نئی تجارتی پالیسی میں تاخیر‘برآمدات کا ہدف پورا نہیں ہوگا،شہباز اسلم

نئی تجارتی پالیسی میں تاخیر‘برآمدات کا ہدف پورا نہیں ہوگا،شہباز اسلم

  

لاہور (لیڈی رپورٹر) تاجر رہنما و ممبر لاہور چیمبرز آف کامرس وانڈسٹری سابق وائس چیئرمین فرایا شہباز اسلم نے نئی تجارتی پالیسی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی تجارتی پالیسی میں تاخیر صنعتی شعبہ میں رکاوٹ ہے اور نئی تجارتی پالیسی نہ ہونے سے حکومتی برآمداتی ہدف پورا نہیں ہوسکے گا انہوں نے کہا کہ سابق دور حکومت کی تجارتی پالیسی بری طرح ناکام ہوئی اور ملک بدترین تجارتی خسارہ کا شکار ہوا۔

اور سابق دور میں غیرملکی قرضوں کا بوجھ 50فیصد تک بڑھ گیا جس سے معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔2012-13میں تجارتی خسارہ15ارب ڈالر تھا جو 2018میں بڑھ کر27ارب ڈالر ہوگیا۔2013میں ملکی برآمدات25ارب ڈالر ز تھیں جبکہ 2018میں ملکی برآمدات کم ہوکر20ارب ڈالر رہ گئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فاؤنڈ ر چیئرمین عدنان بٹ،ارشد بیگ،تنویر احمد،حقیق احمد،شاہد بیگ اور دیگر صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ شہباز اسلم نے کہا کہ پاکستان میں برآمدات بڑھانے کا بہت پوٹینشل موجود ہے لیکن بجلی، گیس، خام مال کی خطہ میں دیگر ممالک سے زیادہ قیمتیں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں 2021-25 تک برآمدات کا ہدف46ارب ڈالرتک بڑھانے اور اسے پورا کرنے کیلئے صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں کمی لائے جائے۔انہوں نے کہا کہ ملکی برآمدات میں مسلسل کمی اورنئی ٹریڈ پالیسی لانے میں تاخیر سے صنعتی شعبہ میں پریشانی پائی جاتی ہے۔تجارتی پالیسی میں کامیابی کیلئے خصوصی پیکیج اور ٹیکسوں میں کمی کا اعلان ناگزیر ہے۔

مزید :

کامرس -