گرمی کی بڑھتی شدت میں بجلی بھی غائب، شہری سراپا احتجاج

    گرمی کی بڑھتی شدت میں بجلی بھی غائب، شہری سراپا احتجاج

  

خانیوال، گگو منڈی(بیورونیوز، نامہ نگار) گرمی کی شدت میں اضافہ کے ساتھ ہی میپکو کا کرسیلی نظام جواب دیتا ہے جس پر پردہ ڈالنے کے لئے طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ فروغ کر دی جاتی ہے لوڈشیڈنگ اور بجلی کی آنکھ مچولی سے صارفین کے اے ای‘ فریج‘ موٹریں (بقیہ نمبر21صفحہ6پر)

‘ پنکھے چلنا معمول بن گیا ہے۔ جبکہ بجلی بندش کی شکایات درج کروانے کے لئے دیئے گئے نمبرز بند ہیں یا کال اٹینڈ نہیں کی جاتی۔ متعلقہ ایس ڈی اوز بھی فون بند کر کے جان چھڑا لیتے ہیں۔ خانیوال سمیت صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں میں گرمی کی شدت بڑھتے ہی بجلی کی غیر اعلانیہ طویل فورس لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے، گرمی میں شدت آنے پر طویل لوڈ شیڈنگ سے شہری بے حال ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ٹیوب ویل کی طرف رخ کر لیتے ہیں سخت گرمی نے شہریوں کو گھروں سے باہر نکلنے سے محروم کردیا گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی خانیوال اور گردونواح میں گیسٹرو کے مریضوں میں اضافہ ہونے لگا ہے گرمی کی شدت کے پیش نظر مختلف سرکاری او رپرائیویٹ ہسپتالوں میں گیسٹرو سے متاثرہ لوگوں کی بڑی تعداد علاج معالجے کیلئے آرہی ہے۔جبکہتین روز سے درجہ حرارت 42.46سینٹی گریڈ تک ہونا معمول بن گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی میپکو نے غیر اعلانیہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ شروع کر دی ہے اور دن رات میں وقفہ وقفہ سے کئی مرتبہ بجلی بند کی جاتی ہے شدید گرمی اور حبس کی وجہ سے شہروں کی چیخیں نکل گئی ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے لوڈشیڈنگ کے معاملہ میں پی پی پی حکومت کی یاد تازہ کر دی ہے شہریوں کا کہنا کہ بجلی کی کمی پوری کرنے کے حکومتی دعوے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کی فوری طور پر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کی جائے۔

لوڈشیڈنگ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -