگرام ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کسی بھی کمیٹی میں بریفنگ دے سکتی ہیں۔بابر اعوان کا کہنا تھا کہ سی پیک معاملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اعتراض ہو سکتا ہے لیکن کسی پاکستانی رکن اسمبلی کو نہیں۔ حکومت ملک بھر میں سارے کاروبار کھولنا چاہتی ہے۔ان کا کہان تھا کہ مری اور گلیات میں سیاحت کھولنے کو تیار ہیں، اس سلسلے میں ایس او پیز پر بات کی جا سکتی ہے۔

رپورٹ پیش

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی ائیر لائنزپی آئی اے کے طیارے کے حادثے سے متعلق حکومت کی رپورٹ مسترد کر تے ہوئے آزادانہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کر دیا۔بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ عمران خان تو کہتے تھے کہ ریل کے حادثے پر ریل کے وزیر استعفیٰ دیں جبکہ جہاز حادثے پر وزیر ہوا بازی کو ہٹا دینا چاہیے، اب وہ طیارہ حادثے کا الزام پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر پر لگا رہے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حادثے کا شکار ہونیوالے کو مورد الزام ٹھہرا کر قربانی کا بکرا بنانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ پی آئی اے طیارہ حادثے کی آزادنہ تحقیقات چاہتے ہیں۔

بلاول بھٹو

مزید :

صفحہ اول -