امریکی، صدر عالمی ادارہ صحت، حکومت پاکستان، وزارت صحت، این ڈی ایم اے کو نوٹس

  امریکی، صدر عالمی ادارہ صحت، حکومت پاکستان، وزارت صحت، این ڈی ایم اے کو ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وفاقی دارالحکومت اسلام کی سول عدالت کے جج سید حیدرعلی شاہ نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا پھیلنے، لوگوں کی زندگی اور روزگار کا نقصان پہنچنے کے کورونا کے مریضوں کی فی کس 4 کروڑ 90 لاکھ مالیت ہرجانے اور زرتلافی کی ادائیگی کیلئے دائر پٹیشنز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، حکومت پاکستا ن بذریعہ سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز اور این ڈی ایم اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 8 جولائی کو جواب طلب کرلیا۔ یہ پٹیشنز کورونا کے مریض نوراکبر اور کورونا سے جاں بحق عمر خطا ب کی طرف سے عارف خان گگیانی، وجاہت علی، زمرک خان ایڈووکیٹس نے دائر کی ہیں۔ کورونا سے صحت یاب مریض نوراکبر نے ذاتی جبکہ شاہ سرور نے کورونا سے وفات پا جانے والے اپنے والد عمر خطاب کی طرف سے 4 کروڑ 90 لاکھ مالیت ہرجانے کی الگ الگ پٹیشنز دائر کیں۔ پٹیشنز میں موقف اختیار کیاگیا کہ ہم غریب مزدور ہیں، وسائل نہیں، فریقین کی کوتاہی، غفلت اور مجرمانہ لاپرواہی سے ہماری زندگی اور صحت کانقصان ہوا ہے۔ فریقین نے کورونا وبا روکنے کیلئے نہ صرف کوتاہی برتی بلکہ لوگوں کو اس موذی وائرس سے بچانے کیلئے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ ہسپتالوں میں ہمیں علاج، خوراک اور مناسب دیکھ بھال فراہم نہیں کی گئی۔ کورونا وائرس کا ٹیسٹ بھی ذاتی جیب سے کرایا، لیبارٹریاں، ہسپتال اور ڈاکٹرز غریب عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ کورونا پھیلنے سے ہم مزدوری سے محروم ہوگئے، ہم اپنے گھرانوں کے واحد کفیل ہیں، کورونا کی وجہ سے ہمیں کوئی روزگاردینے کو بھی تیار نہیں۔ کئی ماہ سے بیروزگار ہیں، کوئی حکومتی مدد ملی، نہ ہی کوئی مزدوری اور روٹی روزی کا بندوبست ہے۔ ان کی زندگی محال ہوچکی ہے، ذہنی اذیت کا شکار ہیں، گھر بار اور بچوں کیلئے رزق روزی سے محتاج ہوکر رہ گئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت دنیا میں صحت و انسانی زندگی کے حوالے سے مرکزی ادارہ ہے، اس نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی،جبکہ عالمی ادارے کے طورپر ’ڈبلیو ایچ او‘ کی ذمہ داری تھی کہ اس وباء سے انسانوں کو بچانے کیلئے فوری اقدامات کرتا۔ پٹیشنرز کا موقف ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وبا کے پھیلاو اور اس کے نتیجے میں جانی ومالی نقصانات کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہے۔ امریکی صدر نے پوری دنیا میں ایک ترقی یافتہ ملک کے طورپر اپنی ذمہ داری نبھا نے میں مجرمانہ کوتاہی برتی ہے۔ امریکی صدر نے دنیا کو کورونا سے بچانے کے بجائے عالمی ادارہ صحت پر تنقید شروع کردی۔ استدعا ہے عدالت ہمیں انصاف دلائے، فریقین سے زرتلافی، ہرجانے کی رقم دلائی جائے۔ ہمیں حالات کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے، دونوں درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ فریقین مقدمہ سے انہیں فی کس چار کروڑ90 لاکھ زرتلافی وہرجانہ کی رقم دلائی جائے۔بعدازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عارف خان گگیانی، وجاہت علی، زمرک خان ایڈووکیٹس نے کہاکہ عدلیہ کے سوا متاثرین کے پاس دادرسی کا کوئی فورم نہیں کیونکہ یہ عوام کی زندگی موت اور روزگار کا مسئلہ ہے۔سول جج کے جاری کردہ حکم نامے میں دعویٰ دائر کرنیوالوں کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ سماعت تک عدالتی فیس جمع کرادیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی جانب سے ہرجانے اور زرتلافی کی ادائیگی سے متعلق یہ پہلا اور منفرد مقدمہ ہے جس میں امر یکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ اور عالمی ادارہ صحت کو پاکستان میں ان کے نمائندے کے ذریعے فریق بنایاگیا ہے۔

امریکی صدر نوٹس

مزید :

صفحہ اول -