لاپتہ شخص کی بازیابی کیلئے پولیس سے جواب طلب

لاپتہ شخص کی بازیابی کیلئے پولیس سے جواب طلب

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے ایک سال قبل صوابی سے لاپتہ شخص کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر پولیس حکام سے جواب طلب کرلیا چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ کسی علاقہ سے اگر کسی شخص کو اٹھا لیا جاتا ہے تو علاقہ کا ایس ایچ او ہی اس کا زمہ دار ہوتا ہے اگر پولیس نے اس شخص کو نہیں اٹھایا تو ابھی تک ایف ائی ار کیوں درج نہیں کی گئی ہے کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس عتیق شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی درخواست گزارہ نورین کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس کے موکلا کے شوہر گزشتہ سال سے لاپتہ ہیں اور اس کو پولیس نے اٹھایا ہے مگر ایک سال گذرنے کے باوجود ابھی تک خاتون کے شوہر کاکوئی اتہ پتہ نہیں عدالت میں مقامی ایس ایچ او اور ڈی پی او صوابی پیش ہوئے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے اس شخص کو نہیں اٹھایا اور وہ عدالت کو حلفیہ بیان دینے کو تیارہیں جس پر جسٹس عتیق شاہ نے کہا کہ بندہ کہاں ہے اور اگر پولیس نے نہیں اٹھایا تو اس کی ایف آئی ار ایک سال گزرنے کے باوجود کیوں درج نہیں کی جا رہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر پولیس نے نہیں اٹھایا تو یہ معلوم کرنا کس کی زمہ داری ہے کہ اس شخص کو کس نے اٹھایا ہے چلو مان لیتے ہیں کی پولیس نے نہیں اٹھایا تو پھر یہ بندہ کہاں گیا ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ارشد خان نے عدالت کو بتایا کہ اس شخص کی دشمنی بھی چلی ا رہی تھی ہم اس کی گمشدگی کے حوالے سے انکوائری کیلئے تیار ہیں عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد پولیس حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -