مسابقتی کمیشن کی تشکیل کیخلاف 11سال سے زیر التوا درخواستوں کی سماعت

  مسابقتی کمیشن کی تشکیل کیخلاف 11سال سے زیر التوا درخواستوں کی سماعت

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے مسابقتی کمیشن کی تشکیل کے خلاف 11سال سے زیر التوا درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو آج 24جولائی کودلائل دینے کے لئے طلب کرلیا،گزشتہ روز عدالت میں سیمنٹ ودیگر کمپنیوں کے وکیل علی سبطین فضلی نے اپنے دلائل مکمل کرلئے۔مس جسٹس عائشہ اے ملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے درخواستوں پر سماعت کی،درخواست گزار وں کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیا رکیا کہ کمیشن کی 2009 ء میں مافیاز کے خلاف کی جانے والی پہلی کارروائی ابھی تک متنازع ہے،لاہور ہائیکورٹ میں کمیشن کی تشکیل کے خلاف درخواستوں پر گیارہ سال بعد بھی فیصلہ نہیں ہو سکا،10سال میں کیس کی سماعت کرنے والے 5 سنگل اور چار فل بنچ تبدیل ہوچکے ہیں،27 مئی 2009 ء کو جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایل پی جی ایسوسی ایشن کی درخواست پر حکم امتناعی جاری کیا،سپریم کورٹ نے 25 جون 2009 ء کو مسابقتی کمیشن کی درخواست پر ہائیکورٹ کو جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت کی،ایل پی جی، شوگر ملز، سیمنٹ ملز ودیگر ایسوسی ایشنز کی درخواستوں پر 170 سے زائد مرتبہ سماعت ہوچکی ہے،مسابقتی کمشن کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ مسابقتی کمیشن کے غیر فعال ہونے کے باعث گیارہ سال میں اشیاء صرف کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا، حکومت بھی متعدد بار بے قابو مہنگائی کا رونا رو چکی ہے،حکم امتناعی کی آڑ میں کاروباری مافیا سیمنٹ، شوگر،پٹرولیم مصنوعات، موبائل فون سروسز،کھاد،مرغی وغیرہ کی قیمتوں میں من مانے اضافے کر رہاہے،کاروباری مافیا کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنے کیلئے قائم کیا گیا کمیشن عملی طور پر غیرفعال ہے،سابق صدر پرویز مشرف نے مارکیٹ میں مقابلے کی فضا قائم کرنے کیلئے مسابقتی کمیشن بنایا، مسابقتی کمیشن کے نوٹس پر حکم امتناعی کے بعد اشیائے صرف کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کیا گیا۔

مسابقتی کمیشن

مزید :

صفحہ آخر -