نجی اسکولوں کی من مانیاں، آن لائن کلاسز والدین کیلئے درد سربن گئیں

  نجی اسکولوں کی من مانیاں، آن لائن کلاسز والدین کیلئے درد سربن گئیں

  

کراچی(این این آئی)کورونا وبا کے دوران نجی اسکولوں کی من مانیاں جاری ہیں، آن لائن کلاسز والدین کیلئے مشکلات کا سبب بن گئیں، نجی اسکولوں کی جانب 3ماہ کی فیس جمع کرانے کیلئے والدین کو پیغامات بھیجے جارہے ہیں۔اس کے علاوہ وین ڈرائیورز کی جانب سے بھی طلبا و طالبات کے والدین سے فیس ادا کرنے پر اصرار کیا جا رہا ہے، دوسری جانب بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ سے آئن لائن کلاسز کا انعقاد بھی چیلنج بن گیا، آن لائن کلاسز کیلئے کمپیوٹر سمیت دیگر آلات کی خریداری کا اضافی بوجھ بھی والدین پر آن پڑا ہے۔نجی اسکولوں کی غیر یقینی صورت حال پر والدین اور بچے تذبذب کا شکار ہیں، اس کے علاوہ محکمہ تعلیم کی جانب سے فیسوں میں 20 فیصد کمی کے احکامات پر عملدرآمد کیلئے بیشتر اسکول مالکان تیار نہیں ہیں۔والدین کے مطابق چند اسکولوں نے تو ابتدائی دو ماہ فیس میں رعایت دی، والدین کی ایک بڑی تعداد نے فیس جمع نہیں کرائی، ذرائع نے بتایاکہ اسکول عملے کو تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے کہاکہ حکومت نے نجی اسکولوں کو ریلیف فراہم نہیں کیا اس کے باوجود ہماری جانب سے والدین کے ساتھ ہرممکن طریقے سے تعاون کیا گیا۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے کورونا ریلیف آرڈیننس بھی والدین کے کام نہیں آسکا، سندھ کے نجی اسکولوں میں زیر تعلیم40 لاکھ سے زائد طلبا کو فیسوں میں رعایت ملی اور نہ ہی اساتذہ کو تنخواہ ادا کی جاسکی ہے۔ہزاروں اساتذہ تنخواہوں سے محروم ہیں، محکمہ تعلیم سندھ کے ذرائع کے مطابق سندھ بھر کے 12 ہزار 8 سو 40 نجی اسکولوں میں سے اب تک صرف 20فیصد اسکولوں نے والدین کو فیسوں میں رعایت دی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -