ٹرانسفاسٹ کی ترسیلات کیلئے حبیب بینک کے ساتھ شراکت داری

  ٹرانسفاسٹ کی ترسیلات کیلئے حبیب بینک کے ساتھ شراکت داری

  

کراچی (پ ر): دنیا کے140 سے زائد ممالک میں اپنی موجودگی رکھنے والے معروف کراس بارڈر پیمنٹ سروس پرووائیڈرٹرانسفاسٹ نے پاکستان میں 1700 سے زائد شاخیں رکھنے والے سب سے بڑے کمرشل بینک حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) کے ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وطن رقوم کی ترسیل کیلئے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔اس معاہدے کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ٹرانسفاسٹ اور حبیب بینک کے درمیان رقوم ارسال کرنے کی سہولت حاصل ہوگی۔اس شراکت داری کے ذریعے پاکستان میں ٹرانسفاسٹ کے نیٹ ورک کو مزید تقویت ملے گی اور صارفین پاکستان بھر میں حبیب بینک کی 1700 سے زائد شاخوں سے بیرون ملک سے ارسال کی گئیں رقوم حاصل کرسکیں گے۔اس موقع پر سینئر وائس پریذیڈنٹ و ایم ڈی ٹرانسفاسٹ Samir Vidhate,کا کہنا تھا کہ حبیب بینک کا شمار پاکستان کے سب سے زیادہ معتبر مالیاتی ادارے کے طور پر ہوتا ہے اور ان کے ساتھ شراکت داری ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے۔ٹرانسفاسٹ اپنے صارفین کو بہترین چارجز اورفنڈز کی تیز ترین منتقلی کیلئے مکمل طور پر پرعزم ہے۔اس شراکت داری کے ذریعے ہم پاکستان بھر میں موجود اپنے صارفین کو حبیب بینک کی کسی بھی شاخ سے رقوم کی وصولی کی سہولت فراہم کرینگے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی کسی بھی حبیب بینک اکاوئنٹ میں رقوم ارسال کرسکیں گے۔حبیب بینک کے ہیڈ آف انٹر نیشنل بینکنگ فیصل نور لالانی کا کہنا تھا کہ وہ Samir Vidhate,کی پاکستان آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں،میں اس موقع پر دونوں اداروں کی ٹیموں کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہوں اور اس شراکت داری کو مفید بنانے میں اپنا ہر ممکن کردار ادا کروں گا۔

یہ حبیب بینک کیلئے فخر یہ لمحہ ہے اور یہ معاہدہ بیرون ملک سے حبیب بینک کو رقوم کی ترسیلات کے خواہاں افراد کیلئے یقینی طور پر مفید ثابت ہوگا۔ دونوں ادارے اپنی شراکت داری کے ذریعے صارفین کے بہتر کل کے لئے اعلیٰ بینکاری خدمات کی فراہمی کا عزم کرتے ہیں ”پاکستان کی مجموعی قومی آمدن میں ترسیلات کا حصہ 6 فیصد بنتا ہے اور حکومت نے ملک میں کیش فلو کی آمد کیلئے متعدد مراعات کا اعلان کیا ہوا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایک ابتدائی تخمینے کے مطابق سال 2019 کے دوران ملک کو مجموعی طور پر 21.84 ارب ڈالرز کی ترسیلات موصول ہوئیں تھیں،ان ترسیلات میں مزید اضافے کے امکانات ہیں اور تجزیہ نگاروں کی پیش گوئی ہے کہ بیرون ملک مقیم 80 لاکھ سے زائد پاکستانی وطن رقوم ارسال کرتے رہیں گے اور ترسیلات کا حجم 23 ارب ڈالرز کی سطح کو چھو سکتا ہے۔

مزید :

کامرس -