جو وزراء 22ماہ میں کچھ نہیں کر سکے، وہ 5مہینے میں کیا کریں گے؟ سراج الحق

جو وزراء 22ماہ میں کچھ نہیں کر سکے، وہ 5مہینے میں کیا کریں گے؟ سراج الحق

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا کابینہ کو پانچ ماہ کا الٹی میٹم دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ جو وزرا بائیس ماہ میں کچھ نہیں کر سکے، وہ پانچ ماہ میں کیا کریں گے؟تفصیل کے مطابق سراج الحق دورہ کراچی کے دوران جامعہ بنوریہ پہنچے جہاں انہوں نے مفتی نعیم کے انتقال پر ان کے اہلخانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مفتی نعیم مرحوم نے عالم اسلام کیلئے قابل قدر خدمات پیش کیں جبکہ امت کو جوڑنے اور نفرتوں کو مٹانے کیلئے آواز اٹھائی۔دریں اثناء میڈٰیا سے گفتگو میں انہوں نے کراچی کی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ 75 فیصد ملک کے وسائل یہ شہر دیتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کے باسیوں کو شدید لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ یہاں صاف پانی نہیں جبکہ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوا۔ ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے بیڈز تک دستیاب نہیں ہیں۔فواد چودھری کے انٹرویو پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنے وزرا کو وارننگ دی کہ پانچ مہینے باقی ہیں۔ جو بائیس مہینے میں کچھ نہ کر سکے تو پانچ مہینوں میں کیا کریں گے۔ انہوں نے ملک کی ترقی صفر کر دی، حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت بھی گزشتہ حکومتوں کا تسلسل ہے۔ وفاقی وزیر کا یہ اعتراف کہ ہم آپس میں لڑ رہے ہیں یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ یہ سب ناکام ہو گئے ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ اس ملک میں خوشحالی اسلامی نظام کی بدولت آئے گی۔ اسی نظام میں تعلیم، صحت، معیشت اور سب چیزیں اچھی ہونگی۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -