شاہ محمود، اسد عمر، فیصل واوڈا کی عمران خان سے ملاقاتیں، وزیراعظم نے اختلافات ختم کرا دیئے، اسد عمر اور فوادچودھری کی ملاقات، گلے شکوے دور

شاہ محمود، اسد عمر، فیصل واوڈا کی عمران خان سے ملاقاتیں، وزیراعظم نے ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ اجلاس کے دوران وفاقی وزرا کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو ختم کرا دیئے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی اس سلسلے میں وفاقی وزرا سے الگ الگ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ وزیراعظم سے ملاقات کرنے والوں میں فیصل واوڈا، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر شامل ہیں۔ملاقات میں وفاقی کابینہ اجلاس کے دوران بدنظمی اور گرما گرمی پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اسدعمر اور شاہ محمود قریشی نے اپنے اپنے موقف سے وزیراعظم کو آگاہ کیا اور وضاحت پیش کی۔دوسری جانب اسد عمر اور فواد چودھری کے درمیان بھی اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں گزشتہ کابینہ اجلاس میں ہونے والی بحث پر گفتگو کی گئی دونوں کے گلے شکوے دور ہو گئے۔ذرائع کے مطابق معاون خصوصی عثمان ڈار بھی ملاقات میں شریک تھے۔ فواد چودھری نے اس ملاقات میں اسد عمر کو اپنے انٹرویو سے متعلق وضاحت پیش کی۔دونوں وزرا نے اپنے درمیان گلے شکوے ختم کرنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں وزیراعظم کامیاب جوان پروگرام اور وزیراعظم کورونا ریلیف ٹائیگرز فورس کی کارگردگی پر بھی بات چیت کی گئی۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم کی جانب سے تمام کابینہ اراکین کو ہدایت جاری کی گئی تھی کہ آئندہ کوئی متنازع بیان نہ دیا جائیدریں اثناوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پارٹی ڈسپلن پر عمل کرنا تمام اراکین کی ذمہ داری ہے اور اس کی خلاف ورزی قابل مذمت ہے۔ وزیراعظم کے زیر صدارت پارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا۔ اس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پارٹی ڈسپلن پر عمل کرنا تمام اراکین کی ذمہ داری ہے اور اس کی خلاف ورزی قابل مذمت ہے۔وزیراعظم نے کراچی طیارہ حادثے کی رپورٹ پبلک کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار ہوائی حادثات کی رپورٹس پبلک کی جا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چینی اور گندم بحران کی رپورٹ بھی موجودہ حکومت نے پبلک کی۔ پارٹی رہنماؤں نے وزیراعظم کے فیصلوں اور قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مکمل تعاون کا یقین دلایاوزیر اعظم عمران خان سے انضمام شدہ اضلاع (سابقہ قبائلی علاقہ جات) سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی کی وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کی سربراہی میں ملاقات کی جس میں ممبران میں گل داد خان، گل ظفر خان، ساجد خان اور محمد اقبال خان شامل تھے۔ملاقات میں انضمام شدہ اضلاع میں عوامی فلاحی وترقیاتی امور، کورونا وبا کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات اور سماجی و اقتصادی ترقی کے حوالے سے روڈمیپ پر پیشرفت کے امور پر گفتگو کی گئی۔وزیراعظم نے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انضمام شدہ اضلاع کے لئے ترقیاتی فنڈز کی بلا تعطل فراہمی کے حوالے سے وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔وفد نے انضمام شدہ علاقوں کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی ذاتی دلچسپی اور کاوشوں پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔وزیر اعظم عمران خان سے معاون خصوصی عثمان ڈار نے ملاقات کی ہے اور ٹائیگر فورس کی بہتر کارکردگی کیلئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلے سے آگاہ کیا اور تفصیلی بریفنگ دی،وزیر اعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے وزیر اعظم کو بتایا کہ جیو ٹیگنگ پر مشتمل موبائل ایپلیکیشن تیار کروا لی گئی ہے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹائیگر فورس کی ذمہ داریوں کو با آسانی مانیٹر کیا جائیگا،اسسٹنٹ کمشنرز، ایس ایچ او اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بھی ایپ سے منسلک ہوں گے،ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی اور موقع پر کاروائی ممکن ہو گی،پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی تیار کردہ ایپ کا ٹیسٹ رن مکمل کرلیا گیا ہے،ٹائیگر فورس خود ساختہ مہنگائی کی بھی نشاندہی کر سکے گی،ماسک نہ پہننے والے خریدار یا دکاندار کے خلاف بھی فوری کاروائی ممکن ہو گی،ہر ٹائیگر فورس کی پرفارمنس اور رضاکارانہ سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جائیگا،وزیراعظم نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹائیگر فورس کی ذمہ داریوں کے طریقہ کار پر اطمینان کا اظہارکیا ہے اور ٹائیگر فورس کی ایپلیکشن لانچ کرنے کی منظوری دے دی اور جیو ٹیگنگ پر مشتمل موبائل ایپلیکیشن ملک بھر میں لانچ کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قدرت نے پاکستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے، بدقسمتی سے ماضی میں وسائل کو برؤے کار لانے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، جواہر کے شعبے کے فروغ سے نوجوانوں کے لئے بے شمار نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے، ملک کی برآمدات میں اضافے میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی،جواہر کے شعبے میں درپیش مسائل اور اس سیکٹر کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔بدھ کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں موجود مختلف جواہر کے قدرتی ذخائر کو بروئے کار لانے کے حوالے اجلاس ہوا جس میں وزیر برائے امور کشمیر علی امین گنڈاپور، معاون خصوصی برائے معدنیاتی وسائل شہزاد سید قاسم، فرانسیسی ماہر برنابے پلو رائٹ، سی ای او روپانی فاؤنڈیشن وسیم صمد اور معدنیات و جواہر کے شعبے سے وابستہ دیگر ماہرین نے شریک کی۔اجلاس میں ملک میں موجود قیمتی جواہر (زمرد، لعل، یاقوت، نیلم) کے مصدقہ ذخائر، شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، جواہر کے حوالے سے غیر ملکی سرمایہ کاری، برآمدات اور اس ضمن میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مابین کوارڈینیشن و دیگر متعلقہ امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔جواہر کے شعبے میں ملکی استعداد سے مکمل طور پر مستفید ہونے اور اس حوالے سے ملکی برآمدات میں اضافے کے ضمن میں حائل رکاوٹوں اور متعلقہ ایشوز پر بھی تفصیلی طور پر غور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں ان وسائل کو برؤے کار لانے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ جواہر کے شعبے کے فروغ سے نہ صرف اس سیکٹر میں نوجوانوں کے لئے بے شمار نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ اس سے ملک کی برآمدات میں اضافے میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ جواہر کے شعبے میں درپیش مسائل اور اس سیکٹر کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ اس حوالے سے جامع اور مفصل روڈ میپ تشکیل دیا جا سکے۔

عمران ملاقاتیں

مزید :

صفحہ اول -