توانائی ضروریات پورا کرنے کیلئے پنجاب حکومت کا متبادل نظام لانے پر غور

  توانائی ضروریات پورا کرنے کیلئے پنجاب حکومت کا متبادل نظام لانے پر غور

  

لاہور(خبر نگار) بجلی کی موجودہ ڈیمانڈ کے مطابق اگلے چند سالوں میں مزید 7سے 10ہزار میگا واٹ ضرورت ہو گی۔بجلی کا موجودہ ترسیلی نظام ناکارہ قرار دیئے جانے پر پنجاب حکومت نے متبادل نظام لانے پر بھی غور شروع کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے اپنے گرڈ اسٹیشن کے منصوبے کے حوالے سے وزیر توانائی پنجاب ڈاکٹر اختر ملک کی زیر صدا ر ت جائزہ اجلاس ہوا، جس میں بارش آندھی و طو فان سمیت بجلی کی کھپت، سپلائی کی معطلی اور موجودہ ترسیلی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا جس پر پنجاب حکومت نے متبادل نظام لانے پر غور شروع کردیا۔ترجمان انرجی کے مطابق اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری انرجی ارم بخاری،ایم ڈی پیکا عدنان مدثر اور ایم ڈی پنجاب پاور ڈویلپمنٹ بورڈ سلمان ایزد موجود تھے۔ ترجمان کا کہنا تھا پنجاب کے اپنے گرڈ اسٹیشن اور بجلی کی بلا تعطل ترسیل کے منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔صوبائی وزیر اختر ملک کا کہنا تھا بجلی کی ترسیل کا موجودہ سسٹم ناکارہ ہونے کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مستقبل میں بجلی کی ضرورت کوپورا کرنے کے حوالے سے اور ترسیل کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔جس میں اگلے دس سالوں میں پنجاب کو مزید 7تا10ہزار میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہوگی۔ سولر، ہائیڈل، بائیو گیس سمیت تمام مقامی ذرائع توانائی کے منصوبوں سے مستقبل کی توانائی کی ضروریات پوری کر یں گے۔خراب لوڈ مینجمنٹ کی وجہ سے جن علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کی شکایات ہیں ان کا فوری ازالہ کیا جائیگا۔وزیر توا نائی پنجاب کے مطابق ہماری تمام تر توجہ عوام کیلئے سستی بجلی کے منصوبے لگانے پر ہے۔ماضی میں (ن) لیگی حکومت نے مہنگی بجلی کا بوجھ عوا م پر ڈالا۔موجودہ سال ڈیلیوری کا سال ہے۔یاد رہے سابق دور حکومت میں ساہیوال،بھکھی شیخو پو ر ہ،کوٹ بہادر جھنگ سمیت دیگر شہرو ں میں گرڈ سٹیشن بنائے گئے،جس سے لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہوچکا تھا۔اب دوبارہ سے بجلی کی کمی شروع ہوگئی ہے، لاہور سمیت متعدد شہروں، دیہات میں بجلی بند رہنا معمول بن چکا ہے،جس کی بنیادی وجہ سابق دور میں لگائے گئے بجلی کے منصوبوں کو کسی حد تک بند کرنا ہے جس سے بجلی کی ڈیمانڈ اور سپلائی میں تعطل پیدا ہو گیا ہے۔

پنجاب حکومت غور

مزید :

صفحہ آخر -