چیئرمین سینٹ کیخلاف قرار داد عدم اعتماد بارے پر جواب طلب

چیئرمین سینٹ کیخلاف قرار داد عدم اعتماد بارے پر جواب طلب

  

پشاور(نیوز رپورٹر) پشاورہائیکورٹ نے چیئرمین سینٹ کے خلاف قرارداد عدم اعتماد پر ووٹنگ کے بارے میں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی سے جواب طلب کرلیا جسٹس اکرام اللہ خان کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے شاہد اورکزئی ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر رٹ پر سماعت کی دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال اگست میں وزیراعظم عمران خان کی مبینہ ایماء پر سینیٹر محمد علی سیف نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدم اعتماد کی قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ آئین کا آرٹیکل 55اجلاس کی صدارت کرنے والے رکن کو رائے دہی کی اجازت نہیں دیتا درخواست گزارنے عدالت کو بتایا کہ 14اگست 1973سے لیکر آج تک آرٹیکل 55میں کوئی ترمیم یا ردوبدل نہیں ہوا اور آئین میں دیئے گئے طریقہ کار کے برعکس محمد علی سیف نے صادق سنجرانی اور سلم مانڈوی والا کے خلاف عدم اعتماد کی قراردادوں پر رائے شماری میں حصہ لیارٹ کیساتھ اخبار میں شائع شدہ تصویر بھی عدالت کو پیش کی گئی جس میں صادق سنجرانی اور محمد علی سیف وزیراعظم سے ملاقات کررہے تھے تصویر قرارداد عدم اعتماد کی ناکامی کے دوسرے ہی روز لی گئی تھی اور جس سے محمد علی سیف کی جانبداری کیلئے اور کوئی ثبوت درکار نہیں انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سیکرٹری سینٹ سے ووٹنگ کی نشرشدہ کارروائی طلب کی جائے تاکہ محمد علی سیف کے دیئے ہوئے دونوں ووٹوں کی تصدیق ہوجائے اس موقع پر جسٹس اکرام اللہ خان نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ ایوان بالا کی کارروائی کی نقل طلب کرسکتی ہے جس پر درخواست گذار نے مثبت میں جواب دیا البتہ عدالت نے کہا کہ وہ پہلے اس قانونی و آئینی سوال کو طے کرے گی عدالت نے چیئرمین سینٹ سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی درخواست گزار کے مطابق قرارداد عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دوران سینٹ کے 14ارکان نے اپنی اپنی سیاسی جماعت کے نظم وضبط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صادق سنجرانی کے حق میں ووٹ دیا لیکن کسی بھی سیاسی جماعت نے آرٹیکل 63اے کے تحت اپنے ارکان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -