بی آئی ایس کا نام تبدیل کرنے کیخلاف دائر پیپلز پارٹی کی درخواست سماعت کیلئے منظور

بی آئی ایس کا نام تبدیل کرنے کیخلاف دائر پیپلز پارٹی کی درخواست سماعت کیلئے ...

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرکے احساس پروگرام رکھنے کے خلاف دائرپیپلز پارٹی کے راہنما قمرالزمان کائرہ کی درخواست باقاعدہ سماعت کے لئے منظورکرتے ہوئے وفاقی حکومت اوردیگر مدعاعلیہان کو 22 جولائی کے لئے نوٹس جاری کردیئے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ سے منظور کئے گئے نام کو بادی النظر میں تبدیل نہیں کیاجاسکتا۔ معاشروں کا اصول یہی ہوتا ہے کہ محروم طبقات کے بلند معیار کے لئے کام کیا جائے، دوران سماعت پے درپے عدالتی سوالات پر سیکرٹری بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے قانونی معاونت سے معذوری ظاہر کر دی جبکہ وفاقی حکومت کے وکیل عدالتی استفسار پر خاموش رہے، فاضل جج قرار دیا کہ وفاق کے وکلاء موجودہیں تو کیوں نہ پھر حکومت کے اقدام کے خلاف حکم امتناعی بھی جاری کردیاجائے تاہم عدالت نہیں چاہتی کہ حکم امتناعی سے غریبوں کی امداد میں کوئی رکاوٹ آجائے، چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے وفاقی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاق بڑا تیز ہے، عدالت نے ابھی تو بلایا ہی نہیں تھا کہ وفاق کی پوری ٹیم بھی آ گئی ہے، میں اس درخواست کو سماعت کے لئے منظور کر لیتا ہوں، ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے ٹیم متفرق درخواست میں نوٹس جاری ہونے پر پیش ہوئی ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آیا رولز اینڈ ریگولیشنزکو قانون کی جگہ استعمال کیاجاسکتاہے؟بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بنیادی نام تبدیل کر کے پروگرام چلائے جا سکتے ہیں؟ کیا ایسا کرنا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بنیادی روح کی خلاف ورزی تو نہیں ہو گی؟درخواست گزار کی طرف سے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی ایڈووکیٹ پیش ہوئے اورموقف اختیار کیا کہ حکومت کا احساس پروگرام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ایکٹ کے تحت ہی کام کررہا ہے،نام تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ قمرزمان کائرہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پہلے چیئرمین کی حیثیت سے عدالت کی درست معاونت کر سکتے ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ کس نے پارلیمنٹ میں بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے نام کی مخالفت کی تھی،عدالت نے کیس کی سماعت 22 جولائی تل ملتوی کر دی۔

سماعت منظور

مزید :

صفحہ آخر -